اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کرنا مشکل تھاکیونکہ احتساب میرا مشن تھا. اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا۔ کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوگیا تھا. انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت سے اوراتفاق رائے چلنا ہوتا ہے، پارٹی کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنا پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں سول سروس سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ نیب کے چیئرمین کو سمجھایا گیا کہ نیب کا مینڈیٹ کرپشن کیسز کو پکڑنا ہوتا ہے اور عالمی سطح پر کرپشن کی تعریف صرف اور صرف پبلک آفس کا ناجائز اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیورو کریسی کا کردار محدود ہو گیا تھا تاہم نیب میں ترمیم کے ذریعے بیورو کریسی کو ضابطے کی غلطیوں پر نیب کے شکنجے سے بچانا مقصود ہے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ٹیکس کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرے کار میں آتا ہے جس میں نیب کا عمل دخل نہیں بنتا۔تاجر برادری سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری کسی بھی صورت پبلک آفس کو ہولڈ نہیں کرتی ، جب وہ کسی پبلک آفس کے ساتھ مل کر اس سے فائدہ اٹھائے تب نیب انہیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ، 2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا اور ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔ملک میں پیسہ اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی اور معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر 2020 کو پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کا سال قرار دیا۔
واضح رہے کہ 21 اگست کو وفاقی کابینہ نے نیب کے قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا۔ نیب آرڈیننس میں کی گئیں کچھ ترامیم کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی میں چیئرمین نیب کا کردار ختم کردیا گیا، نیب انکوائری اور تحقیقات کے مراحل میں عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دے سکتا۔
ترامیم کے مطابق نیب اب 90 روز تک کسی مشتبہ شخص کو تحویل میں نہیں لے سکتا کیونکہ اس مدت کو کم کرکے 14 روز کردیا گیا ہے جبکہ ماضی میں مشتبہ شخص پر پڑنے والا ثبوتوں کا بوجھ اب پراسیکیوشن پر ڈال دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ایک ترمیم کے ذریعے احتساب قانون میں انکوائری کی تکمیل کے لیے 60 ماہ کے عرصے کی مہلت شامل کی گئی ہے جبکہ ایک اور شق کے ذریعے نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو کسی شکایت پر تحقیقات کا دوبارہ آغاز نہیں کرسکتا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 دسمبر کو کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں تاجر برادری کا ایک بڑا مسئلہ قومی احتساب بیورو کی مداخلت تھی تاہم آرڈیننس کے ذریعے نیب کو تاجر برادری سے علیحدہ کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو صرف پبلک آفس ہولڈرز کی اسکروٹنی کرنی چاہیے، نیب تاجر برادری کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھی۔
علاوہ ازیں نیب قانون میں ترمیم کے مطابق بیوروکریٹس کی پراسیکیوشن کے لیے چیئرمین نیب، کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین اور سیکیورٹز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور ڈویژن برائے قانون و انصاف کے نمائندے پر مشتمل 6 رکنی اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ان کی منظوری کے بغیر نیب کسی سرکاری ملازم کے خلاف انکوائری یا تحقیقات کا آغاز نہیں کر سکتا نہ ہی انہیں گرفتار کر سکتا ہے۔
ایک اور ترمیم کے ذریعے نیب کو اسکروٹنی کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی پبلک آفس ہولڈر کی جائیداد ضبط کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ایک ترمیم کے مطابق متعلقہ حکام یا محکموں کو انکوائریاں اور تحقیقات منتقل کی جائیں گے ، اس کے ساتھ ہی ٹرائلز کو متعلقہ احتساب عدالتوں سے ٹیکس، لیویز اور محصولات کے متعلقہ قوانین کے تحت نمٹنے والی کرمنل کورٹس میں منتقل کیا جائے گا۔
