سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والے ایک بار پھرFBRکے نشانے پر

سوشل میڈیا اب صرف تفریح، رابطے اور اظہارِ رائے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ لاکھوں افراد کے لیے آمدن کا باقاعدہ وسیلہ بن چکا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر مواد تیار کرکے کمانے والے افراد اب پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک الگ اور واضح دائرے میں آتے جا رہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے رہائشی افراد کے لیے انکم ٹیکس قواعد میں خصوصی طریقہ کار متعارف کراتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ڈیجیٹل آمدن کو بھی باقاعدہ طور پر ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔ نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن کا حساب ویوز، حقیقی طور پر حاصل ہونے والی رقم اور دیگر مالی فوائد کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ قابل قبول اخراجات کی زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی اجازت ہوگی۔ اس پیش رفت سے پاکستان میں ڈیجیٹل تخلیق کاروں، انفلوئنسرز، یوٹیوبرز اور آن لائن مواد سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس معاملات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز میں نیا باب شامل کرتے ہوئے پاکستان میں سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے رہائشی افراد کے لیے ٹیکس کے حوالے سے خصوصی طریقہ کار وضع کیا ہے۔ نئے قواعد کا اطلاق ایسے افراد پر ہوگا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کے ٹیکس قوانین کے تحت رہائشی تصور ہوتے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور اس کے حساب کتاب کا ایک مخصوص طریقہ متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن میں سے قابل قبول کاروباری یا متعلقہ اخراجات کی زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی جاسکے گی۔ اس کے بعد باقی رقم کی بنیاد پر قابل ٹیکس آمدن کا تعین کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کو اپنی آمدن کے ساتھ ساتھ ان اخراجات کا ریکارڈ بھی رکھنا ہوگا جو ان کے ڈیجیٹل کام سے براہ راست متعلق ہوں اور قواعد کے تحت قابل قبول قرار پائیں۔

سوشل میڈیا آمدن کا تعین بھی روایتی تنخواہ یا کاروباری آمدن سے مختلف انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق مجموعی آمدن کے حساب میں سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والے ویوز اور حقیقی طور پر حاصل ہونے والی آمدن دونوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ بعض صورتوں میں فی ہزار ویوز حاصل ہونے والی آمدن بھی حساب کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس طرح صرف بینک اکاؤنٹ میں موصول ہونے والی رقم ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا مواد کی کارکردگی اور اس سے پیدا ہونے والی آمدنی کے مختلف ذرائع بھی ٹیکس کے حساب میں شامل ہوسکتے ہیں۔

یہاں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آمدن صرف نقد رقم تک محدود نہیں رکھی گئی۔ اگر کسی سوشل میڈیا تخلیق کار کو اپنی خدمات، مواد یا تشہیری سرگرمی کے بدلے نقد رقم کے بجائے کسی اور شکل میں معاوضہ ملتا ہے تو اسے بھی آمدن کے حساب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں مختلف نوعیت کے مالی یا غیر نقد فوائد شامل ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ قواعد کے دائرے میں آمدن تصور ہوں۔ اس شق کے باعث سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے اپنی تمام آمدنی اور معاوضوں کا درست ریکارڈ رکھنا مزید اہم ہوجاتا ہے۔

نئے قواعد میں سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس کی ادائیگی کا طریقہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ یعنی متعلقہ افراد کو سال کے اختتام پر صرف ایک مرتبہ ٹیکس کی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے مقررہ سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس طریقہ کار کا مقصد ٹیکس وصولی کو پورے سال میں تقسیم کرنا اور آمدن حاصل کرنے والے افراد کو اپنی ٹیکس ذمہ داری مسلسل بنیادوں پر پوری کرنے کا پابند بنانا ہے۔

اسی طرح انکم ٹیکس ریٹرن میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو الگ حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیجیٹل آمدن کو دیگر ذرائع آمدن میں چھپا کر یا غیر واضح انداز میں ظاہر کرنے کے بجائے اسے مخصوص طریقے سے ڈیکلئر کرنا ہوگا۔ اگر کسی شخص کی جانب سے ظاہر کی گئی آمدن ایف بی آر کے مقرر کردہ طریقہ کار یا دستیاب شواہد سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو متعلقہ کمشنر کو اس آمدن کی درستگی کا اختیار حاصل ہوگا۔

