جانیے لاہور کے چند گمنام تاریخی مقامات کے بارے میں

پاکستان ان ممالک میں ممتاز مقام رکھتا ہے جہاں سینکڑوں آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات موجود ہیں۔ پاکستان دنیا کا ایک ایسا منفرد ملک ہے جس کو قدرت نے ہر نعمت سے نوازا ہے جہاں پہاڑ بھی ہیں، صحرا بھی اور سمندر بھی اور کہیں برف بھی پہاڑوں کو اپنے اندر گھیرے ہوئے ہیں اور کچھ ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں دور دور تک پانی کے کوئی آثار بھی نہیں۔
یہاں کے تاریخی مقامات، شمالی علاقہ جات دل کو چھو لینے والے مقامات اور بہت کچھ اس سرزمین کو منفرد بناتے ہیں۔ قدرت نے اس سرزمین کو اپنی قدرت سے سب نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر شہر لاہور کی بات کی جائے توکہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ سوچ کر لوگ زندگی میں کم از کم ایک بار لاہور چلے ہی جاتے ہیں کہ لاہور دیکھے بغیر مرنا دنیا میں نہ آنے کے مترادف ہے۔ لاہور اپنے چٹ پٹے کھانوں اور تاریخی مقامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ جو بھی لاہور جاتا ہے وہ ان جگہوں کو ضرور دیکھتا ہے۔ لیکن لاہور میں کچھ گمنام مقامات ایسے بھی ہیں جو تاریخی لحاظ سے تو اہم ہیں مگر ان کے بارے میں خود لاہوری بھی کم ہی جانتے ہوں گے ۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں وہ جگہیں کون سی ہیں؟
Related imageراجا راما کے بیٹے راجا لاوا کے نام سے تعمیر کیا گیا مندر جو کہ لاوا مندر لاہور کے نام سے مشہور ہے اور یہ شاہی قلعہ لاہور میں واقع ہے ۔Image result for begum sharf un nisa
سرو والے مقبرے کی بات کریں تو یہ مقبرہ بیگم شرف النسا کا ہے جسے بعض مؤرخین نے مشہور تاریخی کردار انار کلی بتایا ہے۔ اس کی خاصیت یہاں موجود بڑے بڑے سرو کے درخت ہیں جو دور سے نظر آتے ہیں۔ یہ مزار بیگم پورہ کے علاقہ میں واقع ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق یہ مقبرہ نواب زکریا خان کی بہن کے لیے بنایا گیا جو محمد شاہ کے دور میں لاہور کے گورنر تھے۔ یہ مقبرہ 1745 میں تعمیر کیا گیا۔
خان جہاں ظفر جنگ کوکلتاش کا مقبرہ مغل بادشاہ اورنگزیب کے ایک جری سپاہی ظفر جنگ کوکلتاش کا ہے۔ یہ مزار کنال روڈ پر رائل پام کے نزدیک واقع ہے۔ دیگر کئی تاریخی مقامات کی طرح یہ مقبرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
Image result for tomb near royal palm
مغل دور حکومت میں تعمیر کیے جانے والے کئی باغوں میں سے گلابی باغ کے دروازہ کے بارے میں بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ اس دروازے کی خصوصیت اس کے خوبصورت نقش و نگار ہیں۔ اس کے اندر شاہجہاں کی دائی، دائی انگہ کا مقبرہ بھی واقع ہے۔ یہ دروازہ جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔
علی مردان خان شاہجہاں کی فوج کا ایک کرد جرنیل تھا۔ اس کا مقبرہ مغلپورہ روڈ پر آگے جا کر واقع ہے۔ لاہور کے گمنام تاریخی مقامات کی فہرست میں ایک مشہور مریم بیگم زمانی مسجد کام نام بھی آتا ہے ۔یہ مسجد مغل بادشاہ اکبر کی اہلیہ اور شاہجہاں کی والدہ مریم زمانی بیگم نے تعمیر کروائی تھی۔ تاریخ میں اس خاتون کا جودھا بائی کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد لاہور شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔
Related imageنونہال سنگھ کی حویلی کی بات کی جائے تو یہ حویلی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے نونہال سنگھ کی ہے۔ موری گیٹ پر واقع اس حویلی میں شیشے اور مصنوعی پھولوں سے خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ دیواروں پر شاندار آئینے اور مصوری کے شاہکار آویزاں ہیں جن میں سے بعض کی تنصیب میں سونے کا استعمال کیا گیا تھا۔

Image result for qutb ud din aibak tomb

قطب الدین ایبک کا مقبرہ لاہور میں انار کلی بازار کے پہلو میں ایبک روڈ پر واقع ہے ۔ یہ مقبرہ وقت اور حالات کے ہاتھوں برباد ہوتا رہا۔قیام پاکستان کے بعد صدر ایوب خان کے دور میں حفیظ جالندھری نے ان سے گزارش کی کہ اس مقبرہ کی مرمت اور تزین و آرائش کابندوبست کروایا جائے ۔صدر پاکستان نے ان کی یہ درخواست قبول کی اور یہ مقبرہ پہلے سے بہتر حالت میں موجود ہے ۔

Image result for bhati gate

اگر آپ لاہور جائیں تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ پرانے لاہور یعنی اندرون لاہور نہ جائیں ۔اندرون لاہور کا بھاٹی دروازہ جو کہ تہذیب و ثقافت کا نمائندہ دروازہ ہے ۔اگر اس کے اندر جائیں تو تھوڑا آگے جا کر بائیں جانب وہ تاریخی تھڑا موجود ہے جہاں کسی دور میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور بہت سارے دوسرے مشاہیر کی بیٹھک ہوا کرتی تھی ۔یہ تھڑا آج بھی موجود ہے ۔اگر آپ لاہور آئیں تو اس تھڑے کو ضرور وزٹ کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button