27ستمبر:گولی نہیں، جال!پولیس شرپسند یوتھیوں کو کیسے پکڑے گی؟

فلموں میں سپائیڈر مین کو اپنے ہاتھ سے جال پھینک کر دشمن کو لمحوں میں قابو کرتے سب نے دیکھا ہے، لیکن اب اسی تصور سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی حقیقت میں پولیس کے استعمال میں بھی آ گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس کو مظاہرین اور ملزمان کو قابو کرنے کے لیے جدید غیر مہلک ہتھیار ’’نیٹ لانچر‘‘ فراہم کردیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد کسی شخص کو گولی مارنے یا براہِ راست جسمانی چوٹ پہنچانے کے بجائے اس کی نقل و حرکت محدود کرکے اسے گرفتار کرنا ہے۔ 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر پولیس کی جانب سے اس نئے آلے کی تیاری اور فراہمی سکیورٹی انتظامات میں ایک نئی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

نیٹ لانچر ایک ایسا آلہ ہے جس سے خصوصی جال فائر کیا جاتا ہے۔ جال ہدف کے قریب پہنچ کر پھیلتا ہے اور جسم کے گرد لپٹ کر اس کی حرکت محدود کردیتا ہے۔ اس کے بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچ کر متعلقہ شخص کو قابو کرکے حراست میں لے سکتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد خاص طور پر ایسے افراد کو روکنا ہے جو پولیس کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش کریں یا جنہیں فوری طور پر جسمانی تصادم کے بغیر قابو کرنا ضروری ہو۔

اس ٹیکنالوجی کو روایتی ہتھیاروں سے مختلف اس لیے سمجھا جارہا ہے کہ اس میں بنیادی طور پر ہدف کی نقل و حرکت روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پولیس کے لیے کسی شخص کو قابو کرنے کے دوران سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ گرفتاری کے عمل میں مزاحمت، بھگدڑ یا براہِ راست جسمانی تصادم نہ ہو۔ نیٹ لانچر اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں پولیس کسی شخص کو فاصلے سے روک کر اپنے اہلکاروں کو قریب جانے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

یہ آلہ بالخصوص ہنگامی حالات میں کارآمد ہوسکتا ہے۔ کسی احتجاج کے دوران اگر کوئی شخص پولیس حصار توڑ کر آگے بڑھنے یا فرار ہونے کی کوشش کرے تو اہلکار اسے براہِ راست پکڑنے کے بجائے مخصوص حالات میں نیٹ لانچر کے ذریعے اس کی نقل و حرکت روک سکتے ہیں۔ اسی طرح ایسے ملزمان جنہیں گرفتار کرنے کے لیے طویل تعاقب کی ضرورت پڑتی ہے، ان کے خلاف بھی یہ نظام استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار ہدف کے فاصلے، سمت، جال کے درست استعمال اور پولیس اہلکاروں کی تربیت پر ہوگا۔

پولیس کے لیے اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم پہلو اہلکاروں کی حفاظت بھی ہے۔ کسی مشتبہ شخص کو قابو کرنے کے لیے اہلکاروں کو براہِ راست اس کے قریب جانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے، جس سے تصادم کا امکان محدود کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی صورتحال میں طاقت کے زیادہ سخت ذرائع استعمال کرنے کے بجائے کسی شخص کو عارضی طور پر غیر متحرک کرنا ممکن ہو تو گرفتاری کا عمل نسبتاً مختلف انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے۔

تاہم ’’غیر مہلک‘‘ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے استعمال میں کوئی خطرہ موجود نہیں۔ کسی بھی جسمانی پابندی پیدا کرنے والے آلے کے استعمال میں ہدف کی جسمانی حالت، مقام، فاصلے اور جال کے صحیح استعمال کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر جال غلط انداز میں استعمال ہو، کسی شخص کے سر یا گردن کے قریب پھنس جائے یا ایسے مقام پر استعمال کیا جائے جہاں گرنے سے شدید چوٹ کا خطرہ ہو تو نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی مناسب تربیت اور واضح ضابطۂ کار بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں نیٹ لانچر کی فراہمی اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پہلے ہی سکیورٹی انتظامات سخت کیے جارہے ہیں۔ پولیس کی نفری، رکاوٹوں، نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ جدید غیر مہلک آلات کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس مختلف نوعیت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل میں اضافہ کررہی ہے۔ پولیس کے مطابق نیٹ لانچر کا مقصد گرفتاری کے عمل کو مؤثر بنانا اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف احتجاجی حالات تک محدود نہیں رہ سکتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اسی نوعیت کے جال پر مبنی آلات کو بعض حالات میں بھاگتے ہوئے افراد یا خطرناک جانوروں کو قابو کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ہر ملک اور ہر پولیس فورس کے لیے اس کے استعمال کے قواعد اور طریقۂ کار مختلف ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے اس کا استعمال اس حوالے سے ایک نئی پیش رفت ہے، جس کے عملی نتائج اس کے استعمال کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

یہ بھی اہم ہے کہ کسی احتجاج میں پولیس کا مقصد صرف گرفتاری کرنا نہیں بلکہ مجموعی طور پر امن و امان برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے نیٹ لانچر سمیت کسی بھی آلے کا استعمال حالات کے مطابق، ضرورت کے تحت اور مناسب احتیاط کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ پولیس کو براہِ راست جسمانی تصادم سے بچتے ہوئے بعض افراد کو قابو کرنے کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کرسکتا ہے، جبکہ غلط یا غیر ضروری استعمال اس ٹیکنالوجی کے بنیادی مقصد کو متاثر کرسکتا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق 27 ستمبر کے احتجاج کے دوران نیٹ لانچر پہلی مرتبہ استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے اس کا عملی استعمال بھی توجہ کا مرکز ہوگا کہ پولیس اسے کن حالات میں استعمال کرتی ہے، کس نوعیت کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور گرفتاری کے بعد جال سے متاثرہ شخص کو کس طریقے سے محفوظ طور پر قابو کیا جاتا ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی نئے سکیورٹی آلے کی افادیت کا تعین صرف اس کی تکنیکی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے ہوتا ہے۔

یوں سپائیڈر مین کا خیالی جال اب ایک حقیقی پولیس ٹیکنالوجی کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ نیٹ لانچر روایتی طاقت کے استعمال کا مکمل متبادل نہیں بلکہ پولیس کے لیے ایک اضافی غیر مہلک ذریعہ ہے، جس کے ذریعے بعض حالات میں کسی شخص کی نقل و حرکت روک کر اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی جدید ہے، بلکہ یہ ہے کہ 27 ستمبر کے حساس سیاسی اور سکیورٹی ماحول میں اسے کس حد تک محتاط، متناسب اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

Back to top button