سوشل میڈیا پر فراڈیے عوام کو ماموں کیسے بناتے ہیں؟

گھر یا اپنی گاڑی کا خواب متوسط طبقے کے شہریوں کے لیے سوشل میڈیا پر ایک خطرناک جال بن چکا ہے۔ پرکشش اشتہارات، معمولی ڈاؤن پیمنٹ اور چند دن میں گاڑی یا گھر فراہم کرنے کے وعدوں کے ذریعے شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن رقم ملنے کے بعد کمپنی، دفتر اور وعدے سب غائب ہو جاتے ہیں۔

کراچی میں سامنے آنے والے ایک معاملے میں ایک شہری کو پرانی گاڑی صرف 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ پر فراہم کرنے کا جھانسہ دیا گیا۔ اس سے تین لاکھ روپے وصول کرکے معاہدہ کرایا گیا اور چھ دن میں گاڑی دینے کا وعدہ کیا گیا، لیکن چند روز بعد اسے بتایا گیا کہ ضامن کے ڈیفالٹ کی وجہ سے درخواست ریفنڈ میں چلی گئی ہے اور رقم تین ماہ بعد واپس ہوگی۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود رقم واپس نہ ملی تو شہری نے پولیس سے رجوع کیا۔

یہ کوئی واحد واقعہ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد شہریوں سے ایک لاکھ سے لے کر چھ لاکھ روپے سے زائد تک رقم وصول کی گئی۔ بعض متاثرین نے پولیس سے شکایات کیں اور مقدمات بھی درج ہوئے، جبکہ رپورٹ میں ایسے افراد کا بھی ذکر ہے جنہوں نے کارروائی یا ضمانت کے بعد مختلف علاقوں میں نئے ناموں سے دفاتر قائم کرکے دوبارہ اسی طریقے سے سوشل میڈیا پر اشتہارات چلانا شروع کیے۔

فراڈ کا طریقہ بھی بظاہر منظم دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی پیشکش کی جاتی ہے جو عام شہری کی مالی استطاعت کے مطابق محسوس ہو۔ دفتر بلا کر شناختی دستاویزات، ضامن اور ابتدائی رقم لی جاتی ہے، پھر کسی تکنیکی یا معاہدے کی شرط کو بنیاد بنا کر درخواست مسترد کرنے کا پیغام دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد رقم کی واپسی کے لیے شہری کو مہینوں دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایسے گروہ کے بعض مبینہ مرکزی کرداروں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عناصر کمپنیوں کے نام اور مقامات تبدیل کرکے دوبارہ سرگرم ہوجاتے ہیں۔ تاہم کسی بھی شخص کو جرم کا مرتکب قرار دینا عدالتی عمل سے مشروط ہے۔

اس صورتحال میں شہریوں کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ صرف سوشل میڈیا اشتہار، خوبصورت دفتر یا اسٹیمپ پیپر پر معاہدہ کسی کمپنی کی قانونی حیثیت یا اعتبار کی ضمانت نہیں۔ ایف آئی اے بھی آن لائن مالی فراڈ سے بچنے کے لیے مشورہ دیتی ہے کہ خریداری سے پہلے متعلقہ ادارے یا کاروبار کی ساکھ اور تفصیلات کی تصدیق کی جائے اور حساس مالی معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے معاملات میں صرف متاثرہ شہریوں کو رقم کی واپسی کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگوائے جائیں بلکہ شکایات، بینک لین دین، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، کمپنیوں کی رجسٹریشن اور مبینہ فراڈ کے پورے نیٹ ورک کی منظم تحقیقات کی جائیں۔ ایف آئی اے کے پاس سائبر جرائم سے متعلق شکایات درج کرانے کا باقاعدہ نظام بھی موجود ہے۔

آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ شہری لالچ میں آکر کیسے دھوکا کھا رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ بار بار نام اور دفتر تبدیل کرکے یہی طریقہ اختیار کرنے والے عناصر قانون کی گرفت سے کیسے بچ جاتے ہیں۔ جب تک سوشل میڈیا پر جعلی کاروباری پیشکشوں، پیشگی ادائیگیوں اور منظم مالی فراڈ کے خلاف مؤثر نگرانی اور فوری کارروائی نہیں ہوگی، عام شہری کے گھر اور گاڑی کے خواب فراڈیوں کے لیے کمائی کا آسان ذریعہ بنتے رہیں گے۔

Back to top button