ججز کے فیصلے بول رہے ہیں کہ وہ دباؤ میں ہیں

نائب صدرمسلم لیگ ن مریم نواز کا کہنا ہے کہ ججز کے فیصلے بول رہے ہیں کہ وہ دباؤ میں ہیں تاہم وہ عدالیہ کی آزادی کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گی اور دباؤ ڈالنے والی تمام طاقتوں کو بے نقاب کریں گے انھوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم اس مقدمے میں بے جس میں خود سزا دینے والے جج ارشدملک نے نوازشریف کی ناصرف بےگناہی بلکہ بلیک میلنگ اور دباو میں زبردستی فیصلہ دلوائے جانے کا اعتراف کیاہے۔جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگر فیصلہ آج بھی جوں کا توں ہے.جج ارشد ملک کو تو گھر بھیج دیا گیا مگر اس سے یہ نہیں پوچھا کہ نواز شریف کو سزا کس کے کہنے پر دی ؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا؟
معزز چیف جسٹس نے خود فرمایا کہ دباؤ کا شکار ججز عوام کو انصاف نہیں دے سکتے،ہمارے نظام انصاف کے بارے میں اس سے بڑی گواہی کیا ہوگی؟عوام تو کچھ عرصہ اور ناانصافی بھگت لیں گے لیکن معزز جج صاحبان کو بیرونی دباؤ سے کب اور کیسے نجات ملے گی؟
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 15, 2020
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقدمہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ جج کے اعتراف جرم کے بعد سزا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہےاگر سزا ہی قائم نہ رہتی ہو تو واپسی کیسی گرفتاری کیوں؟
جج ارشد ملک کو تو گھر بھیج دیا گیا مگر اس سے یہ نہیں پوچھا کہ نواز شریف کو سزا کس کے کہنے پر دی ؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا؟
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 15, 2020
انھوں نے مزید کہا کہ بتاؤ کسی ایک کا نام جس کے لئے ایجنسیز پر مشتمل جے آئی ٹی بنی ہو جس کے لئے نیب ریفرنسزدائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو،جس کے لئے مانیٹرنگ ججز لگانے گئے ہوں،جس نے بیٹی سمیت عدالتوں میں پیشیاں بھگتی ہوں،جو جیل کی کال کوٹھری میں جانے کے لئے اپنی سینتالیس سالہ رفیق حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنئ بیٹی کا ہاتھ تھامے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹنے وطن واپس آگیا ہو اور قانون کے آگے پیش ہوگیا ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسے ہوتے ہیں مفرور اور اشتہاری ؟
اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر رک جائے گا؟ دباؤ اور جبر انتظار کرنے سے نہیں ڈٹ کر مزاحمت کرنے سے ختم ہوتے ہیں۔ https://t.co/Cc7W0VTSA7
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 15, 2020
مریم نواز کاکہناتھاکہ مجھے بخوبی اندازہ ہےکہ سیاستدانوں کی طرح معزز ججز بھی دباؤ میں ہیں۔ان کے فیصلے کہہ رہے ہیں کہ وہ دباؤ میں ہیں مگر کیا معزز جج حضرات کو اس قسم کے عدلیہ دشمن واروں کے سامنے دیوار نہیں بن جانا چاہئے. ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر معزز جج صاحبان نے آج دباؤ کے خلاف سٹینڈ نہ لیا تو یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی تک نہیں رکے گا بلکہ ہر وہ جج جو آئین اور قانون پر چلے گا اس ظلم و انتقام کی زد میں آئےگا ۔ مریم نواز نےکہاکہ معزز چیف جسٹس نے خود فرمایا کہ دباو کا شکار ججزعوام کو انصاف نہیں دے سکتے ،ہمارے نظام انصاف کے بارے میں اس سے بڑی گواہی کیا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام تو کچھ عرصہ اورنا انصافی بھگت لیں گے لیکن معزز جج صاحبان کو بیرونی دباو سے کب اور کیسے نجات ملے گی؟
محترم چیف جسٹس صاحب !
یہ تکلیف دہ سفر کب تمام ہو گا؟ نظامِ انصاف کو اپنے مقام تک پہنچنے کے لیئے کتنے بےگناہ قومی رہنماؤں اور آئین، قانون اور انصاف پر چلنے والے معزز ججوں کی قربانی چاہیے ہو گی ؟— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 15, 2020
ایک اور ٹوئیٹ کرتے ہوئے مریم نواز کاکہناتھاکہ جناب چیف جسٹس صاحب کیا آپ اس بیرونی دباؤ کے بارے میں عوام کو کچھ بتائیں گےکون انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہےاور کس کے سامنے جج صاحبان بے بس ہیں جبکہ اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر رک جائے گا۔دباو اور جبر انتظار کرنے سے نہیں ڈٹ کر مزاحمت کرنے سے ختم ہوتے ہیں ۔مریم نواز کا ٹوئیٹ میں کہناتھا کہ محترم چیف جسٹس صاحب یہ تکلیف دہ سفر کب تمام ہوگا نظام انصاف کو اپنے مقام تک پہنچنے کے لئے کتنے بےگناہ قومی رہنماؤں اور آئین ،قانون اور انصاف پر چلنے والے معزز ججوں کی قربانی چاہیے ہو گی. ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے پہلے بھی اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی تھی اور آج بھی جب عدلیہ کو دباؤ کا سامناہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عدلیہ کو جو بھی دباو میں لانے کی کوشش کرے گا، ہم ہر قیمت پر اس کا راستہ روکیں گے، انشاءاللّہ!
معزز چیف جسٹس صاحب!
نواز شریف نے پہلے بھی اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی تھی اور آج بھی جب عدلیہ کو دباؤ کا سامناہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عدلیہ کو جو بھی دباو میں لانے کی کوشش کرے گا، ہم ہر قیمت پر اس کا راستہ روکیں گے، انشاءاللّہ!— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 15, 2020
