جمال خاشقجی قتل کیس میں ولی عہد سلمان کے لیے استثنیٰ

امریکی حکومت نے سعودی انٹیلی جنس کے ہاتھوں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مرڈر کیس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو استثنیٰ دے دیا ہے۔ سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔امریکی خفیہ ایجنسی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے خیال میں اس قتل کا حکم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ تاہم اب عدالت میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بیان دیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان کو ان کے وزیر اعظم کے منصب کی وجہ سے امریکہ میں قانونی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کر دیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی عدالت میں محکمہ انصاف کے وکلا کی جانب سے داخل کرائی جانے والی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سربراہان مملکت کو استثنیٰ دینے کا نظریہ بین الاقوامی قانون کا حصہ ہے۔ سعودی ولی عہد، جن کو وزارت عظمی کا منصب رواں سال ستمبر کے مہینے میں سونپا گیا، جمال خاشقجی کے قتل میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ استثنیٰ حاصل ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس معاملے میں محمد بن سلمان کی بے گناہی ثابت ہوئی ہے۔
وائٹ ہاوس نینشل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ یہ ایک قانونی نکتہ ہے جس کو محکمہ خارجہ نے مروجہ بین الاقوامی کے اصولوں کے تحت قبول کیا تاہم اس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں۔جمال خاشقجی کی سابقہ منگیتر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’آج جمال ایک بار پھر مر گیا۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے سعودی حکام نے کہا تھا کہ سعودی ایجنٹس کی ایک ٹیم کو جمال خاشقجی کو سعودی عرب لانے کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کارروائی کے دوران صورتحال بگڑ جانے کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب کی ایک عدالت نے اس قتل کے جرم میں پانچ اہلکاروں کو موت کی سزا سنائی تھی لیکن گذشتہ سال ستمبر میں ان کی سزا میں کمی کر کے اس کو 20 سال قید میں بدل دیا گیا تھا۔ فروری میں امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حکومت کی جانب سے منظرِ عام پر لائی جانے والی انٹیلیجینس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ، جس کے لیے جمال خاشقجی کام کرتے تھے، کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی تحقیقات کی بنیاد وہ فون کالیں ہیں جو امریکہ میں سعودی سفیر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان نے قتل کے بعد کی تھیں۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امریکی انٹیلیجینس رپورٹ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی قیادت کے خلاف ’جارحانہ اور غلط‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔تاہم جمال خاشقجی کے قتل کے بعد عالمی طور پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ساکھ کو ایک دھچکا پہنچا تھا۔
