خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو گا: طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا، وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مجوزہ پولیس ایکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ صوبے اپنی فوج اور پولیس نہیں بناسکتے۔
سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے،بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے،وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں، یہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پوری کمانڈ تباہ کردی ہے،مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آرہا ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اختیار اپنی جیب میں اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی۔
ان کاکہنا تھاکہ ڈی ایس پی سے آئی جی تک تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے،انہوں نے سوال کیاکہ کیا پولیس اس طرح دہشت گردی کےخلاف لڑے گی؟ کیا پولیس اپنے افسروں کے بجائے اب سیاسی نمائندوں کی طرف دیکھے گی؟
انہوں نے کہا کہ وفاقی قوانین ہی صوبائی قوانین کے اوپر ہوں گے،ایسی صورت حال بنی تو ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون سازی کریں گے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ کوہاٹ سانحے میں شہید ہونے والوں کے جنازوں میں کوئی صوبائی وزیر نہیں تھا،آپ تو شہداء کے ساتھ بھی کھڑے نہیں ہوتے،آپ ایسا کرکے فورس کا مورال خراب نہیں کرسکتے،وفاق ہرچیز کو آئین اور قانون کی نظر سے دیکھتا ہے،آپ پولیس کو اپنے گھر کی لونڈی نہیں بناسکتے۔
وزیراعلی آفریدی کا IG پولیس کے اختیار چھیننے کا فیصلہ
طلال چوہدری نے کہاکہ خیبرپختونخوا 15، 20 سال سے دہشت گردی کی جنگ لڑرہا ہے لیکن وہاں سی ٹی ڈی کرائے کی عمارتوں میں ہے،آپ کہتے ہیں صوبائی وزیر اٹھایاگیا ہے،اگر آپ اتنے بےبس ہیں تو کیوں کرسی سے چپٹے ہوئے ہیں؟
اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدرری نے کہا اسلام آباد آنےوالے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔
