بلوچستان میں طوفانی بارشوں نے 111 افراد کی جان لے لی
بارشیں آسمان سے قہر بن کر ٹوٹ رہی ہیں، بلوچستان میں طوفانی بارشوں نے 111 افراد کی جان لے لی، جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لیے حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے دس دس لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔
متاثرین کے لیے امدادی کارروائی جاری ہیں، 16 ہزار 87 گھروں کے لیے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے ہیں اور اب تک 17500افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔
طوفانی بارشوں اور سیلاب سے 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ بارشوں سے 6070 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
چیف سیکریٹری بلوچستان نے بتایا کہ 111 افراد جاں بحق، ایک ہزار زخمی جبکہ 50ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں، پورے بلوچستان میں 10 اضلاع زیادہ جبکہ 14 نارمل متاثر ہوئے ہیں، بلوچستان میں 30 برس سے 500 فیصد زائد بارشیں ہو ئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے آرمی ایوی ایشن کے 2 ہیلی کاپٹرکراچی سےلسبیلہ اوراوتھل کےعلاقوں میں امدادی کاموں کیلئے روانہ کر دیئے گئے، جی او سی نے گوادر میں ریلیف اور ریسکیو سرگرمیوں کی خود نگرانی کی، متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس اسٹاف متاثرین کوطبی امداد فراہم کررہے ہیں۔
فیض حمید تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل
ڈی جی خان میں سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں فوجی دستوں کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں، متاثرہ افراد کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے 2 میڈیکل کیمپ قائم کر دیئے گئے۔
