سہیل وڑائچ کو موجودہ سسٹم گرتا کیوں نظر آ رہا ہے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پٹاری سے باہر آنے کے بعد سے موجودہ نظام میں دراڑیں پیدا ہوچکی ہیں اور جس دن پیپلز پارٹی، نون لیگ یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تین رکنی اتحاد میں سے کوئی ایک بھی باہر نکلا، موجودہ سسٹم کا مشترکہ زوال شروع ہو جائے گا، انکے مطابق تاریخ اسی بات کی گواہ ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے کی تجویز پر پیپلز پارٹی کے کھلے تحفظات کے باوجود اصل فیصلہ ساز اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اب نئے صوبوں کے حق میں آواز ہر ضلع سے اٹھائی جائے گی۔ اس سلسلے میں اگلے سال کے شروع تک مہم کو کامیاب بنانے کی مکمل منصوبہ بندی ہوچکی ہے جبکہ آنے والے ہفتوں میں یہ مہم زور و شور سے چلنے کی اطلاعات ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق گزشتہ چند روز سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اتحادی جماعتوں کی مخالفت یا پراسرار خاموشی کے باعث نئے صوبوں کی مہم کو چھ نہروں اور سی ایس آئی ایف کی طرح فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تجویز کو ملتوی یا نظرانداز کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں گیا بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے مزید تیزی لانے کی تیاری جاری ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی فی الحال سندھ میں نئے صوبے بنانے سے انکاری ہے۔

 

اس تجویز کو منظرعام پر لانے سے پہلے صدر آصف زرداری کو پنجاب میں دو جنوبی صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت لانے کی پیشکش بھی کی گئی تھی، تاہم آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سندھ میں نئے صوبوں کا معاملہ ان کی انا نہیں بلکہ سیاسی بقا کا مسئلہ ہے، اسی لیے اس معاملے پر پیپلز پارٹی نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نون لیگ کی قیادت ابتدا میں خاموش رہی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ نئے صوبوں کی پہلی لڑائی پیپلز پارٹی لڑے۔ نون لیگ دراصل فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق نون لیگ کے اندر اس معاملے پر دو مضبوط اور متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک رائے ٹیکنوکریٹ اور بیوروکریٹ مشیروں کی ہے جبکہ دوسری رائے اولڈ سکول سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار حلقوں کی ہے۔

 

نون لیگ کے ٹیکنوکریٹ مشیر پارٹی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے کے بجائے صوبوں کی تقسیم کو قبول کرلیا جائے، کیونکہ نون لیگ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بیشتر اہداف مشترک ہیں۔ ان مشیروں کے خیال میں صوبوں کے مسئلے پر اختلاف کرکے پارٹی قیادت کو نون لیگ، اسٹیبلشمنٹ اور ملک کے لیے غیرضروری مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے میں نون لیگ کو پیپلز پارٹی کے بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق نون لیگ کے ٹیکنوکریٹ مشیران کا کہنا ہے کہ پنجاب پہلے ہی بہاول پور اور جنوبی پنجاب نامی نئے صوبے بنانے کے اصول پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے، اس لیے اگر نئی اسکیم کے تحت پنجاب کے پانچ یا چھ حصے بھی ہوجائیں تو لاہور بدستور سب سے طاقتور، مالدار اور بااثر صوبہ رہے گا اور نون لیگ کے پاس اس کا سیاسی اثر و رسوخ برقرار رہے گا۔ اس لیے ان مشیروں کی رائے میں نون لیگ کو اس معاملے پر بڑی لڑائی سے گریز کرنا چاہیے۔

 

دوسری جانب نون لیگ کے سیاسی اولڈ سکول کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا تصور کسی بھی صورت قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اس حلقے کے مطابق صوبے انتظامی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ دو یا تین بڑی سیاسی جماعتوں کا اثر توڑنے کے لیے بنائے جارہے ہیں تاکہ ملک میں بڑی قومی سیاسی جماعتوں کے بجائے علاقائی گروپ باقی رہ جائیں۔ اس کے علاوہ ان کے خیال میں صوبوں کے معدنی وسائل اور وفاقی محاصل میں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت ملنے والے حصے کو کمزور کرکے وفاق کو دوبارہ مضبوط بنانے کا مقصد بھی اس منصوبے میں شامل ہوسکتا ہے۔ اولڈ سکول سے وابستہ سیاسی تجربہ کار حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نون لیگ نئے صوبوں پر رضامند نہ ہوئی تو یہ منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے اور یوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا موجودہ اتحاد برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق اگر یہ اتحاد ٹوٹا تو اس کا نتیجہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں دونوں کی کمزوری کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

 

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ایک ایسی دلدل ثابت ہوسکتے ہیں جس میں سیاست اور ملکی استحکام دونوں متاثر ہوں گے، جمہوریت کے بجائے جبر مضبوط ہوگا اور بڑی سیاسی جماعتوں کا اقتدار محدود ہوسکتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق پہلے نون لیگ میں اکثریتی رائے اولڈ سکول کے قریب تھی اور پارٹی قیادت کی خاموشی بھی اس طرف اشارہ کرتی تھی، تاہم اب ٹیکنوکریٹ مشیران وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو نئے صوبوں کی سکیم قبول کرنے کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں نئے صوبوں کے حق میں ہونے والی سرگرمیوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف اچانک چلنے والی میڈیا مہم کو بھی بعض حلقے اسی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ مشیران کا خیال ہے کہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صوبوں کے معاملے پر پیدا ہونے والا خلا مخالفین کو فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہا ہے۔

 

نئے صوبوں کا معاملہ اب ہاکی کے میچ کی طرح اس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں گیند ڈی میں پہنچتی ہے اور ایک درست پاس یا شاٹ گول کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ غلطی کی صورت میں معاملہ دوبارہ ٹل جاتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق پیپلز پارٹی کے کھلاڑی نے پاس مس کردیا ہے اور اب توجہ نون لیگ کے ممکنہ پاس پر ہے، جبکہ تحریک انصاف کا کھلاڑی بھی صورتحال دیکھ رہا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اصل چوائس اب بھی قبولیت اور مقبولیت کے درمیان ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی سیاسی بقا کے لیے قبولیت کے بجائے مقبولیت کے راستے پر جانے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ سیاسی مخالفت کا سامنا کرنے کو ترجیح دے گی، جبکہ نون لیگ کے مشیران قبولیت کی پٹڑی پر چلنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے معاملے پر بہت غوروفکر ہو چکا، ماہر اور تجربہ کار ٹیمیں اس پر کام کرچکی ہیں، ضلعی معیشت اور نئی علاقائی معیشتوں کے حوالے سے بھی کام جاری ہے، اس لیے معاملہ صرف ضروری چند تفصیلات طے ہونے کا رہ گیا ہے۔ اگر حالات میں بڑی تبدیلی نہ آئی تو موجودہ نظام کے طے کردہ اصول ہی نافذ العمل رہیں گے اور نئے صوبوں کا فارمولہ عملی شکل اختیار کرنے کی سمت بڑھتا رہے گا۔

Back to top button