ن لیگی نے آرمی ایکٹ کی حمایت کے لیے دباؤ تسلیم کرلیا

ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے یو ٹرن لینے پر اپنے ووٹرز کے سخت ردعمل کے بعد ن لیگی قیادت نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی مرکزی قیادت پر پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت کے لیے شدید ریاستی دباؤ تھا چنانچہ ان کے پاس سر جھکانے کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ لیگی قیادت کا مذید کہنا تھا کہ اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، اوراسے جھٹلانا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ ن لیگی قیادت کو آرمی ترمیمی ایکٹ کے منظور ہونے کے بعد اپنے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے سے پیچھے ہٹ کر بوٹ والوں کی حمایت کرنے پر سخت عوامی ردعمل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب نون لیگی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی خرم دستگیر خان نے انکشاف کیا یے کہ مسلم لیگ پر آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے اگر کوئی دباؤ تھا تو وہ ہماری مرکزی قیادت پر تھا، ہم جیسے رکن پارلیمان پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت کا فیصلہ بھی بیرون ملک بیٹھی قیادت نے کیا جس کے بعد ہم سب نے سر جھکا دیا۔ تاہم ان کا دعوی تھا کہ نون لیگ کی قیادت اپنے بیانیے پر قائم ہے اور وقتی مصلحتیں اسے اس کے اصل راستے سے نہیں ہٹا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جانا کہ آرمی ایکٹ پر اراکین پارلیمان کی کوئی بحث نہیں ہوئی اور بغیر کسی چوں چراں کے اسے پاس کر لیا گیا، معاملے کی درست تصویر نہیں یے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی آرمی ایکٹ پر تفصیلی بحث ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے قانون سازوں کا کہنا تھا کہ پیش کردہ بل کا مسودہ اپوزیشن کو قانون سازی سے ایک ہفتے قبل دیا گیا تھا۔ تاہم ‘پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل ہی کچھ ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے مجوزہ بل کے لیے حزب اختلاف کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کردی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اس بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتا۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے آرمی ترمیمی ایکٹ میں چند اہم ترامیم کی تجویز پیش کی تھی اور اس حوالے سے ایک مجوزہ ترمیمی بل بھی بنایا تھا۔ لیکن آخری وقت میں مسلم لیگ نون نے پیپلزپارٹی کے اس مجوزہ بل کی حمایت کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے یہ بل واپس لے لیا۔
اب خرم دستگیر کے انکشاف کی روشنی میں سمجھ آتی ہے کہ نون لیگ کی قیادت نے پیپلزپارٹی کے ترمیمی بل کی حمایت سے کیوں انکار کیا ۔ ظاہر ہے کہ بیرون ملک بیٹھی پارٹی قیادت ریاستی دباؤ میں تھی۔ تاہم اپوزیشن کے حلقے یہ الزام لگاتے ہیں کہ نون لیگ کی قیادت پر کوئی دباؤ نہیں تھا اور دراصل پارٹی کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اگلے سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بدلے ترمیمی بل کی حمایت کی۔ اس حوالے سے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت رہے گی اور اسے جھٹلانا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب آرمی ایکٹ کی حمایت پر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کی جماعت اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی ہے اور ہم عوام کو بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی توسیع کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ہم اس اہم مسئلے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ انکی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کی جلد بازی کا حصہ بنی جو ایک غلطی تھی۔
