افغانستان میں بغاوت پھوٹ پڑی، مزاحمتی تحریکوں کی کارروائیاں تیز

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود ملک میں سکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے کے بجائے ایک بار پھر مسلح مزاحمت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ خاص طور پر بدخشاں میں طالبان اور مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ اور مختلف صوبوں میں مزاحمتی کارروائیوں نے اس دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ افغانستان میں مکمل امن اور سکیورٹی قائم ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی 2026 کے دوران افغانستان میں 2 ہزار 947 سکیورٹی واقعات ریکارڈ ہوئے، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے مطابق مخالف مسلح گروہ اب بھی منتشر ہیں اور ان کی کارروائیاں طالبان کے ملک گیر کنٹرول کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں بن سکیں۔
اس کے باوجود مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران 14 مسلح مخالف گروہوں نے 21 صوبوں میں 88 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں سے 55 کی اقوام متحدہ نے تصدیق کی۔ ان کارروائیوں میں زیادہ تر طالبان کی چیک پوسٹوں، اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کو پورے ملک پر انتظامی اور علاقائی کنٹرول حاصل ہونے کے باوجود بعض علاقوں میں مسلح مزاحمت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
بدخشاں اس نئی صورتحال کا اہم مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور یونائیٹڈ فرنٹ سمیت مختلف گروہوں نے اگست میں طالبان کے خلاف درجنوں کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق صرف تین بڑے مخالف گروہوں نے ایک ماہ کے دوران کم از کم 50 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ ان کارروائیوں میں بدخشاں کے علاوہ قندوز، کابل، ہلمند، قندھار، فاریاب، ہرات اور دیگر صوبے بھی شامل رہے۔ تاہم ان گروہوں کی جانب سے جانی نقصان کے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
مزاحمت کی نوعیت میں بھی تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ بعض گروہوں نے روایتی چھاپہ مار کارروائیوں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کی جانب بڑھنے کا اعلان کیا ہے۔ بدخشاں کے زیبک اور یفتل جیسے علاقوں میں طالبان اور مخالف گروہوں کے درمیان براہ راست جھڑپوں کی اطلاعات اس تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ طالبان نے بھی ان علاقوں میں اپنی فورسز کی موجودگی بڑھائی ہے اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔
اس صورتحال میں احمد مسعود کی قیادت میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور سمیع سادات کی قیادت میں یونائیٹڈ فرنٹ سمیت مختلف دھڑے اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔ تاہم یہ تمام گروہ ایک متحد سیاسی یا عسکری محاذ کی صورت میں سامنے نہیں آئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی ان گروہوں کو منتشر اور غیر مرکزی قرار دیتی ہے، جس کے باعث ان کی کارروائیوں میں اضافہ تو دکھائی دیتا ہے لیکن طالبان کے مجموعی علاقائی کنٹرول کو اب تک کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
افغانستان کی اس بدلتی سکیورٹی صورتحال کا اثر اس کے ہمسایہ ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ بالخصوص تاجکستان سے ملحقہ بدخشاں میں بڑھتی سرگرمیوں نے سرحدی سکیورٹی کو اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ خطے کے ممالک افغانستان سے ممکنہ عسکریت پسندی، دراندازی اور سرحد پار خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی تیاریوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں تاجکستان سمیت اجتماعی سلامتی معاہدے کی تنظیم کے رکن ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں بھی علاقائی سکیورٹی خدشات کے پس منظر میں اہم سمجھی جارہی ہیں۔
یوں افغانستان کی موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف طالبان ملک بھر میں سکیورٹی اور اپنے انتظامی کنٹرول کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مختلف مسلح گروہوں کی بڑھتی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے بعض حصوں میں مزاحمت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ تاہم اقوام متحدہ کے اعداد و شمار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود وہ اس وقت طالبان کے مجموعی کنٹرول کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مزاحمتی سرگرمیاں محدود علاقائی جھڑپوں تک رہیں گی یا آنے والے عرصے میں مختلف مخالف گروہ زیادہ منظم انداز میں ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار استحکام کا انحصار صرف عسکری کنٹرول پر نہیں بلکہ سیاسی شمولیت، معاشی حالات، بنیادی سہولیات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی ہے۔ موجودہ حالات میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی واقعات اور مسلح مزاحمت اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتے ہیں کہ افغانستان کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
