جسٹس فائز عیسیٰ نے جسٹس بندیال کو کیسے بے نقاب کیا؟


معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نام اپنے حالیہ خط میں چشم کُشا الزامات لگائے ہیں اور ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایک ایسے اہم دن جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین مخصوص جج حمزہ شہباز کو معزول کر کے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے تھے، قاضی فائز عیسیٰ نے آئین، قانون، اخلاقیات اور روایات کا میزائل داغتے ہوئے پانچ صفحات پر مبنی ایک دبنگ خط لکھ کر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کچا چٹھا کھول ڈالا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی چیف جسٹس کے نام قاضی فائز عیسیٰ کے خط کو بیان کرتے ہیں۔ فائز عیسی نے لکھا کہ ‘میں جناب کی اجازت سے چھٹی پر تھا جبکہ اٹارنی جنرل بھی صاحب فراش تھے، ایسے میں آپکو کیا ایمرجنسی آن پڑی کہ نئے ججوں کی تعیناتی کے لیے میٹنگ کال کر لی؟ ویسے بھی سپریم کورٹ کے ایک جج اگست میں ریٹائر ہونے والے ہیں اور وہ بھی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں بطور ممبر موجود ہوں گے۔ یعنی صورتحال کچھ ایسی ہوگی کہ ایک ایسا جج جو دو ہفتے میں ریٹائر ہونے والا ہے، وہ اپنے بعد خالی ہونے والی پوسٹ کو پُر کرنے کے فیصلے میں شامل ہو گا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خط کو پڑھ کر مزید بھی سر دھننے کو بہت کچھ ہے۔ یہ خط تحریر کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا اور چیف جسٹس پر بھر پور عدم اعتماد کیا۔ حسن اتفاق یہ ہے کہ اس سے دو دن پہلے چیف جسٹس پر ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدم اعتماد کیا تھا اور حمزہ شہباز کیس کے فیصلے کے لیے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا تھا جو معزز چیف جسٹس نے مسترد کر دیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے حمزہ شہباز کو ہٹا کر پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے اپنے 26 جولائی کے فیصلے میں عدالتی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں پڑنے والے ووٹوں کی کاؤنٹنگ کا فریضہ بھی سرانجام دیا اور پریزائیڈنگ آفیسر بن کر پرویز الہی کو فاتح بھی قرار دے دیا جو کہ عدالتی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا یے کہ قاضی فائز اور ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا سپریم کورٹ پر اظہار عدم اعتماد، ایک طرح سے ریاستِ پاکستان کو اجاڑ گیا ہے۔ آج یہ ملک عجیب و غریب، سونا سونا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاستِ پاکستان کے خلاف اس مجرمانہ فعل میں سارے طاقتور ادارے اور مہرے برابر کے شریک جرم ہیں۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے، لیکن عدلیہ نے تو اپنی سیاہ تاریخ کو دہرا دہرا کر ہمارا اُوڑھنا، بچھونا بنا دیا ہے۔ جسٹس منیر نے پہلے نظریہ ضرورت کا بیج بویا، پھر اسے اپنی نگرانی میں پروان چڑھایا، آج وہ ایک سایہ دار درخت بن چکا ہے جسکی چھاوں میں تمام بے ضمیر جج ابدی نیند سو رہے ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ہمارے ماضی کے ضمیر فروش ججوں نے جھکنے پر رفعتیں پائیں، اس لیے آج کے تین رکنی بینچ ممبران کا ماضی کے ججوں پر رشک کرنا بنتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو عزت و مقام ثاقب نثار کو دے رکھا ہے، زمانہ اس پر رشک کرتا ہے۔ یہ اور بات کہ جسٹس منیر اور جسٹس ثاقب نثار جیسے گوہر نایاب آج ذلت و رسوائی کا نمونہ بن چکے ہیں۔ ثاقب نثار پچھلے چند مہینوں میں عمران خان کی دہلیز پر کئی بار حاضری دیتے اور سجدے کرتے دیکھے گئے ہیں۔ سُنا ہے کہ تین رکنی بینچ کے حالیہ فیصلے پر بھی کالے جادو کے جو اثرات نظر آئے وہ ثاقب نثار کے مرہون منت تھے۔ یہ الگ بات کہ ثاقب نثار پبلک میں آ جائیں تو احساسِ جرم اور ندامت سے بھرپور چہرہ چھپانے کے لئے کونے کھدرے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ میں دہائیوں سے یہ دہائی دے رہا ہوں کہ پاکستان کی تباہی کا آزمودہ فارمولہ سیاسی عدم استحکام ہی ہے کیونکہ معاشی، سماجی، انتظامی، اور سفارتی بحران سب اس کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان ٹوٹا، اور 2014 سے نہایت محنت سے تیار کیا گیا سیاسی عدم استحکام کا مجرب نسخہ آج ایک بار پھر ملک کو دو لخت کرنے کے قریب ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس عدم استحکام کی اصل ذمہ دار طاقتور فوجی اسٹیبشلمنٹ اور عدلیہ ہی مدعی، جیوری اور جج بنے بیٹھے ہیں، ایسے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”یا اللہ تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائیں“۔

حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کے سپریم کورٹ کے متنازعہ تین رکنی بینچ کا حالیہ فیصلہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں، فیصلہ سنانے سے پہلے لاکھوں مرتبہ سوچ بیچار ہوئی، کیونکہ ایسا تاریخی فیصلہ دینا کوئی آسان نہیں تھا۔ اس سے چند روز پہلے بھی سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری کو تب ٹکے ٹوکری کیا گیا جب آدھی رات کو عمران کے مشتعل حامیوں نے ہلہ بول دیا جسکے بعد ڈپٹی رجسٹرار نے عدالت کے دروازے کھلوا کر رجسٹرار پرویز الہی کی درخواست قبول کی۔ تاہم ہنگامہ آرائی کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ نے 25 مئی کو عمران خان اور انکے حامیوں کی جانب سے اسلام آباد میں کیے جانے والےجلاو،گھیراو سے صرفِ نظر برتا اور انہیں ڈی چوک تک پہنچنے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا۔ بقول حفیظ اللہ نیازی، ایسی سینکڑوں سہولتیں عمران کو 2014 سے میسر ہیں جن میں انصاف کی موبائل سروس سرفہرست ہے۔ شاید اسی وجہ سے چھٹی والے دن لاہور میں سپریم کورٹ کے تین جج موجود تھے جنہوں نے پرویز الہی کی درخواست داخل ہوتے ہی ایمرجنسی بنیادوں پر کیس کی سماعت شروع کر دی اور پھر 48 گھنٹوں میں انصاف بھی فراہم کر دیا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں وطن عزیز گہری دلدل میں پھنس چکا ہے، لیکن ادارے اور افراد اپنے اپنے مفادات کی نگہبانی میں مصروف ہیں۔ لیکن میری ہمیشہ سے یہ سکہ بند رائے اور راسخ عقیدہ ہے کہ امریکہ بادشاہ حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں ہمیشہ ملوث رہا یے اور اس سلسلے میں سب سے موئثر طریقہ عوام الناس کو گمراہ کرنا، اکسانا، آپس میں لڑوانا، اور اداروں سے تصادم کروانا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے میں ہمارے ادارے اس اکھاڑ پچھاڑ میں معاونت کیوں کر رہے ہیں؟

حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ آج پاکستان کے تمام طاقتوروں نے مفلوک الحال عوام کے خلاف اتحاد کر لیا یے جبکہ ملک تقسیم در تقسیم کا شکار یے اور تیزی سے انارکی کی جانب گامزن ہے۔ ایسے میں شاید مسلم لیگ ن کو کُبڑے والی ٹانگ ہی راس آ جائے اور اللہ کرے اسکا کُب نکل جائے، بقول حفیظ اللہ خان نیازی، موجودہ سنگین صورتحال میں نواز شریف اب امید کی آخری کرن ہیں، لیکن اگر وہ اب بھی کمر کس کر آتش نمرود میں نہیں کودتے اور اس امتحان میں پورا نہیں اترتے تو پھر مایوسی کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔

Back to top button