ڈھاکہ یونیورسٹی میں جناح کی تصاویر پر ہنگامہ کیوں ہوا؟

سابقہ مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصاویر آویزاں کرنے اور انہیں پھاڑنے پر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا جس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی کی صورت میں سامنے آیا۔ واقعے کی تفصیل یوں ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو میں محمد علی جناح کی تین تصاویر شامل کی گئی تھیں۔ ایک طالب علم نے ان تصاویر کے فریم توڑ کر انہیں باہر نکالا اور پھر پھاڑ دیا، اس پر طلبہ کا ایک گروپ مشتعل ہو گیا اور اس نے احتجاج شروع کر دیا جس کے جواب میں جناح کی تصاویر پھاڑنے والے گروہ نے بھی مظاہرے شروع کر دیے اور یوں معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔
بظاہر یہ تنازع چند تاریخی تصاویر کی نمائش کا معاملہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں بنگالی زبان کی تحریک، 1971 کی جنگ آزادی، پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی اور بدلتے ہوئے قومی و سیاسی بیانیوں کی پوری تاریخ موجود ہے۔ یہ تنازع 13 ستمبر 2026 کو تب شروع ہوا جب طویل تزئین و آرائش کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی مرکزی طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو کو دوبارہ کھولا گیا۔ نئی نمائش میں محمد علی جناح سے متعلق تین تاریخی تصاویر اور اخباری مواد شامل کیا گیا تھا۔ ان میں 1940 میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی تصویر، 1970 کے انتخابات سے متعلق اخباری تراشے میں جناح کی تصویر اور 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں ان کی وہ تصویر شامل تھی جس کے ساتھ پاکستان کی ریاستی زبان کے طور پر اردو کے انتخاب بارے ان کا مؤقف درج تھا۔
نمائش میں محمد علی جناح کی تصویر پر اعتراض کی بنیادی وجہ یہی 1948 کا زبان کا مسئلہ بنا۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں 1952 کی زبان کی تحریک قومی تاریخ کا انتہائی اہم باب سمجھی جاتی ہے اور اس کا تعلق براہ راست اس وقت کے مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے حقوق کے مطالبے سے تھا۔ جب محمد علی جنا نے ڈھاکہ کے ایک سٹیڈیم میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا تھا تو اس پر سخت رد عمل سامنے آیا تھا اور لسانی فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی لیڈرشپ کا یہ موقف تھا کہ چونکہ یہاں کی مادری زبان بنگالی ہے لہذا مشرقی پاکستان میں بنگالی کو سرکاری زبان قرار دیا جائے اور مغربی پاکستان میں اردو زبان کو۔
چنانچہ جناح کی تصاویر آویزاں ہونے کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ اور تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ جس یونیورسٹی کے طلبہ نے زبان کی تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا، اس کے تاریخی آرکائیوز میں جناح کی تصاویر کو نمایاں جگہ کیوں دی گئی ہے۔ 14 ستمبر کو سابق طالب علم ابو طیب آرکائیو کے شعبے میں داخل ہوئے اور جناح کی تصاویر میں سے فریم توڑ کر تصاویر نکالیں اور انہیں پھاڑ دیا۔ انہوں نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے زبان کی تحریک اور 1971 کی جنگ آزادی کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ ایسی شخصیت کی تصاویر کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے تاریخی آرکائیو میں کیوں نمایاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے جناح کے 1948 کے زبان سے متعلق مؤقف اور اس دور کے طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو اپنے اعتراض کی بنیاد بنایا۔
