جسٹس فائز کیس کی نظرثانی درخواست پر چیف جسٹس مشکل میں

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر سنائے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست نے چیف جسٹس کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کیوں کہ کیس سننے والے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔
پاکستان کی چار بڑی بار ایسوسی ایشنز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواستوں کو 10 رکنی فل کورٹ کی جانب سے سننے کے بعد اب اس کیس میں نظرثانی درخواست کی سماعت 7 رکنی سپریم کورٹ بینچ کے سامنے مقرر کرنے پر سوالات اٹھا دیے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کے لئے بھی دس رکنی بینچ ہی مقرر کیا جائے۔ اپنے مشترکہ مطالبے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف ریکی، پنجاب بار کونسل کے نائب چیئرمین شاہنواز اسمٰعیل اور بلوچستان بار کونسل کے نائب چیئرمین منیر احمد کاکڑ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ سماعتوں کو ملتوی کرے اور معاملے کو چیف جسٹس پاکستان کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ لارجر بینچ تشکیل دیں جس میں وہ تمام ججز شامل ہوں جنہوں نے ریفرنس کے خلاف آئینی درخواستوں پر فیصلہ دیا تھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل 7 رکنی لارجر بینچ جسٹس عیسیٰ کیس میں 19 جون کے مختصر فیصلے کے خلاف 8 نظرثانی درخواستوں پر آج (بدھ) سے سماعتوں کا آغاز کرے گا۔
جسٹس عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے خلاف ان آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ بینچ نے ہی 19 جون جو مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کےلیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کرنے والوں میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل کے ساتھ ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ شامل ہیں۔ اپنی نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیرضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ اور ’ایرر‘ ہوا ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسے حذف کیا جائے۔
حالیہ درخواست میں بار ایسوسی ایشنز نے کہا کہ 19 جون کے مختصر حکم کےلیے تفصیلی وجوہات 22 اکتوبر کو جاری کی گئیں، لہٰذا پہلے دائر کی گئی نظرظانی درخواستوں میں متعلقہ درخواست گزاروں سے مشاورت کے بعد مناسب ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں سرینا عیسیٰ نے چیئرمین ایف بی آر کے ماتحت کی جانب سے ان کے پرانے خط کے جواب میں یہ انکشاف کہ رپورٹ ’معزز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جمع کروائی گئی ہے‘ اور یہ ’خفیہ‘ ہے کے بعد ایف بی آر حکام کی طرف سے معاملے کو دیکھنے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
27 اکتوبر کو ایف بی آر (سی بی سی آر) سیکریٹری علی سعید کو لکھے گئے اپنے حالیہ خط میں سرینا عیسیٰ نے پوچھا کہ اگر رپورٹ خفیہ تھی اور بظاہر صرف چیئرمین نے ہی اسے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروانا تھا تو وہ کس طرح اس سے آگاہ تھے۔ انہوں نے ’رازداری‘ برقرار رکھنے پر بھی سوال اٹھایا چونکہ ان کے بقول عہدیدار نے اپنے خط میں یہ نہیں بتایا تھا کہ کس نے انہیں ان کے 9 اکتوبر کے اس خط کا جواب دینے کا کہا تھا جو انہوں نے چیئرمین کو بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ معاملے پر اوپر سے اثرانداز ہوا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button