حکومت نے توشہ خانہ میں لوٹ مار کو ناممکن کیسے بنایا؟

سرکاری عہدہ ہو، غیر ملکی دورہ ہو یا کسی اہم شخصیت کی جانب سے ملنے والا قیمتی تحفہ، اب اسے ذاتی ملکیت بنانے کا راستہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے لیے نئے قواعد نافذ کرتے ہوئے تحائف کی وصولی، جمع کرانے، قیمت لگانے اور نیلامی کا پورا نظام مزید سخت کردیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت تحفہ وصول کرنے کے بعد اسے 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا، جبکہ کھلی عوامی نیلامی سال میں ترجیحاً دو مرتبہ ہوگی اور کم از کم ایک نیلامی لازمی قرار دی گئی ہے۔ سرکاری عہدیدار اور ان کے خاندان کے افراد نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جبکہ تحائف کا ریکارڈ اور تصاویر ویب پورٹل پر بھی جاری کی جائیں گی۔ یوں توشہ خانہ ایک بار پھر محض سرکاری تحائف رکھنے کی جگہ نہیں بلکہ شفافیت، جواب دہی اور ریاستی وسائل کے استعمال سے متعلق ایک اہم نظام کے طور پر سامنے آگیا ہے۔

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 نافذ کرتے ہوئے سرکاری عہدیداروں کو ملنے والے تحائف کے حوالے سے کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ نئے قواعد کا مقصد تحائف کی وصولی اور ان کے انتظام کو ایک واضح قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت لانا اور اس عمل میں ممکنہ بے ضابطگیوں کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔ وزیراعظم اور صدر مملکت کے علاوہ دیگر سرکاری عہدیداروں کی جانب سے تحائف وصول کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، جبکہ سفارتی آداب یا سرکاری ذمہ داری کے باعث تحفہ لینا ضروری ہو تو اسے مقررہ مدت میں توشہ خانہ کے حوالے کرنا ہوگا۔

نئے قواعد کے مطابق تحفہ وصول کرنے کے بعد اسے 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہوگا۔ بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر ملنے والے تحائف کے لیے بھی 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ مخصوص صورت میں الگ جہاز سے آنے والے تحفے کے لیے 60 دن تک کی مہلت دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی سرکاری تحفے کو طویل عرصے تک متعلقہ عہدیدار کی تحویل میں رکھنے کے بجائے فوری طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

توشہ خانہ کے نئے نظام میں سب سے نمایاں تبدیلی کھلی عوامی نیلامی کا طریقہ کار ہے۔ نئے قواعد کے تحت نیلامی ترجیحاً سال میں دو مرتبہ کی جائے گی جبکہ کم از کم ایک مرتبہ نیلامی لازمی ہوگی۔ نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج کی بھی اجازت ہوگی، جس سے اس عمل کو عوامی سطح پر زیادہ نمایاں اور قابلِ نگرانی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری عہدیداروں اور ان کے خاندان کے افراد کو نیلامی میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے تاکہ تحائف کی خریداری کے عمل میں براہ راست مفادات کے امکانات کم کیے جاسکیں۔

تاہم تمام تحائف نیلامی کے لیے پیش نہیں کیے جائیں گے۔ ثقافتی، تاریخی اور سفارتی حساسیت رکھنے والی اشیا کو محفوظ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت سے متعلق ڈویژنوں کے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔ کمیٹی یہ طے کرے گی کہ کون سا تحفہ نیلامی کے قابل ہے اور کون سی شے اپنی تاریخی، ثقافتی یا سفارتی اہمیت کے باعث سرکاری تحویل میں محفوظ رکھی جانی چاہیے۔

تحائف کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے قواعد کے تحت تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور نجی تخمینہ کاروں کے ذریعے طے کی جائے گی۔ اگر مختلف تخمینوں میں مقررہ حد سے زیادہ فرق سامنے آئے تو تیسرے تخمینہ کار کی رائے کو حتمی حیثیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ قیمت کے تعین میں مصنوعی ذہانت سے بھی مدد حاصل کی جاسکے گی۔ ہتھیاروں کی قیمت مقرر کرنے کی ذمہ داری پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کو دی گئی ہے۔

