پی ٹی آئی وضاحت کرے کونسی نیب ترامیم جمہوریت کے منافی ہیں

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے کی گئی نیب ترامیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت اعظمیٰ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں، تفصیل پیش کریں کہ کیسے یہ ترامیم آئین سے متصادم ہیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب ترامیم کو چیلنج کرنے پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے، عوام کے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں؟ نشاندہی کریں، یہ بتائیں کون سی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا کام ہمیں بتانا ہے کون سی ترمیم بنیادی حقوق اور آئین سے متصادم ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ترمیم مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے تو وہ بتائیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ عدالت پارلیمنٹ کو قانون میں بہتری لانے کا کہے؟
وکیل پاکستان تحریک انصاف نے دلائل میں کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے، آپ بتائیں کونسی ترمیم آئین کیخلاف ہیں؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ آئین کی اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں، کرپشن یہ ہے آپ غیرقانونی کام کریں اور اس کا کسی کو فائدہ پہنچائیں، کرپشن بنیادی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال، خزانے کو نقصان پہنچانا ہے، احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا کام یہ نہیں کہ آپ کو درخواست مزید سخت بنانے کا کہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی ترامیم کیخلاف درخواست زیرسماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا، نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے، ابھی تک کسی اور ہائیکورٹ میں درخواست نہیں آئی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 199 کی درخواست میں ہائیکورٹ بنیادی حقوق سے آگے نہیں جا سکتی، اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو آپ کی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ کیا عدالت ختم کیا گیا نیب قانون بحال کر سکتی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سینئر وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button