جسٹس شوکت صدیقی کا وکالت کا لائسنس بحال

تین برس گزر جانے کے باوجود سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیق کی اپنی برطرفی کے خلاف دائر درخواست کا فیصلہ نہ ہونے کے بعد اب پاکستان بار کونسل نے جسٹس صدیقی کی وکالت کا لائسنس بحال کر دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پاکستان بار کونسل کی تین رکنی انرولمنٹ کمیٹی نے شوکت عزیز صدیقی کی وکالت کے لائسنس کو بحال کیا ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر دو اراکین میں سید قلب حسن اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی ایک ریفرنس 2015 میں دائر کیا گیا تھا جس میں ان پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرکاری گھر پر تزین و آرائش کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کا الزام ہے۔ یاد رہے کہ بود ازاں سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرنے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے 2018 میں شوکت صدیقی کو بطور جج اسلام آباد کورٹ برطرف کر دیا تھا۔ لیکن اپنی برطرفی کے خلاف انکی اپیل تین برس سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
اب شوکت عزیز صدیقی کا وکالت کا لائسنس بحال کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شوکت صدیقی کو بدعنوانی یا اخلاقی گراوٹ جیسے الزامات کی بنیاد پر چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے برطرف نہیں کیا لہذا کمیٹی فوری طور پر ان کے لائسنس کو بحال کرتی ہے۔شوکت عزیز صدیقی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں مظلوم لوگوں کی وکالت کرتا رہوں گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ان سے متعلق لائسنس بحالی کے فیصلے میں لکھا گیا ہے وہ خود انھیں تمام تر الزامات سے بری کردیتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی برطرفی کے فیصلے کی پیروی بھی کرتے رہیں گے تا کہ انھیں باعزت مراعات کے ساتھ اس مقدمے میں بھی انصاف مل سکے۔
تاہم شوکت صدیقی نے بتایا کہ اب زائد العمر ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق ان کی برطرفی کے فیصلے میں تاخیر ضرور ہو سکتی ہے مگر انصاف ضرور ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کالی آندھی پاکستان کا رخ کرنے کے لیے تیار
خیال رہے کہ لائسنس کی بحالی کے باوجود شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور وکیل پیش نہیں ہو سکیں گے کہ وہ اس عدالت کے جج رہے ہیں۔