یہ طریقہ کار خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ کسی تحفے کی اصل مالیت کا تعین پورے نظام کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اگر قیمت کم یا زیادہ مقرر ہو تو اس کے نتیجے میں نیلامی اور دیگر مالی معاملات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ نئے قواعد میں ایک سے زیادہ تخمینہ کاروں اور مخصوص اداروں کو شامل کرکے قیمت کے تعین کے عمل کو زیادہ منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

توشہ خانہ کے تحائف کے ریکارڈ کو بھی زیادہ باقاعدہ بنایا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت تمام تحائف کا ریکارڈ اور ان کی تصاویر ویب پورٹل پر شائع کی جائیں گی۔ تاہم تحفہ دینے والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح تحفے کی نوعیت اور موجودگی سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لانے کے ساتھ سفارتی حساسیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

نئے قواعد میں تحائف کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ توشہ خانہ کے اسٹور روم کی ذمہ داری گریڈ 20 کے افسر کو دی جائے گی، جبکہ اسٹور روم میں سی سی ٹی وی کیمرے اور مناسب تالہ بندی لازمی ہوگی۔ سیٹ کی شکل میں موصول ہونے والے تحائف کو الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا بلکہ مکمل سیٹ کے طور پر نیلام کیا جائے گا، تاکہ تحفے کی اصل حیثیت اور مجموعی ساخت برقرار رہے۔

گریڈ ایک سے چار تک کے سرکاری ملازمین کے لیے نقد انعام کے حوالے سے الگ رعایت بھی رکھی گئی ہے۔ وہ نقد انعام اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ اس کے برعکس دیگر سرکاری تحائف کے لیے مقررہ طریقہ کار کی پابندی لازم ہوگی۔ اگر کوئی عہدیدار مقررہ مدت کے اندر تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہیں کراتا تو اس کے خلاف عدالت میں شکایت درج کرانے کی گنجائش بھی نئے قواعد میں رکھی گئی ہے۔

توشہ خانہ کے نئے قواعد میں ایک اور اہم پہلو نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال ہے۔ نئے نظام کے تحت تحائف کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری تحائف کو کسی فرد کی ذاتی ملکیت بنانے کے بجائے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ایک عوامی مقصد کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر توشہ خانہ کے 2026 کے نئے قواعد سرکاری تحائف کے نظام کو کئی سطحوں پر تبدیل کرتے ہیں۔ تحفہ وصول کرنے کی حوصلہ شکنی، 30 دن کے اندر جمع کرانے کی شرط، سال میں کم از کم ایک کھلی نیلامی، سرکاری عہدیداروں اور ان کے خاندان کے افراد کی نیلامی میں شرکت پر پابندی، قیمت کے تعین کے لیے متعدد ذرائع، ویب پورٹل پر ریکارڈ اور تصاویر کی اشاعت اور تحائف کی محفوظ نگرانی ایسے اقدامات ہیں جو اس نظام کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم کسی بھی نئے ضابطے کی اصل آزمائش اس کے عملی نفاذ میں ہوتی ہے۔ قواعد کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، ان کی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب ان پر بلاامتیاز عمل ہو، تحائف بروقت جمع ہوں، قیمتوں کا تعین قابلِ جانچ طریقے سے کیا جائے، نیلامیاں باقاعدگی سے منعقد ہوں اور عوام کو فراہم کی جانے والی معلومات مکمل اور بروقت ہوں۔ توشہ خانہ کے نئے قواعد نے ایک واضح فریم ورک ضرور قائم کردیا ہے، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ فریم ورک عملی طور پر کس حد تک شفافیت، جواب دہی اور اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔

توشہ خانہ کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف تحائف کی خرید و فروخت کا مسئلہ نہیں بلکہ سرکاری عہدے، سفارتی روایات، ریاستی ملکیت اور عوامی اعتماد سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ نئے قواعد کے بعد اب سرکاری تحائف کے پورے سفر کو زیادہ واضح انداز میں ضابطے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آنے والے عرصے میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ 30 دن کی شرط، باقاعدہ نیلامی، قیمت کے تعین اور عوامی ریکارڈ کی اشاعت جیسے اقدامات عملی طور پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور توشہ خانہ کا نظام کس حد تک زیادہ قابلِ نگرانی اور جواب دہ بن پاتا ہے۔

Back to top button