ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب

 

 

 

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو 32 ووٹ دے کر آزاد کشمیر کا صدر منتخب کرلیا، ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔

‎صدارتی انتخاب کےلیے پولنگ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوئی،جس کےبعد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی کامیابی کا اعلان کیاگیا، 46 رکنی ایوان میں سپیکر چوہدری طارق فاروق نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا، جب کہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی چوہدری قاسم مجید کی عدم موجودگی کے باعث ان کا ووٹ شمار نہ ہوسکا۔

‎ڈاکٹر نجیب نقی کا انتخاب نئی منتخب حکومت کے قیام کےبعد اہم آئینی عہدوں کی تشکیل کے سلسلے کی تکمیل بھی ہے،اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی وزیر اعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئےتھے جب کہ چوہدری طارق فاروق نے سپیکر قانون ساز اسمبلی کا منصب سنبھالا تھا۔

‎صدارتی انتخاب کےلیے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان اور چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی منظور کیےتھے،پولنگ کےبعد ووٹوں کی گنتی ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔

‎ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں صدر کے عہدے پر نئی مدت کا آغاز ہوگیا ہے۔

‏‎ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں پونچھ ڈویژن کو ریاستی حکومت کے اہم آئینی عہدوں میں نمائندگی ملے گی،صدارتی انتخاب کےبعد راولاکوٹ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر ہونےوالے آئندہ انتخابات بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت ہو گی اور صدارتی انتخاب جیتنے کےبعد الیکشن میں ن لوگ کی پوزیشن مزید بہتر ہو جائے گی۔

 

ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا سیاسی سفر آزادکشمیر کے پونچھ ڈویژن کے علاقے سدھنوتی سے شروع ہوا اور تین دہائیوں سے زائد عرصےپر محیط سیاسی و حکومتی سفر کےبعد وہ آزادکشمیر کے صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔

62 سالہ ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے،ان کے دادا کرنل خان محمد خان کو آزادکشمیر کی سیاسی تاریخ میں ’’بابائے پونچھ‘‘ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے، جب کہ ان کے والد کرنل محمد نقی خان بھی سیاست میں سرگرم رہے۔والد کے انتقال کےبعد ڈاکٹر نجیب نقی نے 1990 کی دہائی میں عملی سیاست کا آغاز کیا، 1991 کے انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،اس دوران انہوں نے صحت،منصوبہ بندی و ترقی کے شعبوں میں پارلیمانی سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔

1996 کے انتخابات میں مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جب کہ 2001 سے 2006 تک آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن رہے۔

2006 کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور حکومت میں صحت،بہبودِ آبادی،کالجز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

2011 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے، 2016 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور 2021 تک صحت،خزانہ،منصوبہ بندی و ترقیات سمیت اہم محکموں کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

2021 کے عام انتخابات کےبعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے تنظیمی اور سیاسی معاملات میں بھی ڈاکٹر نجیب نقی کا شمار اہم رہنماؤں میں ہوتا رہا،رواں ماہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے انہیں آزادکشمیر کے صدر کے منصب کےلیے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا۔‏‎

ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا سیاسی سفر رکن اسمبلی،پارلیمانی سیکرٹری، کشمیر کونسل کے رکن اور مختلف اہم محکموں کے وزیر کی ذمہ داریوں سے گزرتا ہوا، اب آزاد کشمیر کے آئینی منصبِ صدارت تک پہنچاہے۔

 

Back to top button