دو ٹکے کے ڈرامے نے 50 ملین لوگوں کو ماموں بنا دیا!

25 جنوری کی رات بلاک بسٹر ڈراما سیریز "میرے پاس تم ہو” کے انتہائی بھونڈے اختتام پر مختصر ترین الفاظ میں اتنا ہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک دو ٹکے کے ڈرامے نے 25 کروڑ عوام کو کئی مہینوں ماموں بنائے رکھا اور پھر آخری قسط میں اسکا مس کیرج ہو گیا۔
آخری قسط پروڈکشن اور پرفارمنس کے اعتبار سے انتہائی کمزور اور ڈرامے کا اختتام بھونڈا ترین تھا۔ دانش، مہوش کی بے وفائی معاف نہیں کرتا لیکن بےوفائی کو ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد ایک دن اچانک ہارٹ اٹیک سے مر جاتا ہے۔ ڈرامے کی آخری قسط کی صورت میں رائٹر خلیل الرحمٰن قمر کے تھیلے سے بلی باہر کیا نکلی، سوالات کا ایک پینڈورا باکس کھل گیا۔ مثلاً دانش کو ہارٹ اٹیک کیوں ہوا جبکہ وہ ٹھیک ٹھاک جوان اور صحت مند شخص تھا، اسے تو ہارٹ اٹیک مہوش کو دانش کے ساتھ دیکھ کر یا پھر مہوش کے طلاق مانگنے پر بھی نہیں ہوا تھا؟ اب اسے کس بات پر ہارٹ اٹیک ہو گیا جبکہ وہ بے وفائی کے صدمے اور مالی بحران سے بھی نکل آیا تھا۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ
ڈاکٹرز نے کیسے ایک بچے کو آئی سی یو میں بلا لیا جبکہ مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بجائے کہ ڈاکٹرز دانش کو بچانے کی کوشش کرتے، انہوں نے اسے رومی کے ساتھ گپ شپ لگانے کے لیا بلا لیا اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ اسے آکسیجن ماسک بھی اتارنے دیتے ہیں تاکہ وہ کھل کے کر ڈائیلاگ بازی کر سکے۔ اور اس کے ڈائیلاگ تھے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہےتھے؟
یہ بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کہ رومی کیا پتھر کا بنا ہوا تھا جس کے کوئی جذبات ہی نہیں تھے۔ وہ پہلی بار باپ کو انتہائی تکلیف میں دیکھ رہا ہے لیکن کسی قسم کا ردِعمل شو نہیں کرتا؟ البتہ ہانیہ کی باپ کو دی گئی رنگ واپس کرنے کے لئے ہسپتال ساتھ لانا نہیں بھولتا؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ”میرے پاس تم ہو“ ابتدا ہی سے ٹاک آف دی ٹاؤن بن گیا۔ جس کی ایک وجہ تو ڈرامے کا انتہائی بولڈ موضوع تھا اور دوسرے اس میں مہوش نامی بُری عورت کو دکھایا جا رہا تھا جو اپنے انتہائی وفادار شوہر دانش کو چھوڑ کر ایک غیر مرد شہوار کی دولت پر ایسی مرمٹتی ہے کہ اپنے اکلوتے بچے رومی کی پرواہ کئے بغیر دانش سے طلاق لیتی ہے اور بنا شادی کے شہوار کے ساتھ رہنا شروع کر دیتی ہے۔
ڈرامے کا ایک اور اہم کردار رومی کی سکول ٹیچر ہانیہ کا ہے، رومی اپنی ماں کی بے وفائی کے بعد چاہتا ہے کہ اس کے باپ کی شادی اس کی ٹیچر سے ہو جائے۔ خیر مہوش کے اصرار کے بعد شہوار جب شادی کے لئے راضی ہوتا ہے تو عین نکاح کے دن شہوار کی بیوی کی انٹری ہوتی ہے اور یوں مہوش بغیر نکاح بے عزت ہو کے کوچہٗ صنم سے وداع ہوتی ہے اور چاہتی ہے کہ جس شوہر سے طلاق لے چکی ہے، وہ اسے معاف کر دے اور دونوں ایک ہو جایئں جبکہ شرعی طور پر یہ ناممکن ہے لیکن ڈرامہ اسی ایک نقطے پر ٹھہر جاتا ہے۔
