جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اسٹیبلشمنٹ کو بڑی شکست

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بالآخر ایک لمبی عدالتی جنگ کے بعد اس وقت طاقتور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے جب سپریم کورٹ نے انکی نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انکی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا اپنا پچھلا حکم نامہ واپس لے لیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ان کے خلاف ہونے والی ایف بی آر کی کارروائی کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو کہ قاضی فائز عیسی کو بطور جج سپریم کورٹ سے فارغ کروانے کے درپے ہے۔
26 اپریل کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے فائز عیسی کے حق میں چار کے مقابلے میں چھ ججوں کی اکثریت رائے سے فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ اس سے۔پہلے 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے تین کے مقابلے میں سات ججز کی اکثریت سے قاضی فائز عیسینکے خلاف فیصلہ سنایا تھا جس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ اور دیگر نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی درخواستیں 6، 4 کے تناسب سے منظور کیں۔ چھ جج صاحبان جنہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ سنایا ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس قاضی محمد امین، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ دیگر تمام درخواستیں منظور کیں، اس لیے فاضل جج کی اپیل 5، 5 کے تناسب سے برابر رہی۔ اکثریتی فیصلے میں ایف بی آر سمیت تمام فورمز پر جستس عیسی کے خاندان کے خلاف قانونی کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 19 جون 2020 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے آف شور اثاثوں کا معاملہ وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجے کا فیصلہ سنایا تھا۔
26 اپریل کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کیس ایف بی آر کو نہ بھجواتی تو وفاقی حکومت نظر ثانی اپیل دائر کرتی، حکومت کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ اور عمل درآمد کے بعد فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔‘ ’سپریم جوڈیشل کونسل کو مواد کا جائزہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا اور آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی۔‘ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ صرف غیر معمولی حالات میں جوڈیشل کونسل میں مداخلت کر سکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ عدالت نے مجھ سے تین سوالات کے جواب مانگے تھے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومتی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ ان تین سوالات کا جواب مثبت دیں گے تو جسٹس فائز عیسیٰ جواب دہ ہیں۔‘ ’اگر آپ ان تین سوالات کے جوابات منفی دیں گے تو بات ختم۔۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ان تین سوالات کے جوابات دینے سے انکار کیا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’جو جائیدادیں خریدی گئیں ان کے ذرائع کی تصدیق ایف بی آر کا کام ہے۔ موجودہ کیس میں تحقیقات سرینا عیسیٰ کے خلاف شروع ہوئیں۔ اس معاملے کو دبانا اس کو زبردستی ختم کرنے کے مترادف ہے۔‘ جسٹس عمر بندیال نے یہ بھی کہا کہ ’عدالتی ساکھ کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ وہ سرینا عیسیٰ کی جائیدادوں کے لیے جواب دہ نہیں۔‘
اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال سےکہا کہ ’آپ میرے منہ میں اپنے الفاظ ڈال کر بات نہ کریں۔ میں نے سوالات کا جواب دینے سے انکار نہیں کیا۔ میں نے صرف سوالات پر اعتراض اٹھایا تھا۔‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نشاندہی کی کہ ’عامر رحمان میرے ٹیکس یا فنانشل ایڈوائزر نہیں ہیں۔ حکومتی وکیل سے ایسا سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ انکا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر نیا مواد عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے جسٹس عمر عطا بندیال سے پوچھا کہ کیا آپ شکایت کنندہ ہیں؟ ایسے سوالات سے آپ کوڈ آف کنڈکٹ اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘ جسٹس عیسخ۔کامکینانتھا کہ جسٹس بندیال اصل میں حکومتی وکیل کے منہ میں الفاظ ڈال رہے ہیں۔ شاید پھر سے کوشش ہو رہی ہے کہ وقت ضائع کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی رپورٹ نظر ثانی درخواستوں کے بعد آئی ہے۔‘
اس موقع پر عامر رحمان نے کہا کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ ایف بی آر کی کارروائی کو بدنیتی قرار دے کر نظر ثانی کی بنیاد بنا رہے ہیں اس۔لیے جو دستاویزات نظر ثانی کی بنیاد ہے اس پر دلائل دینا میرا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالتی سوالات کے جوابات دے رہا ہوں اور کہا جارہا ہے کہ وقت ضائع کر رہا ہوں۔‘ اس پر جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’جسٹس فائز عیسٰی کی نظر میں ان کی اہلیہ کی دستاویزات کا جائزہ لینا غلط ہے، عدالت کو شاید ایک فریق کو سن کر اٹھ جانا چاہیے۔‘ اس۔موقع پر قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادیں پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر احتساب میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ دونوں اپنے اور اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی پبلک کریں۔‘ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے غصہ۔کرتے ہوئے کہا کہ میڈم پلیز آپ خاموش ہو جائیں۔
کیس کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل نے کہا کہ’عدلیہ کی آزادی ججز کے احتساب سے منسلک ہے۔ ایک جج کے اہل خانہ کی آف شور جائیدادوں کا کیس سامنے آیا۔ ریفرنس کالعدم ہو گیا لیکن تنازع اب بھی برقرار ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع ختم ہو۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس تنازع کے حل کے لیے متعلقہ فورم ہے۔‘ اسکے بعد عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم آدھے گھنٹے میں فیصلہ سنا سکتے ہیں یا فیصلہ سنانے کی تاریخ دے سکتے ہیں۔‘ تاہم بعد میں چھ اور چار کی اکثریت سے کیس کافیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں سنادیا گیا جسے طاقتور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کو بطور جج سپریم کورٹ سے فارغ کروانے کے درپے ہے اور ان خدشات کا اظہار جسٹس فائز عیسی کیس کی سماعت کے دوران خود بھی کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 7 ججز کے اپنے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ لیکن عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ میں سے انہیں 7 اراکین نے مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔
عدالتی بینچ میں شامل جسٹس مقبول باقر، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن انہوں نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔ یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھیں جن پر 26 اپریل کے روز فیصلہ ہوگیا۔
