جنرل باجوہ نہ ہوتے تو عمران کسی جیل میں سڑ رہے ہوتے

اگر جنرل قمر باجوہ، جنرل فیض حمید، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل شجاع پاشا ‘پروجیکٹ عمران’ کو کامیاب بنانے میں حصہ نہ ڈالتے اور انکے ہرکارے عمران کے حق میں عدلیہ، نیب، میڈیا اور الیکشن کمیشن کے ہاتھ پائوں نہ باندھتے تو نہ صرف عمران کا وزیراعظم بننا ناممکن تھا بلکہ وہ فارن فنڈنگ جیسے کسی کیس میں کب کے نااہل ہو کر کسی جیل میں سڑ رہے ہوتے۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف اینکر پرسن سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں کہ عمران بالکل سچ نہیں بولتے۔ کبھی کبھی وہ بھی سچ بول لیتے ہیں لیکن ادھورا یا پھر اس کا سیاق و سباق غلط کر دیتے ہیں۔ عمران کا ایسا ہی ایک ادھورا سچ یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے پاکستان کو تباہ کر دیا۔ بلاشبہ پاکستان جنرل باجوہ کے دور میں تباہی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا لیکن سوال یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے ایسا کیوں، کس کیلئے اور کس کے ذریعے کیا؟
پورا سچ یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو اقتدار دلوانے اور پھر ان کے اقتدار کو دوام دینے کیلئے سیاست، عدالت، الیکشن کمیشن ، میڈیا اور دیگر اداروں کو مفلوج بنا کر، آزادی اظہار پر قدغنیں لگا کر اور سب سے بڑھ کر اپنے ادارے کو متنازعہ کرکے پاکستان کو تباہی کے راستے پر گامزن کیا لیکن یہ سب کچھ انہوں نے عمران کی خاطر اور خان کے ذریعے کیا۔ یہ سب کچھ انہوں نے بدنیتی نہیں بلکہ نیک نیتی سے کیا کیونکہ انہیں عمران نے باور کرایا تھا کہ وہ ملک کیلئے مسیحا ثابت ہوں گے۔ اس مشن میں جنرل قمر باجوہ اکیلے بھی نہیں تھے۔ اس مشن میں جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور بھی ان کے ہمرکاب بلکہ اس معاملے میں ان کے مرشَد بنے ہوئے تھے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمرانی پروجیکٹ 2010 میں شروع ہوا تھا۔ جنرل احمد شجاع پاشا، جنرل راحیل شریف، جنرل رضوان اختر، جنرل عاصم سلیم باجوہ اور بالخصوص جنرل ظہیر الاسلام نے اس پروجیکٹ پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کی تھی۔ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے یہ پروجیکٹ جنرل باجوہ کو ورثے میں ملا تھا۔ بس غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنی شخصیت اور مزاج کے مطابق پورے خلوص کے ساتھ دل و جان سے عمران کو وزیراعظم بنوانے اور ان کے سیاسی اور صحافتی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کیلئے خالص فوجی طریقے سے کام لیا۔
پروجیکٹ کو عملی شکل دینا چونکہ جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور کی ذمہ داری تھی جن کے کام کا انداز بڑا جارحانہ تھا اور دونوں کی عمران سے محبت بھی انتہا پر تھی یا پھر دونوں کا مستقبل ان سے جڑ گیا تھا، اس لئے انہوں نے خود بھی بڑے افراط و تفریط سے کام لیا اور جنرل باجوہ سے بھی ایسا کروایا۔ اس معاملے میں بابا رحمتے عرف ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور ان کے ہم خیال ججوں نے بھی دلالی کر کے بھرپور حصہ ڈالا۔ جنسی ہوس کے مارے جسٹس جاوید اقبال کا کردار سب سے زیادہ شرمناک رہا۔
طاہرالقادری سے لے کر سراج الحق تک سب نے الیکشن 2018 سے قبل عمران کیلئے سیاسی بساط بچھانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ میڈیا کے وہ اینکرز، تجزیہ کار اور مالکان، جو اب سب کچھ باجوہ کے گلے میں ڈال رہے ہیں، انیوں نے بھی ریٹنگ اور پیسے کے چکر میں یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے ایما پرعمران خان کو مسیحا کے طور پر پیش کیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر انویسٹمنٹ اپنی جگہ پر تھی۔ مغربی قوتوں اور ایک پڑوسی اسلامی ملک کا کردار اس کے علاوہ تھا۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کس نے کس کو دھوکہ دیا اور کس نے کس کے ساتھ ڈبل گیم کی؟۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ میں چونکہ عمرانی پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی راہ میں حسب استطاعت رکاوٹ بننے کی کوشش کررہا تھا اور اس جرم کی بنیاد پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صحافیوں کی صف میں شامل ہوں، اس لئے میں زیادہ تر معاملات کا عینی شاہد بھی ہوں۔ الیکشن سے قبل حامد میر صاحب اور ارشاد بھٹی صاحب کے ہمراہ جنرل قمر باجوہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی روداد میں بتا چکا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بھی جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی، وہ مجھے عمران کی حمایت کیلئے قائل کرتے رہے ۔ لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ خان سے مخلص تھے یا پھر ان کی کامیابی اور ناکامی کو اپنی کامیابی اور ناکامی سمجھ رہے تھے۔ ان کے دور میں نواز شریف، زرداری اور قوم پرست جماعتوں سے زیادتی ہوئی، مذہبی جماعتوں سے ہوئی اور ہم جیسے عمران خان کے نقاد میڈیا پرسنز اور اداروں سے ہوئی لیکن عمران خان پر صرف اور صرف مہربانی ہوتی رہی۔ اگر پہلے جنرل ظہیرالاسلام اور پھر جنرل باجوہ اور ان کی ٹیم کے لوگ عدلیہ، نیب، الیکشن کمیشن اور میڈیا کے ہاتھ پائوں عمران خان کے حق میں نہ باندھتے تو نہ صرف عمران خان کا وزیراعظم بننا ناممکن تھا بلکہ پارٹی فنڈنگ اور اسی طرح کے دیگر کیسز میں وہ گزشتہ انتخابات سے قبل نااہل ہوکر کسی جیل میں پڑے ہوتے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ وزیراعظم بنوانے کے بعد ان کی حکومت چلوانے کیلئے بھی جنرل باجوہ جس حد تک عمران خان کے ساتھ گئے، اتنا شاید نواز شریف بھی شہباز شریف کے ساتھ نہ جاسکیں۔ عمران خان اپنی حرکتوں سے ہر ایک دوست ملک کو ناراض کرتے اور جنرل باجوہ ان کو مناتے رہے۔ ایف اے تی ایف سے لے کر اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ دلوانے تک ہر معاملے میں جنرل باجوہ ان کی خاطر ہر انتہا پر گئے۔ جنرل باجوہ میڈیا سے کھیلے، عدلیہ سے کھیلے، اپوزیشن سیاستدانوں سے کھیلے اور کئی قوتوں کے ساتھ ڈبل گیم بھی کی، لیکن عمران سے مخلص تھے اور ڈبل گیم نہیں کی تو عمران کے ساتھ نہیں کی۔
دوسری جانب عمران شروع دن سے ان کے ساتھ ڈبل گیم کھیلتے رہے ۔ بلکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مرکز میں اقتدار سے محرومی کے بعد بھی عمران اگر بچے رہے اور ان کے ساتھ نواز شریف وغیرہ والا سلوک نہیں ہوا، تواس میں بھی جنرل باجوہ کا بڑا ہاتھ ہے لیکن جنرل باجوہ ریٹائر ہوئے تو انکے دور میں زیر عتاب رہنے والے نوازشریف، زرداری، مولانا اور قوم پرست لیڈر تو خاموش ہیں تاہم عمران کبھی انہیں پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار اور تو کبھی ڈبل گیم کھیلنے والا قراردے رہے ہیں، حالانکہ ملک تباہی کے راستے پر گامزن ہوا ہے تو عمران کے ہاتھوں ہوا کیونکہ ملک اداروں کا نام ہے اور ادارے عمران کیلئے یا پھر ان کے ہاتھوں بے وقعت ہوئے۔
