کیا وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا سکتی ہے؟

خیبرپختونخوا میں 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ گورنر راج کی بحث بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایک طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر راج سمیت تمام قانونی راستوں پر غور کی بات کی، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بعد ازاں واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں یہ سوال برقرار ہے کہ آیا گورنر راج کا ذکر محض آئینی اختیار کی نشاندہی ہے یا صوبائی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان اختلافات صرف اسلام آباد مارچ تک محدود نہیں رہے بلکہ صوبائی انتظامیہ، پولیس کے اختیارات اور وفاق سے آنے والے افسران کی جواب دہی جیسے معاملات بھی تنازع کا حصہ بن رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی افسران کے حوالے سے قانون سازی کی کوشش اور وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات نے سیاسی محاذ آرائی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
آئینی طور پر ایمرجنسی سے متعلق آرٹیکل 232 کے تحت ایسی صورتحال میں وفاقی سطح پر مخصوص اختیارات استعمال کیے جاسکتے ہیں جب صدر یہ سمجھیں کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی موجود ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہے۔ آئین اس عمل کے لیے پارلیمانی منظوری کا طریقہ بھی متعین کرتا ہے۔ تاہم محض سیاسی اختلاف یا احتجاج اپنے آپ میں گورنر راج کے نفاذ کی خودکار بنیاد نہیں بنتا؛ اس کے لیے آئینی تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کا مؤقف ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے لیے مطلوبہ آئینی و قانونی جواز موجود نہیں، جبکہ وفاقی حکومت سے وابستہ بعض شخصیات اسے دستیاب آئینی راستوں میں شمار کرتی رہی ہیں۔ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی 24 ستمبر کو گورنر راج کی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال نہ اس کی ضرورت ہے اور نہ ایسا کوئی اقدام زیر غور ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات کبھی اس نوعیت کا تقاضا کریں تو کوئی بھی قدم آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہی اٹھایا جائے گا۔
سیاسی طور پر اس معاملے کی حساسیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ گورنر راج کا محض تذکرہ بھی وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کے بحران کو بڑھا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے اسے سیاسی دباؤ یا صوبائی حکومت کے خلاف اقدام کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ وفاقی حکومت اسے امن و امان اور آئینی اختیارات کے تناظر میں دیکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے گورنر راج کی واضح تردید کے باوجود یہ موضوع سیاسی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال میں اصل امتحان 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی رابطے کا ہے۔ وفاقی حکومت مذاکرات کی بات کررہی ہے، جبکہ تحریک انصاف اپنے احتجاجی پروگرام پر قائم ہے۔ ایسے میں گورنر راج جیسے انتہائی آئینی اقدام کی بحث سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دونوں جانب سے سیاسی اور آئینی راستے کھلے رکھے جائیں تاکہ اختلاف انتظامی تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
ماضی میں بھی پاکستان میں گورنر راج سیاسی تنازعات کے دوران استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کسی بھی ایسے اقدام کے سیاسی اور آئینی اثرات دور تک جا سکتے ہیں۔ اس لیے گورنر راج کو فوری طور پر ایک طے شدہ فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال دستیاب بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی دباؤ، قانونی اختیارات اور 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں زیر بحث ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر اس کے نفاذ کی تردید بھی سامنے آچکی ہے۔
آخرکار معاملہ صرف گورنر راج کے امکان کا نہیں بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان آئینی حدود، سیاسی اختیار اور باہمی اعتماد کا ہے۔ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، امن و امان اور معاشی مشکلات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں سیاسی کشیدگی کا اگلا مرحلہ اس بات کا امتحان ہوگا کہ فریقین اختلافات کو کس حد تک مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے اندر رکھتے ہیں اور کیا 27 ستمبر کا معاملہ کسی بڑے انتظامی یا سیاسی تصادم کے بجائے سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