نئے قواعد میں کم آمدن ظاہر کرنے کے معاملے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اگر کسی سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے فرد کی حقیقی آمدن مقررہ حساب یا دستیاب معلومات کے مقابلے میں کم ظاہر ہوتی ہے تو اسے اپنی کم آمدن کا ثبوت کمشنر کو فراہم کرنا ہوگا۔ اس کا مقصد ایسے معاملات میں آمدن چھپانے یا کم ظاہر کرنے کے امکانات کو محدود کرنا ہے، خصوصاً اس وقت جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کا اندازہ ویوز اور دیگر دستیاب معلومات سے بھی لگایا جاسکتا ہو۔

ان قواعد کا دائرہ صرف ایک مخصوص پلیٹ فارم تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا مواد اور معاوضہ حاصل کرنے والے مواد کو بھی اس نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح یوٹیوب ویڈیوز، آن لائن مواد، تشہیری سرگرمیوں اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کے مختلف ماڈلز نئے ٹیکس فریم ورک کے دائرے میں آسکتے ہیں۔

پاکستان میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والی صنعت گزشتہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ بہت سے نوجوان روایتی ملازمت یا کاروبار کے بجائے سوشل میڈیا کو آمدن کے ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ بعض افراد اشتہارات، برانڈز کے ساتھ معاہدوں، ویڈیو مونیٹائزیشن، اسپانسرڈ مواد اور دیگر ذرائع سے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ نئے قواعد کے بعد ان افراد کے لیے صرف مواد تخلیق کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ آمدن، اخراجات، ادائیگیوں اور ٹیکس ذمہ داریوں کا مناسب حساب رکھنا بھی ضروری ہوجائے گا۔

خاص طور پر چھوٹے ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے یہ سمجھنا اہم ہوگا کہ مجموعی آمدن اور قابل ٹیکس آمدن میں کیا فرق ہے، کون سے اخراجات قواعد کے تحت قابل قبول ہیں اور 30 فیصد تک کٹوتی کی شرط کس طرح لاگو ہوتی ہے۔ اسی طرح بیرون ملک موجود پلیٹ فارمز یا غیر ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن رکھنے والے افراد کو بھی اپنے مخصوص حالات کے مطابق ٹیکس قوانین اور اپنی رہائشی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔

ایف بی آر کی یہ پیش رفت دراصل پاکستان کے ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل معیشت کو زیادہ واضح طور پر شامل کرنے کی کوشش بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے جیسے روایتی کاروبار کے ساتھ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مواد سے آمدن بڑھ رہی ہے، ٹیکس حکام کے لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وہ آمدن کے نئے ذرائع کے لیے واضح قواعد مرتب کریں۔ تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ قواعد عام سوشل میڈیا صارف اور پیشہ ورانہ طور پر آمدن حاصل کرنے والے تخلیق کار کے درمیان فرق کو کس حد تک واضح رکھتے ہیں، ٹیکس دہندگان کو عملی رہنمائی کتنی فراہم کی جاتی ہے اور آمدن کے تعین کا طریقہ کار کس حد تک شفاف اور قابلِ فہم رہتا ہے۔

سوشل میڈیا سے کمانے والوں کے لیے اب بنیادی پیغام یہی ہے کہ ڈیجیٹل آمدن کو بھی باقاعدہ مالی آمدن سمجھتے ہوئے اس کا مکمل ریکارڈ رکھنا ہوگا۔ کتنی رقم پلیٹ فارم سے حاصل ہوئی، کتنی اسپانسرشپ سے ملی، کس شکل میں معاوضہ ملا، کتنے اخراجات ہوئے اور ٹیکس ریٹرن میں کیا ظاہر کیا گیا، یہ تمام معلومات مستقبل میں اہم ہوسکتی ہیں۔ نئے قواعد کے بعد ڈیجیٹل آمدن کو نظر انداز کرنا یا اسے غیر رسمی آمدن سمجھنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یوں ایف بی آر کا نیا طریقہ کار پاکستان میں سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتی ہوئی کمائی اب ٹیکس نظام سے باہر ایک غیر واضح شعبہ نہیں رہے گی بلکہ اسے باقاعدہ قواعد، آمدن کے حساب، اخراجات کی کٹوتی، سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس اور سالانہ ریٹرن کے ذریعے دستاویزی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ یہ قواعد عملی طور پر کس طرح نافذ ہوتے ہیں اور حکومت ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے ساتھ ٹیکس نظام کو کس حد تک آسان، واضح اور مؤثر بناتی ہے۔

Back to top button