اس واقعے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا۔ بعض طلبہ نے جناح اور جماعت اسلامی کے سابق امیر غلام اعظم کی تصاویر زمین پر رکھ کر ان پر پیر رکھے، جبکہ دوسرے طلبہ نے تاریخی مواد کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کی۔ یوں ایک ہی کیمپس میں دو مختلف ردعمل سامنے آئے؛ ایک فریق جناح کی تصویر کو بنگلہ دیش کی زبان اور آزادی کی تاریخ سے متصادم علامت سمجھ رہا تھا جبکہ دوسرا فریق تاریخی شخصیات اور دستاویزات کو محفوظ رکھنے کو ضروری قرار دے رہا تھا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے جناح کی تصاویر کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بطور ہیرو پیش کرنے کے لیے نہیں بلکہ تاریخی حقیقت کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق جناح کے تصویر کے ساتھ ان کا بنگالی زبان سے متعلق متنازع مؤقف بھی درج کیا گیا تھا تاکہ طلبہ تاریخ کے اس پہلو کو چھپانے کے بجائے سمجھ سکیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق تاریخی شخصیت کی تصویر دکھانے اور اس شخصیت کی سیاسی حمایت کرنے میں فرق ہے۔
دوسری طرف ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعض طلبہ اور اساتذہ تنظیموں نے نمائش پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آرکائیو میں شیخ مجیب الرحمن کی بعض نمایاں تصاویر کی عدم موجودگی اور جناح کی تصاویر کی شمولیت محض تاریخی انتخاب نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی و نظریاتی تناظر کا حصہ ہے۔یونیورسٹی ٹیچرز نیٹ ورک نے بھی اس معاملے پر اعتراض اٹھایا اور تاریخی مواد میں تبدیلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم مختلف فریق ان تبدیلیوں کی تشریح مختلف انداز میں کر رہے ہیں۔
یہاں اصل تاریخی تنازع دراصل محمد علی جناح کی شخصیت سے زیادہ اس سوال کا ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اپنی تاریخ کس انداز میں محفوظ اور پیش کرے۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ کسی تاریخی آرکائیو میں متنازع شخصیات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کو مکمل تاریخی پس منظر معلوم ہو، جبکہ دوسرا مؤقف یہ ہے کہ کسی مخصوص قومی تاریخی مقام پر کسی شخصیت کو نمایاں کرنا بذات خود ایک علامتی پیغام بن جاتا ہے اور اس کے انتخاب کا تعلق قومی یادداشت اور شناخت سے بھی جڑ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ محمد علی جناح اور بنگالی قوم پرستی کے درمیان سب سے حساس تاریخی رشتہ زبان کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ 1948 میں جناح کے ڈھاکہ کے دورے اور اردو کو پاکستان کی ریاستی زبان قرار دینے کے مؤقف کے بعد مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے حقوق کا سوال زیادہ نمایاں ہوا اور بالآخر 1952 کی زبان کی تحریک بنگالی قومی شعور کا ایک بنیادی حوالہ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بنگلہ دیش میں جناح کی تصویر کو بعض حلقے محض ایک تاریخی تصویر کے بجائے اس پورے سیاسی دور کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ڈھاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کو سنجیدہ لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور جناح کی تصاویر کی نمائش سمیت مختلف معاملات کی چھان بین کے لیے کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایسے افراد کی تصاویر کی نمائش جن کے کردار کو 1952 کی زبان کی تحریک اور 1971 کی جنگ آزادی کی تاریخ سے متصادم سمجھا جاتا ہے، قابلِ اعتراض ہے اور اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یوں ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائداعظم کی تصاویر کا تنازع اس بڑے سوال کی عکاسی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی مشترکہ تاریخ کے متنازع ابواب کو کس طرح یاد رکھنا چاہتا ہے۔ جناح برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے مرکزی کردار تھے، جبکہ زبان کی تحریک اور 1971 کی جنگ بنگلہ دیش کی قومی شناخت کے بنیادی ستون ہیں۔ اس لیے ایک جامع تاریخی آرکائیو کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ان تمام واقعات اور شخصیات کو ان کے مکمل تاریخی پس منظر کے ساتھ پیش کیا جائے، تاکہ کسی تصویر کو محض حمایت یا مخالفت کی علامت بنانے کے بجائے اسے تاریخ کو سمجھنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جا سکے۔