ڈرامے کی وہ قسط، جس میں مہوش کو شہوار کے ساتھ گھر چھوڑ کر رخصت ہوتے دکھایا گیا، اس میں دانش کی جانب سے بولا جانے والا ایک ڈائیلاگ ڈرامے ی اصل پہچان بن گیا۔ ڈائیلاگ تھا ۔۔۔ تم اس دو ٹکے کی لڑکی کے لئے مجھے پچاس ملین دے رہے تھے۔ یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ڈرامے کو راتوں رات شہرت بخشی اور پیشکاروں نے اسے کمرشل بنیادوں ہر کیش کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ سوشل میڈیا اور مختلف ٹی وی چینلز پر خلیل الرحمٰن اور فیمینسٹ گروپس آمنے سامنے آ گئے۔ اب ہر کسی کو تجسس تھا کہ اس کہانی کا اختتام کیا ہو گا؟ جب خلیل الرحمٰن، ہمایوں سعید اور ندیم بیگ کو یقین ہو گیا کہ وہ ڈرامے کو لوگوں کی کمزوری بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو ڈرامے کی انتہائی کمزور، آخری قسط کو بیچنے کی حکمتِ عملی تیار کی گئی اور اسے آن ایئر جانے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا گیا۔ بتایا گیا کہ ڈرامہ چونکہ بلاک بسٹر ہے اور لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا چکا ہے، اس لئے آخری قسط کو بڑی سکرینوں پر بھی دکھایا جائے گا۔
خیر سینما گھروں کی ٹکٹس بھی دھڑا دھڑ بک گئیں۔ اس ڈرامے کے اختتام کے حوالے سے مصنف اشاروں کنایوں میں پہلے ہی بتا چکے تھے کہ کسی کی موت واقعی ہو گی، جس پر قیاس آرائیوں کا ایک سلسلہ بھی چل نکلا تھا۔ پھر وہ دن بھی آن پہنچا، لوگ خلیل الرحمٰن کی اس شاہکار تخلیق کا غیر معمولی اختتام دیکھنے کے لئے بے چین تھے لیکن ہوا کیا؟ کہانی، پروڈکشن اور پرفارمنس کے اعتبار سے ڈرامے کا ایک انتہائی بھونڈا اختتام آن ایئر ہوا۔ دانش، مہوش کی بے وفائی معاف نہیں کرتا لیکن ایک بے وفا کی خاطر اپنی جان دے دیتا ہے۔ دراصل دانش جب مہوش کے اصرار پر اسے ملنے آتا ہے تو ڈرامہ وہیں اپنے ٹریک سے اتر جاتا ہے۔ دیکھنے والے اب تک حیرت زدہ ہیں کہ آخر دانش کو ہارٹ اٹیک کیوں ہوا؟ انتہائی سست روی سے آگے بڑھتے اختتام میں شاید کچھ دلچسپی باقی رہتی اگر آخری قسط میں دانش کی اوور ایکٹنگ اور بے ربط ڈائیلاگ نہ ہوتے۔ اور تو اور شہوار اور اس کی بیوی کے سین میں شہوار کی ایکٹنگ بھی متاثر کن نہیں تھی۔
بالآخر ڈرامہ ایک مس کیرج کا شکار یو گیا اور ایک زبردست اختتام کی بجائے ایک عامیانہ انجام کو پہنچ گیا، بقول خلیل الرحمٰن، زندگی کے کسی موڑ پر بیٹھ کر یہ طے کرنا ہو گا کہ ڈرامے کے کردار کا زندہ رہ جانا خوش کن اختتام ہوتا ہے یا مر جانا؟ خلیل الرحمٰن کی گفتگو سے تو یہ بھی لگتا ہے کہ وہ اس صدی کے غالب اور اقبال ہیں اور لوگ ان کی تحریریں نصابی کتب میں پڑھا کریں گے۔۔۔ فی الحال تو یہ دو ٹکے کا ڈرامہ پچاس ملین سے بھی زائد لوگوں کو ماموں بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے!!
