PTI احتجاج:کون کون سے شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے والی ہے؟

27 ستمبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد، راولپنڈی اور گرد و نواح میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نے سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پنجاب کے چار اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری، راولپنڈی اور اٹک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز محدود یا معطل کرنے کی درخواست، پولیس نفری میں اضافہ، آنسو گیس کے بڑے ذخیرے، کنٹینرز سے اہم راستوں کی بندش اور اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت نے 27 ستمبر کی متوقع سیاسی سرگرمی کے لیے وسیع پیمانے پر سیکیورٹی منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ تاہم دوسری جانب موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے حوالے سے حتمی وفاقی منظوری اس وقت تک سامنے نہیں آئی تھی، اس لیے درخواست اور حتمی فیصلے میں فرق برقرار ہے۔
پنجاب حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کرکے راولپنڈی اور اٹک کے مختلف علاقوں میں 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو محدود کرنے یا بعض مقامات پر مکمل طور پر معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔ راولپنڈی کے مخصوص علاقوں میں مختلف موبائل نیٹ ورکس کو محدود کرنے جبکہ بعض مقامات پر صبح 9 بجے سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اٹک کے پورے ضلع میں بھی 27 ستمبر سے تاحکم ثانی موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اقدام کی وجہ متوقع احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کو قرار دیا گیا ہے۔
مواصلاتی سروسز محدود کرنے کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے اثرات صرف احتجاج کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری، کاروباری ادارے، مسافر، طلبہ اور ہنگامی خدمات استعمال کرنے والے افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ آج کے دور میں رابطے، کاروبار، بینکاری، سفر اور ہنگامی حالات میں مدد حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے کسی بڑے علاقے میں مواصلاتی سہولیات محدود کرنے کا فیصلہ انتظامی ضرورت کے ساتھ ساتھ شہری زندگی پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری طرف پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ راولپنڈی میں رینجرز کی متعدد کمپنیوں، اٹک میں مزید نفری جبکہ جہلم اور میانوالی میں بھی دستے تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد پولیس کی معاونت اور امن و امان برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی جا رہی ہے۔ مختلف اضلاع اور پولیس یونٹس سے اہلکار ان علاقوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی مجموعی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے اضافی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ پولیس کو بڑی تعداد میں آنسو گیس شیلز اور گنز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی بھی کی جا رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتظامیہ ممکنہ ہجوم یا کشیدگی کی صورت میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی بڑے پیمانے پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں جبکہ بعض حساس مقامات پر کنٹینرز کی دوہری تہہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ بڑی تعداد میں ریت کی بوریاں بھی منگوائی گئی ہیں تاکہ اہم راستوں اور حساس مقامات کو بند یا محفوظ بنایا جا سکے۔ ریڈ زون کو پہلے ہی سخت سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں کی نگرانی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے بڑھانے کی تیاری کی گئی ہے۔
اس ساری صورتحال میں اٹک کی جغرافیائی اہمیت بھی نمایاں ہوجاتی ہے کیونکہ یہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اہم زمینی رابطہ ہے۔ ممکنہ احتجاج کے شرکا کو دوسرے صوبے سے اسلام آباد کی جانب آنے سے روکنے کے لیے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ عام مسافروں، ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی انتظامیہ کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔ اس کے تحت عوامی اجتماعات، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کی ہے۔ یوں ایک طرف سیاسی جماعت نے اپنے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب انتظامیہ نے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے، جس سے 27 ستمبر کے دن قانون، سیاسی احتجاج اور انتظامی اختیارات کے درمیان ایک اہم صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جس پیمانے پر تیاریاں کر رہی ہیں، وہ معمول کی سیکیورٹی تیاریوں سے کہیں زیادہ وسیع دکھائی دیتی ہیں۔ رینجرز کی تعیناتی، پولیس نفری میں اضافہ، بھاری مقدار میں آنسو گیس کا سامان، بکتر بند گاڑیاں، کنٹینرز، ریت کی بوریاں، ریڈ زون کی بندش، نگرانی کے وسیع انتظامات اور دفعہ 144 کا نفاذ سب ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے 27 ستمبر کو کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے پہلے ہی نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
تاہم دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات عام شہریوں کی زندگی کو کس حد تک متاثر کریں گے۔ اگر اہم شاہراہیں بند ہوتی ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ سروس محدود ہوتی ہے اور شہر کے مختلف حصوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو اس کا اثر صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا شہری نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں، روزمرہ سفر اور ہنگامی رابطے بھی ایسے اقدامات سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔
27 ستمبر اب محض ایک سیاسی احتجاج کی تاریخ نہیں رہی بلکہ اس کے گرد سیکیورٹی، انتظامی پابندیوں، شہری آزادیوں، مواصلاتی سہولتوں اور سیاسی احتجاج کے حق سے متعلق کئی اہم سوالات پیدا ہوچکے ہیں۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی روزمرہ زندگی کو غیر ضروری طور پر متاثر ہونے سے بچائے، جبکہ احتجاج کرنے والی سیاسی قوت کے لیے بھی یہ سوال اہم ہوگا کہ اس کی سیاسی سرگرمی کس حد تک پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتی ہے۔
آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ 27 ستمبر کو حکومت کے سیکیورٹی انتظامات اور سیاسی احتجاج کس طرح ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، کیا مواصلاتی پابندیوں کی درخواست عملی شکل اختیار کرتی ہے، راستوں کی بندش کس حد تک برقرار رہتی ہے اور کیا انتظامیہ بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کے باوجود شہریوں کی معمول کی زندگی اور قانونی حقوق کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ یہی عوامل طے کریں گے کہ 27 ستمبر محض ایک سیاسی احتجاج کے طور پر گزرتا ہے یا ملک کے سیاسی اور انتظامی ماحول میں ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔
