تھُوک کرپیزا دینےوالےڈیلیوری مین کےخلاف مقدمہ

ترکی میں استغاثہ نےعدالت سے پیزا ڈلیورکرنےوالےایک شخص کو18 برس تک قید کی سزا دینےکی استدعا کی ہےجو گاہکوں کوپیزا دینےسےقبل اس پرتُھوکتا تھا۔
ذرائع کےمطابق یہ واقعہ 24 دسمبر2017میں ترکی کےوسطی شہراسکیسیھرمیں پیش آیا اورگاہکوں کےرہائشی فلیٹس میں لگے سکیورٹی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا۔ کلوزسرکٹ کیمروں کی فوٹیج میں ڈلیوری مین جس کی نشان دہی بُراک ایس کےنام سے ہوئی ہے،جوگاہک کوپیزا دینےسےقبل اس پرتھُوکتا ہےاوراس عمل کواپنےموبائل فون پرریکارڈ کرتےہوئےدیکھا جا سکتا ہے۔ پیزا ڈلیوری کرنےوالےشخص نےایسا کیوں کیا،اس کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔
تاہم ویڈیوسامنے آنےکےبعد پولیس نےملزم کوگرفتارکرلیا تھا۔ عمارت کےمالک نےپیزامین کی ویڈیودیکھنےکےبعد وہاں کے تمام رہائشیوں کوخبردارکیا تھا اوراس کےبعد یہ فوجداری شکایت درج کرائی گئی۔ اس کےبعد ان پرمقدمہ چلایا گیا جس میں انہیں پہلےہی گاہکوں کی زندگی کوخطرےمیں ڈالنےکا الزام ثابت ہونےپرچارہزارترکی لیرا(600 یوروز)کا جرمانہ عائد کیاجاچکا ہے، اوراب استغاثہ کی کوشش ہےکہ اُسےکھانا زہریلا کرنےکےالزام میں لمبی سزا دلوائی جائے۔

ملزم کےوکیل نےجواب تیارکرنےکےلیےعدالت سےمزید وقت مانگا ہےجس کےبعد مقدمےکی سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔
واضح رہےکہ ترکی کےسخت عدالتی معیارات کوسامنےرکھتےہوئےملزم کےلیےتجویزکردہ سزا بہت سخت ہے،کیونکہ وہاں دہشت گرد تنظیم کی رکنیت رکھنےپر15 سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔
