مریم اور دیگر تین وزرائے اعلی کے جہازوں کا موازنہ

 

 

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس فضائی سفر کے لیے جدید ترین طیارے موجود ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز کے پاس 10 ارب روپے سے زائد مالیت کا قیمتی ترین جہاز موجود ہونے کے علاوہ ایک جہاز اور بھی ہے، جبکہ باقی تین وزرائے اعلیٰ کے استعمال میں دہائیوں پرانے جہاز یا ہیلی کاپٹر ہیں۔

 

چاروں صوبوں کے سرکاری فضائی اثاثوں کی دستیاب تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب اور باقی تین صوبوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ پنجاب حکومت کے پاس جدید گلف سٹریم جی 500 موجود ہے، جو 2025ء میں پاکستان پہنچا تھا اور اس کی قیمت تقریباً 10 ارب روپے سے زائد ہے، اس کے علاوہ ہاکر 400 ایکس پی طیارہ بھی ان کے استعمال میں ہے۔ پنجاب کے پاس یوں کم از کم دو فکسڈ وِنگ طیارے موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں سندھ کے پاس 2006ء میں تیار ہونے والا 20 سال پرانا لیئر جیٹ 45 جہاز اور دو ہیلی کاپٹرز ہیں، بلوچستان حکومت کے فضائی بیڑے میں 2012ء سے زیر استعمال 14 سال پرانا لیئر جیٹ 45 ایکس آر طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے یہ فضائی اثاثے پنجاب کے نئے گلف سٹریم جی 500 کے مقابلے میں خاصے پرانے اور تھکے ہوئے ہیں۔

 

خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ موجود نہیں جو کہ وزیر اعلی کے استعمال میں ہو۔ سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کے پاس 2010ء میں خریدا گیا 16 برس پرانا ایک سنگل انجن ہیلی کاپٹر ہے، جسے وزیراعلیٰ بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایک اور ہیلی کاپٹر سیلاب سے بچاؤ کی کارروائی کے دوران حادثے کا شکار ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے دو ہیلی کاپٹرز میں ایک ایم آئی 171 بھی شامل ہے جو اس وقت گراؤنڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ دوسرا سیسنا کاروان ہے۔ یوں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو فضائی سفر کی کسی نہ کسی شکل میں سہولت ضرور حاصل ہے، لیکن ان کے پاس موجود فضائی مشینری کی تعداد، نوعیت، عمر، گنجائش اور صلاحیت ایک جیسی نہیں۔

 

اس لیے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ “تمام وزرائے اعلیٰ کو بہترین فضائی سہولت حاصل ہے” ایک عمومی انتظامی حقیقت ہو سکتی ہے، مگر اس بنیاد پر یہ تاثر دینا کہ تمام صوبوں کے پاس یکساں یا جدید ترین طیارے موجود ہیں، حقائق مطابقت نہیں رکھتا۔

 

یاد رہے کہ پچھلے دنوں مریم نواز نے اپنی بیٹی کی لندن میں گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے پنجاب حکومت کے گلف سٹریم جی 500 پر سفر کیا تھا، جس کے بعد اس سرکاری طیارے کے نجی استعمال پر بحث شروع ہوئی۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف تھا کہ طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ کے منصب سے وابستہ سرکاری اثاثہ ہے اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی فضائی سفر کی سہولت حاصل ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو سرکاری طیارہ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

لندن کے اس سفر کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ نجی دورے کے فضائی اخراجات وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر ادا کیے اور 17 ستمبر کو 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔

 

اس ادائیگی سے مخصوص سفر کے اخراجات کا معاملہ واضح ہوتا ہے، تاہم گلف سٹریم جی 500 جیسے مہنگے سرکاری طیارے کی خریداری، دیکھ بھال، عملے، ہینگر، انشورنس اور دیگر مستقل اخراجات اپنی جگہ ایک الگ انتظامی معاملہ ہیں۔ چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی سہولت کی موجودگی اور جدید ترین طیارے کی دستیابی میں واضح فرق ہے۔ پنجاب کے پاس گلف سٹریم جی 500 سمیت دو فکسڈ وِنگ طیارے ہیں، سندھ کے پاس ایک لیئر جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر، بلوچستان کے پاس ایک لیئر جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر جبکہ خیبر پختونخوا کے پاس صرف ایک ہیلی کاپٹر اور کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں۔ اس لیے صوبائی فضائی بیڑے کو یکساں قرار دینے کے بجائے ہر صوبے کے اثاثوں کی نوعیت اور استعمال کو الگ الگ دیکھنا زیادہ درست تصویر پیش کرتا ہے۔

تہمینہ درانی نے مصطفی کھر کو کیسے بے نقاب کیا؟

اس معاملے میں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومتیں سرکاری فضائی اثاثوں کے استعمال کے لیے کیا قواعد و ضوابط اختیار کرتی ہیں اور سرکاری و نجی سفر کے اخراجات کا تعین کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے علاوہ ان کی مرمت، ایندھن، عملے، انشورنس اور سالانہ دیکھ بھال پر بھی سرکاری خزانے سے رقوم خرچ ہوتی ہیں، اس لیے ان اثاثوں کے استعمال اور اخراجات سے متعلق شفاف معلومات عوام کے سامنے ہونا اہم ہے۔ یوں مریم نواز کے اس مؤقف کا ایک حصہ درست ہے کہ دیگر صوبائی حکومتوں کے پاس بھی فضائی سفر کے لیے سرکاری وسائل موجود ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار یہ نہیں دکھاتے کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک جیسے یا یکساں جدید طیارے دستیاب ہیں۔ پنجاب کا نیا گلف سٹریم جی 500، سندھ اور بلوچستان کے نسبتاً پرانے لیئر جیٹس اور خیبر پختونخوا کا واحد ہیلی کاپٹر چاروں صوبوں کے فضائی وسائل کے درمیان موجود واضح فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

Back to top button