جنرل باجوہ اورصدرکی فوری الیکشن پرکوئی بات نہیں ہوئی


عسکری ذرائع نے عمران خان کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدر عارف علوی سے ایک حالیہ ملاقات کے دوران فوری الیکشن کا معاملہ ڈسکس کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ بے بنیاد ہے کیونکہ الیکشن کرانا فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کا اختیار ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج واضح طور پر غیرسیاسی ہونے کا اعلان کر چکی ہے لہذا اسے سیاست میں گھسیٹ کر متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے 18 نومبر کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی ٰکیا تھا کہ صدر عارف علوی کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے، جسکا ایجنڈا جلد اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے سربراہ کی تعیناتی چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرح سنیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ایوان صدر کی جانب سے عمران کے دعوے کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم 18 نومبر کو ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایک اہم ملاقات کے بعد صدر عارف علوی کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ آرمی چیف کے تقرر بارے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی جانے والی ایڈوائس پر عمل کریں گے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ میرے پاس وزیرِاعظم شہباز شریف کی ایڈوائس روکنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں اور نہ ہی میں نے پہلے کبھی اس طرح کے کسی کام میں رخنہ ڈالا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی تصدیق کی ہے کہ انکی قیادت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تنازع پیدا نہیں کرے گی اور نہ ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ذریعے ہونے والی آرمی چیف کی تقرری کے عمل میں صدر علوی کوئی رکاوٹ ڈالیں گے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے صدر جو بھی قدم اٹھائیں گے اسے پارٹی چیئرمین عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ ایک ٹوئٹ میں فواد نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داری ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہ واضح کردوں کہ صدر جو بھی قدم اٹھائیں گے اسے عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔

دوسری جانب نئے آرمی چیف کی تقرری کا وقت قریب آتے ہی اسلام آباد میں سیاسی ہلچل میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر علوی سے ملاقات کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا ہے کہ منگل یا بدھ تک نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور نئے سربراہ کا تقرر ایک دو روز میں کر دیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے پہلے مرحلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دو لیفٹیننٹ جنرلز کو فور سٹار جنرل بنانے کا اعلان ہوگا جس کے بعد نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا اعلان بھی سامنے آ جائے گا۔

مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہم آرمی میں پروموشن کے نظام پر یقین رکھتے ہیں، اور آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ کسی صورت بھی سیاسی نہیں ہونا چاہیے، تمام تھری سٹار جنرلز برابر ہیں اور پاکستانی فوج کی سربراہی کے لیے مکمل اہل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ کسی صورت بھی طرح سیاسی نہیں ہونا چاہیے، یہ ادارے کو نقصان پہنچائے گا، آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق وزیراعظم اتحادیوں کی مشاورت سے کریں گے۔خیال رہے کہ وزیر اعظم اس وقت کرونا میں مبتلا ہیں اور اس وقت قرنطینہ میں ہیں۔ اسی لئے شہباز شریف کے ایما پر اسحاق ڈار نے صدر علوی سے ملاقات کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات کا بنیادی ایجنڈا نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہی تھی اور صدر علوی نے یقین دہانی کرائی کہ انکی جانب سے اس معاملے میں کوئی رخنہ نہیں ڈالا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز ’ کو بتایا ہے کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے کاغذی کارروائی پیر کو شروع کی جائے گی اور انکی تعیناتی منگل یا بدھ کو کر دی جائے گی جبکہ نئے آرمی چیف کے چارج سنبھالنے کی تقریب 29 نومبر کو ہوگی۔
موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے، طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فوج نے اس عہدے کے لیے ممکنہ امیدواروں کے ناموں کا ایک پینل تجویز کیا ہے اور تعیناتی کے لیے اس کی سمری وزارت دفاع کے ذریعے وزیر اعظم کو بھجوائی گئی ہے۔

اسی دوران وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کے تقرر بارے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے اور وہ اسے اگلے دو روز باضابطَہ شکل دیں گے، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر مناسب نہیں اور آئندہ چند روز میں نئے آرمی چیف کا تقرر ہو جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا مقصد انتخابات نہیں بلکہ آرمی چیف کی تعیناتی پر اثر انداز ہونا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوگا اور فوجی سربراہ کا تو ضرور بغیر کوئی دباؤ لیے سنیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ موجودہ کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت وقت سینئر ترین جرنیل ہیں۔

Back to top button