جنرل باجوہ کی صحافی کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ناکام

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بارہ ارب روپے سے زائد کی جائیدادوں کی تفصیلات پبلک کرنے کے الزام پر گرفتار ہونے والے صحافی شاہد اسلم کو نشان عبرت بنانے کی کوشش تب دم توڑ گئی جب اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد کی سیشن عدالت کے سپیشل جج سینٹرل محمد اعظم خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کی گئی گرفتاری پر صحافی شاہد اسلم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور انہیں پچاس ہزار روپے کےمچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے پہلے ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا، اور موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ نہیں بتائے گئے، اس پر جج نے سوال کیا کہ کیا ایف آئی اے نے صحافی کو کسی ثبوت کے بغیر ہی گرفتار کیا تھا؟
خیال رہے کہ صحافی شاہد اسلم کو جنرل قمر جاوید باجوہ کے ڈیٹا لیک کے معاملے پر لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور 14 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔ سیشن عدالت میں سماعت کے دوران صحافی کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ شاہد اسلم کی گرفتاری غیر قانونی ہے، کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ ان کو باجوہ بارے کوئی انفارمیشن ملی جو انہوں نے کسی اور کو دے دی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت کے سامنے پیش کرے، شاہد اسلم پر لگائی گئی چاروں دفعات نہیں بنتیں اور انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہے کہ شاہد اسلم ایف بی آر آتے جاتے رہتے ہیں۔ ملزم کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاہد اسلم ایک صحافی ہیں اور ان کا حکومتی اداروں میں آنا جانا پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کا حصہ ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایف آئی اے نے شاہد اسلم پر جو الزام لگائے ان کا کوئی ثبوت موجود ہے؟ یہ دلائل سننے کے بعد جج نے صحافی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
لیکن صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحافی کو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اکٹھی کی جانے والی معلومات کا ذریعہ بتانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ قانونی امور کے ماہر شاہ خاور نے اس حوالے سے کہا کہ جب کسی کو گرفتار کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ لیا جاتا ہے تو اس کا مقصد معلومات لینا ہوتا ہے تاکہ ڈیٹا تک رسائی ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق اب جب شاہد اسلم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تو انہیں ڈیٹا دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔شاہ خاور نے کہا کہ ’آئین پاکستان کا آرٹیکل 17 جو معلومات تک رسائی سے متعلق ہے، اس کے تحت صحافی کو خبر کے ذریعے سے متعلق جاننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی جھوٹی خبر کا کوئی ثبوت نہ ہو تو پھر یہ جرم بنتا ہے۔ لیکن یہاں جنرل باجوہ کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات غلط نہیں ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’اگر کسی نے ایف بی آر سے یہ تفصیلات لے کر چھاپ دی ہیں تو کوئی غلط کام نہیں ہے۔ ایف بی آر قوانین کے مطابق کسی بھی شخص سے متعلق تفصیلات کسی اور کو فراہم نہیں کی جا سکتیں جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ لیکن ایسی تفصیلات شائع یا نشر کرنےمیں کوئی حرج نہیں، اور شاہد اسلم ڈیٹا فراہم کرنے کے پابند نہیں ہیں۔‘
صحافی کی جانب سے کسی خبر کے حوالے سے ایف آئی اے یا کسی دوسرے تفتیشی ادارے کو پاس ورڈ فراہم نہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں حامد میر نے بتایا کہ صحافی ڈیٹا فراہم کرنے کا قطعی طور پر پابند نہیں۔ ان کے مطابق ’کوئی بھی ریاستی ادارہ یا اتھارٹی کسی صحافی کو اپنا ذریعہ ظاہر کرنے اور لیپ ٹاپ یا فون کا پاس ورڈ فراہم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اگر شاہد اسلم نے اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے سے انکار کیا ہے تو یہ اس کا آئینی حق ہے اور اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘۔
یادرہے کہ نومبر 2022 میں فیکٹ فوکس نامی جریدے میں تب کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خاندان کے اثاثوں میں ان کے چھ سالہ اقتدار کے دوران بارہ ارب روپے سے زائد اضافے کا انکشاف کیا گیا تھا اور صحافی شاہد اسلم پر الزام ہے کہ وہ اس ڈیٹا لیک میں ملوث ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہونے کے بعد سے قمر باجوہ کی اہلیہ اور بہو کے اثاثوں میں ’بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا۔ جنرل باجوہ کا موقف تھا کہ ان کے خاندان کے اثاثوں کا ریکارڈ 20 لاکھ روپے میں خریدا گیا ہے۔ باجوہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے سمدھی صابر مٹھو کی جائیدادیں بھی ان ہی کے کھاتے میں ڈال کر دکھادی گئی ہیں۔
