وزیراعلی آفریدی کا IG پولیس کے اختیار چھیننے کا فیصلہ

خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے وزیراعلی اور انسپکٹر جنرل پولیس کے درمیان جاری کشمکش ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک نئے قانون کے ذریعے پولیس کا انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ آئی جی کو بے اختیار کیا جا سکے۔ صوبائی کابینہ نے 23 ستمبر 2026 کو خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران، خصوصاً آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی و تبادلوں میں آئی جی کا اختیار ختم کر کے صوبائی حکومت کا کردار بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم یہ مسودہ ابھی قانون نہیں بنا اور اسے صوبائی اسمبلی سے منظوری کا انتظار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے فروری 2026 میں پشاور ہائی کورٹ نے 2024 کی پولیس ایکٹ ترامیم کی وہ اہم شقیں کالعدم قرار دی تھیں جن کے تحت گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتی وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کی گئی تھی اور فیلڈ کمانڈرز کی تعیناتی کے آئی جی کے اختیارات کو محدود کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پولیس کی روزمرہ انتظامی کمان، پوسٹنگز، تبادلے اور اندرونی نظم و نسق آئی جی کے دائرۂ اختیار میں رہنا چاہیے، جبکہ حکومت کا کردار پالیسی، نگرانی اور وسائل کی فراہمی تک محدود ہونا چاہیے۔ چنانچہ اب صوبائی حکومت نے نئے قانون کے ذریعے ان اختیارات کو آئی جی سے چھین کر وزیراعلی کو دینے کے لیے نیا قانونی فریم ورک تیار کر لیا ہے۔
مجوزہ قانون میں سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی تقرری اور تبادلوں کے معاملات خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی میں بھی صوبائی حکومت کا کردار بڑھایا جائے گا۔ اس طرح آئی جی کے پاس موجود وہ انتظامی اختیار محدود ہوسکتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ماتحت فیلڈ کمانڈ کا تعین کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے پولیس زیادہ جوابدہ ہوگی۔
نئے قانون میں پولیس پالیسی اور پولیس آپریشنز کو الگ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے تحت وزیراعلیٰ پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے جبکہ آئی جی پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی کریں گے۔ آئی جی کو سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرکے پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔کے پی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تقسیم سے پالیسی سازی منتخب حکومت کے پاس اور روزمرہ آپریشنل معاملات پولیس قیادت کے پاس رہیں گے۔
لیکن اصل تنازع اسی سوال پر ہے کہ پولیس کی جوابدہی کس کے سامنے ہو اور فیلڈ کمانڈ کا آخری اختیار کس کے پاس ہو؟ آئی جی کا مؤقف کابینہ اجلاس میں یہ بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی ان ترامیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے جن کے ذریعے آئی جی سے اختیارات لیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ 2017 کا پولیس ایکٹ پولیس کو بااختیار اور جوابدہ بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، جبکہ نئے مسودے میں بعض اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ فروری 2026 کے عدالتی فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ نے خاص طور پر واضح کیا تھا کہ وزیراعلیٰ پولیس کی ترجیحات طے کرسکتے ہیں، مثلاً انسداد دہشت گردی یا جرائم کے خلاف کارروائی کو ترجیح دینا، لیکن کسی مخصوص ضلع میں کون سا ڈی پی او، ایس پی یا ایس ایس پی تعینات ہوگا اور اسے کب تبدیل کیا جائے گا، یہ انتظامی معاملہ ہے جس کا اختیار آئی جی کے پاس ہونا چاہیے۔
عدالت کے مطابق اگر سیاسی انتظامیہ براہِ راست فیلڈ کمانڈرز کے تبادلوں میں مداخلت کرے تو پولیس کا کمانڈ چین متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ پولیس ایک صوبائی محکمہ ہے اور منتخب حکومت کو اس کی پالیسی، کارکردگی اور انتظامی معاملات پر مؤثر نگرانی کا اختیار ہونا چاہیے۔ حکومت کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد پولیس کو سیاسی مداخلت کا تابع بنانا نہیں بلکہ اسے عوام کے سامنے زیادہ جوابدہ بنانا، تفتیشی نظام بہتر کرنا، افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بڑھانا اور پولیس کے پالیسی و آپریشنل امور کو الگ کرنا ہے۔ کابینہ نے پولیس حکام سے مشاورت کے بعد مسودے میں بعض ترامیم بھی کی ہیں۔
27ستمبر سے پہلے ہی وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت آمنے سامنے کیوں؟
ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت وفاق سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران، جن میں آئی جی بھی شامل ہیں، کی خدمات غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں واپس کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کو حاصل ہوگا۔ اس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا آئی جی کے عہدے پر انتظامی اثر بڑھ جائے گا، اگرچہ آئی جی کی تعیناتی کا بنیادی طریقہ مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا گیا؛ یاد رہے کہ وفاق آئی جی کے لیے تین نام صوبائی حکومت کو بھیجتا ہے جو ان میں سے ایک کو بطور آئی جی منتخب کرتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ آئی جی خیبر پختونخوا صوبائی حکومت کے بجائے وفاق سے ہدایات لے رہے ہیں؟ دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ آئی جی روزمرہ پولیسنگ کے معاملات میں وفاقی حکومت سے ہدایات لے رہے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ پولیس کی داخلی کمان اور آپریشنل ہدایات آئی جی کے ذریعے نیچے جانی چاہئیں اور سیاسی یا انتظامی حکام کو آئی جی کو بائی پاس کرکے براہِ راست فیلڈ افسران کو ہدایات نہیں دینی چاہئیں۔ البتہ چونکہ آئی جی کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان سے ہوتا ہے اور انکی تعیناتی کے عمل میں وفاق کا کردار ہے، اس لیے وفاق اور صوبے دونوں کے انتظامی مفادات اس معاملے میں موجود رہتے ہیں۔
