ڈیانا کا ڈاکٹر حسنات سے شادی کا منصوبہ کیا تھا؟

شہزادی ڈیانا کی المناک موت کے 30 برس بعد ان کے بھائی نے اپنی نئی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ان کی بہن پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ شادی کرکے جنوبی افریقہ منتقل ہونا چاہتی تھیں، تاہم موت نے انہیں ایسا کرنے کی مہلت نہ دی۔ ڈاکٹر حسنات نے ڈیانا کی موت کے بعد پاکستان میں ایک شادی کی جو زیادہ عرصہ نہ چلی اور طلاق پر منتج ہوئی۔ آج کل ڈاکٹر حسنات لاہور میں ایک بڑے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ میں شہزادی ڈیانا کا نام ایسی شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جن کی زندگی محبت، شاہی ذمہ داریوں، میڈیا کی غیر معمولی توجہ اور ذاتی مشکلات کے درمیان گزری۔ ان کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی نجی زندگی سے متعلق نئے دعوے اور انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب ڈیانا کے چھوٹے بھائی چارلس سپینسر کی نئی کتاب نے ان کی زندگی کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی ہے جس کے مطابق ڈیانا پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھیں اور برطانیہ چھوڑ کر جنوبی افریقہ منتقل ہونے کے امکان پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی تھیں۔
چارلس سپینسر کی کتاب "ڈیانا، میری بہن” میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق 1997ء میں ڈیانا کی زندگی مسلسل میڈیا کی توجہ اور شاہی خاندان سے وابستہ دباؤ کے باعث انتہائی مشکل ہوچکی تھی۔ وہ شہرت اور شاہی زندگی کے غیر معمولی دباؤ سے دور ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھیں جہاں نسبتاً معمول کی زندگی گزار سکیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ مارچ 1997ء میں اپنے بھائی سے ملنے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن گئی تھیں اور کتاب کے مطابق اس سفر کے دوران انہوں نے یہ جائزہ بھی لیا کہ آیا جنوبی افریقہ ان کے اور ڈاکٹر حسنات خان کے لیے مستقبل میں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے موزوں جگہ ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ ڈیانا کے تعلقات تب عالمی میڈیا میں بھی خاصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ چارلس سپینسر کے مطابق ڈیانا اس تعلق کو محض ایک وقتی وابستگی نہیں سمجھتی تھیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے بھی سنجیدہ خیالات رکھتی تھیں۔ اس منصوبے کے مطابق اگر ڈاکٹر حسنات کو جنوبی افریقہ میں مناسب پیشہ ورانہ موقع مل جاتا تو دونوں وہاں نسبتاً پرسکون زندگی گزار سکتے تھے۔ اسی سلسلے میں ڈیانا نے جنوبی افریقہ کے معروف ماہر قلب ڈاکٹر کرسٹیان برنارڈ سے بھی رابطہ کیا۔ ڈاکٹر برنارڈ جنوبی افریقہ میں طب کے شعبے کی معروف شخصیت تھے اور کیپ ٹاؤن کے گروٹ شور ہسپتال سے وابستہ رہے تھے۔
کتاب کے مطابق ڈیانا کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر حسنات خان کو اسی ہسپتال میں جاب مل جائے تاکہ دونوں کے لیے جنوبی افریقہ میں ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی جاسکے۔ تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ 1997ء ہی میں ڈیانا کی زندگی اچانک ایک ایسے حادثے کا شکار ہوگئی جس نے دنیا بھر کو سوگوار کردیا۔ 31 اگست 1997ء کو پیرس میں ایک کار حادثے کے نتیجے میں شہزادی ڈیانا انتقال کرگئیں اور یوں ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ شادی اور جنوبی افریقہ منتقل ہونے کے منصوبے ادھورے رہ گئے۔
چارلس سپینسر نے کتاب میں اپنی ڈیانا کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بھی یادیں بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق 1981ء میں شہزادہ چارلس سے شادی سے قبل ڈیانا کے ذہن میں یہ خدشہ موجود تھا کہ شاید چارلس ان سے محبت نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے والد سے بھی اس بارے میں بات کی اور ایک موقع پر منگنی ختم کرنے کے بارے میں سوچا، تاہم بالآخر دونوں کی شادی ہوگئی۔ بعد کے برسوں میں دونوں کی ازدواجی زندگی شدید مشکلات سے دوچار ہوئی خصوصا جب ڈیانا کو پتہ چلا کہ شہزادہ چارلس تو کمیلہ پارکر سے محبت کرتے ہیں۔ چنانچہ دونوں کی شادی بالآخر علیحدگی اور پھر طلاق پر منتج ہوئی۔
سپینسر کے مطابق ڈیانا نے زندگی کے آخری برسوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ انگلینڈ کے ساحلی علاقے بیچی ہیڈ کا رخ بھی کیا، جہاں بلند چٹانیں واقع ہیں۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مواقع پر ڈیانا کے ذہن میں اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات بھی آئے، تاہم اپنے دونوں بیٹوں سے گہری محبت نے انہیں انتہائی قدم اٹھانے سے روک دیا۔
یہ تفصیلات ان کی نجی زندگی میں پائے جانے والے شدید جذباتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا ذکر ڈیانا سے متعلق مختلف کتابوں اور یادداشتوں میں بھی ہوتا رہا ہے۔ سپینسر نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک ملاقات کے دوران ڈیانا نے انہیں بتایا کہ وہ شہزادہ چارلس سے طلاق لینے والی ہیں۔ جب سپینسر نے انہیں متنبہ کیا کہ عوام شاید اس فیصلے کو آسانی سے قبول نہ کریں تو کتاب کے مطابق ڈیانا نے اپنے شوہر کے ایک ذاتی خادم سے متعلق ایک غیر معمولی بات کہی۔ سپینسر کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ڈیانا کس شخص کا ذکر کر رہی تھیں اور یہ بات انہیں غیر معمولی محسوس ہوئی۔
ڈیانا کی زندگی کے آخری ہفتوں سے متعلق ایک واقعہ بھی کتاب میں شامل ہے۔ یکم جولائی 1997ء کو ان کی 36ویں سالگرہ تھی اور اس موقع پر ایک عزیز نے انہیں پھولوں کا گلدستہ بھیجا۔ سپینسر کے مطابق ڈیانا نے پھولوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی پھولوں سے بھرے گھر کو جنازہ گاہ سے تشبیہ دی۔ اس واقعے کے تقریباً دو ماہ بعد 31 اگست کو پیرس میں کار حادثے میں ان کی موت ہوگئی۔
کتاب کی اشاعت کے بعد شاہی محل کی جانب سے برسوں پرانے واقعات اور ذاتی یادداشتوں کو بیان کرتے ہوئے احتیاط کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ محل کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ کسی قریبی عزیز کی موت کا غم انسان کی سوچ، فیصلہ سازی اور یادداشت پر اثر انداز ہوسکتا ہے، جبکہ کئی برس گزرنے کے بعد ماضی کے واقعات کو یاد کرنے کا انداز بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
کیا وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا سکتی ہے؟
شہزادی ڈیانا کی زندگی آج بھی دنیا بھر میں غیر معمولی دلچسپی کا موضوع ہے۔ ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ ان کا تعلق، جنوبی افریقہ منتقل ہونے کا مبینہ منصوبہ، شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات، ازدواجی زندگی کی مشکلات اور زندگی کے آخری برسوں کے حالات ایسے موضوعات ہیں جن پر مختلف کتابوں اور یادداشتوں میں متعدد دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ چارلس اسپینسر کی نئی کتاب نے بھی ڈیانا کی نجی زندگی کے انہی پہلوؤں کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
