27ستمبر سے پہلے ہی وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت آمنے سامنے کیوں؟

خیبرپختونخوا اس وقت صرف بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نہیں بلکہ ایک شدید سیاسی کشمکش سے بھی گزر رہا ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کو روکنے کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات اور قانونی پابندیوں کی بات کر رہی ہے، تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اپنے احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے عزم پر قائم دکھائی دیتی ہے۔ گرفتاریوں، راستوں کی بندش، سخت سیاسی بیانات اور گورنر راج کی افواہوں نے وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی کشیدگی کی اس بڑھتی ہوئی شدت کا اثر آخر خیبرپختونخوا کے عام شہریوں پر کتنا پڑے گا؟

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد مارچ کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ وفاقی حکومت احتجاج کو روکنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات سخت کررہی ہے۔ صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات نے دونوں حکومتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ تحریک انصاف ان کارروائیوں کو سیاسی احتجاج کے خلاف حکومتی اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت امن و امان اور قانون کی عمل داری کو اپنی ذمہ داری قرار دیتی ہے۔

اسی صورتحال میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا، جس میں گرفتاریوں کے معاملے پر بحث کی گئی اور پولیس کے سربراہ و چیف سیکرٹری کو طلب کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور گورنر راج کی صورت میں اسے چیلنج کیا جائے گا۔ دوسری جانب گورنر راج کی افواہوں نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کردیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

وفاق اور صوبے کے درمیان اختلاف صرف احتجاج اور گرفتاریوں تک محدود نہیں بلکہ انتظامی اختیارات اور وفاقی افسران کی جواب دہی جیسے معاملات بھی اب سیاسی تنازع کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت وفاق سے آنے والے بعض افسران کے اختیارات کے حوالے سے قانون سازی پر غور کررہی ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت سے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے ایک بااختیار فوکل پرسن مقرر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی رابطے کی گنجائش موجود ہے، لیکن فریقین کے درمیان اعتماد اور نمائندگی کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔

خیبرپختونخوا میں احتجاج کا دائرہ تحریک انصاف تک بھی محدود نہیں۔ جماعت اسلامی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوامی معاشی مشکلات کے خلاف ہے۔ دوسری طرف صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی تنخواہوں اور سروس اسٹرکچر سے متعلق مطالبات کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ یوں ایک ہی وقت میں سیاسی، معاشی اور انتظامی نوعیت کے متعدد احتجاج سامنے آرہے ہیں۔

اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، امن و امان، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان مسلسل محاذ آرائی سے انتظامی معاملات متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے اور سیاسی کشیدگی کے باعث عوام کے حقیقی مسائل مزید پس منظر میں جاسکتے ہیں۔

27 ستمبر کا احتجاج اب اس کشمکش کا اہم مرحلہ بن چکا ہے۔ وفاقی حکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت کررہی ہے جبکہ صوبائی حکمران جماعت اپنے کارکنوں کو متحرک کررہی ہے۔ ایسے ماحول میں گرفتاریوں، راستوں کی بندش اور سیاسی بیانات سے کشیدگی بڑھنے کے بجائے اگر فریقین مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کو ترجیح دیں تو صورتحال کو سیاسی دائرے میں رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود صوبے کے بنیادی مسائل نظرانداز نہ ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات، امن و امان، صحت، تعلیم، روزگار اور مہنگائی جیسے معاملات فوری توجہ چاہتے ہیں۔ سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اس اختلاف کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل ہونا ایک الگ مسئلہ ہے۔ آنے والے دنوں میں 27 ستمبر کی سرگرمیاں اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطے اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ سیاسی کشمکش کس سمت آگے بڑھتی ہے اور کیا دونوں حکومتیں اختلافات کو تصادم کے بجائے آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

Back to top button