علی وزیر کے ساتھ انصاف کا دوہرا معیار کیوں اپنایا گیا ہے؟


پاکستانی حکام کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر حراست سربراہ علی وزیر کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس معاملے میں عدالتیں بھی حصہ دار بنتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ دسمبر 2020 میں کراچی میں فوج کے خلاف تقریر کرنے کے الزام پر گرفتار ہونے والے علی وزیر پر غداری کا الزام عائد ہے لیکن تقریبا ایک سال گزرنے کے باوجود ان کی درخواست ضمانت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔
26 نومبر کے روز سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست کو 29 نومبر کے لیے موخر کر دیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ اپیل پر سماعت کرے گا۔ اس سے پہلے جمعہ کے روز جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں ایک بینچ نے ایڈووکیٹ صلاح الدین کے توسط سے دائر کردہ علی وزیر کی درخواست پر سماعت کی۔ تاہم بینچ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا پر حکم دیا کہ کیس کو 29 نومبر کے روز سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
خیال رہے کہ پولیس نے سندھ پولیس کی درخواست پر علی وزیر کو پشاور سے 16 دسمبر 2020 کو گرفتار کر کے کراچی منتقل کردیا تھا۔انہیں 6 دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ایک احتجاجی ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز الزامات لگانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس ریلی کے اگلے روز سہراب گوٹھ پولیس تھانے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ زیر حراست رکن قومی اسمبلی نے فروری میں انسداد دہشت گردی عدالت سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعدسندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت اس بات کو مدِ نظر میں ناکام رہی کہ ایف آئی آر کے چالان میں نامزد گواہ آزاد گواہ نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھے۔
درخواست میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جس علاقے میں جلسہ ہوا وہاں سے اپیل کنندہ کے خلاف کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا، اس لیے ایک رکن قومی اسمبلی جو خود پارلیمان اور قانون کی بالادستی کی جدو جہد کررہے ہیں انہیں ایک جھوٹے کیس میں پھنسا دیا گیا۔درخواست کے مطابق اپیل کنندہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ان کے خلاف کوئی اور مقدمہ زیر التوا ہے۔
ساتھ ہی درخواست میں علی وزیر کو سازش، ریاست کے خلاف اعلان جنگ، صدر اور گورنر پر حملے، مختلف گروہوں کے مابین دشمنی کے فروغ، قانون کی خلاف ورزی اور بغاوت کے لیے افواہین پھیلانے جیسے جرائم سے منسلک کرنے کے لیے آزاد ثبوت فراہم کیے جانے کا کہا۔اپیل میں کہا گیا کہ علی وزیر کو حکمراں جماعت تحریک انصاف سے سیاسی دشمنی کی وجہ سے گرفتار کر کے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ یاد رہے کہ انصاف کے منتظر علی وزیر نے 2018 کے انتخابات میں 27 امیدواروں کو بھاری مارجن سے شِکست دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کرونا نے مزید 7 افراد کی جان لے لی
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک منتخب رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود علی وزیر کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جارہی ہے اور اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں کیے جاتے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی اور ریاستی حکام پشتونوں کے ساتھ انصاف کا دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں، ایک جانب علی وزیر کو بے بنیاد مقدمے میں الجھا کر ایک برس سے زیر حراست رکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب قاتل طالبان جنگجوؤں کو جیلوں سے رہا کیا جا رہا ہے۔

Back to top button