ثانیہ عاشق کا کردار کشی سے تنگ آ کر FIA سے رابطہ
سوشل میڈیا پر کردار کشی، دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے تنگ آکر نون لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثانیہ عاشق نے وفاقی تحقیقاتی ادارے سے داد رسی کے لیے رابطہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما مریم نواز کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے افراد کی یکے بعد دیگرے نازیبا ویڈیوز مارکیٹ کی جا رہی ہیں جن کا واحد مقصد مریم نواز کو بیک فٹ پر لانا ہے۔ سب سے پہلے محمد زبیر کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن کے بعد حنا پرویز بٹ کی جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کی گئیں اور اب ثانیہ عاشق کی فیک ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں۔ تاہم لیگی ایم پی اے ثانیہ عاشق جبیں نے اپنے مرحوم والد کے ساتھ آخری لمحات کی ویڈیو کو منفی رنگ دے کر ہھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ سے رجوع کیا ہے۔ ثانیہ عاشق نے دھمکی آمیز فون کالز اور سوشل میڈیا پر ان سے منسوب جعلی وڈیوز اور تصاویر پوسٹ کیے جانے پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ نامعلوم خواتین کی ویڈیوز ان سے منسوب کر کے سوشل میڈیا پر چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد ان کی ساکھ کو تباہ کرنا ہے۔
ثانیہ عاشق نے 26 اکتوبر کو سائبر کرائم کو دی گئی درخواست کا عکس اپنی ٹویٹ میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں ہدف بنا کر ہراساں کیے جانے کا سلسلہ دھمکی آمیز فون کالز، ٹک ٹاک کے تھرڈ کلاس گانوں اور ناشائستہ فیس بک پوسٹوں سے شروع ہوا اور اب یہ معاملہ والد کے ساتھ میری تصاویر کے غلط استعمال تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’میں نے ان اکاؤنٹس کی شناخت اور متعلقہ اتھارٹیز کو اطلاع دینے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نواز شریف کی فالوور ہوں جنہوں نے عدالت کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔ میں اللّٰہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ آپ سب سے انصاف کرے۔ خیال رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے مریم نواز کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے افراد کو ٹارگٹ کرتے ہوئے ان کی سچی جھوٹی نازیبا ویڈیوز مارکیٹ کی جارہی ہیں۔ پہلے مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کی نازیبا ویڈیوز لیک کی گئیں۔ اس کے بعد مریم نواز کے ساتھ ساتھ نظر آنے والی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ سے منسوب ایک فحش ویڈیو کو میڈیا پر وائرل کیا گیا ہلکے ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کوئی اور ہے۔ اس مذموم مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی بننے والی ثانیہ عاشق کی اپنے والد کے ساتھ بنی خری لمحات کی تصاویر کو غلط رنگ دے کر وائرل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک فحش ویڈیو ثانیہ کے نام سے وائرل کی جارہی ہے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں جس پر انہوں نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا ہے۔ ثانیہ عاشق نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ مختلف جلسوں کی میری وڈیوز کو ٹک ٹاک پر گھٹیا گانوں اور فحش تبصروں کے ساتھ پوسٹ کیا جاتا رہا اور میرے نام سے سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔ میرے والد کی زندگی کے آخری ایام کی تصاویر جو میں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں، انہیں بھی ایڈیٹ کر کے ان کی فحش قسم کی تشریح کی گئی۔ ثانیہ نے اپنی درخواست میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر میرے بارے میں ہتک آمیز مواد سے میری بحیثیت ایک فرد اور عوامی نمائندہ ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سے مجھے، میرے خاندان اور دوستوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عطا تارڑ ایڈووکیٹ نے بھی اس معاملے پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہم۔لوگوں نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت ایف آئی اے میں درخواست جمع کروائی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ثانیہ عاشق کے خلاف جھوٹی نازیبا وڈیوز اور تصاویر پھیلانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ مرحوم والد کی بستر مرگ پر تصاویر تک کو غلط رخ دیا گیا۔ ثانیہ عاشق نے اپنی درخواست میں دوبرس پرانی ایک تصویر کا حوالہ دیا جس میں وہ اپنے والد کے ساتھ موجود ہیں۔
