آصف غفورنے گوادرتحریک کی قیادت کو کیوں گرفتارکروایا؟

نواز شریف دور میں ‘ریجیکٹڈ’ کی مشہور زمانہ ٹوئیٹ کرنے والے سابق فوجی ترجمان اور موجودہ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں گوادر کے عوام کو دھمکانے اور جیلوں میں ڈالنے کی دھمکی دینے کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور سے ان کے حالیہ دورے کے موقع پر ملاقات کرنے والوں میں حق دو تحریک کے ایک معمر نومنتخب کونسلر کاکا سلیمان بھی شامل تھے۔ اس ملاقات کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انھوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ’ہمیں ملاقات کے دوران کور کمانڈر نے دھمکی دی کہ آئندہ اگر آپ لوگوں نے ہڑتال کی اور دھرنا دیا تو آپ لوگوں کو جیل میں ڈال دوں گا‘۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق حق دو تحریک کے دو کونسلرز نے بتایا کہ ’کورکمانڈر نے ملاقات کے دوران دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کسی اور  مقام پر جا کر دھرنا اور احتجاج کرو لیکن اگر پورٹ کے باہر دھرنا دیا تو میں تم سب کو جیل میں ڈال دوں گا۔ تاہم سرکاری حکام نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر جذبہ خیرسگالی کے تحت گوادر گئے تھے اور وہاں لوگوں سے ملاقات کرکے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جو بھی جائز مسائل ہیں ان کو حل کیا جائے گا۔ لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ گوادر کے عوام کو دھمکیاں دی گئیں۔ یاد رہے کہ گوادر میں پورٹ کے قریب حق دو تحریک کے دھرنے پر 26 دسمبر کو علی الصبح پولیس نے کریک ڈائون کرنے کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی تھیں جن کا مقصد کور کمانڈر کوئٹہ کی جانب سے دی گئی دھمکی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ اس کریک ڈائون کے خلاف گوادر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جس کے باعث پانچ روز تک گوادر شہر کے علاوہ دیگر شہروں میں کاروباری مراکز بند ہوئے تھے۔ اسی طرح اہم شاہراہیں بھی کئی روز تک بند ہوئی تھیں۔

حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ کئی روز تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کیا تھا جبکہ گوادر میں 26 دسمبر سے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ ہے جس میں ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہے۔ پولیس نے عسکری دباؤ میں آتے ہوئے حق دو تحریک کے سربراہ، رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کے خلاف مقدمات درج کیے  تھے۔ اگرچہ پولیس تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار نہیں کرسکی تھی لیکن وہ جمعے کو خود گرفتاری دینے کے لیے گوادر میں عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم پولیس نے کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ان کو گرفتار کیا تھا۔ حق دو تحریک کے قیام کے بعد سے حکومت کی جانب سے اس پر یہ پہلا کریک ڈائون تھا۔ اس کریک ڈائون  سے پہلے کور کمانڈر کی جانب سے گوادر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پہلا رابطہ ہوا تھا۔ کور کمانڈر نے وہاں قیام کے دوران گوادر کے نومنتخب کونسلروں سے بھی ملاقات کی۔ کاکا سلیمان کی کور کمانڈر آصف غفور سے ملاقات کے بعد جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں انھوں نے کہا کہ مولانا لیاقت نے جماعت اسلامی کے دفتر میں حق دو تحریک کے تمام کونسلروں کو بلایا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے آپ لوگوں بلایا ہے۔ جب ہم مولانا لیاقت کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر گئے تو وہاں سے ڈپٹی کمشنر ہمیں کوسٹ گارڈز کے ہیڈکوارٹر لے گئے، وہاں کورکمانڈر بھی تھے اور انھوں نے ہمیں طلب کیا تھا۔ کاکا سلیمان کے مطابق ’کورکمانڈر نے کہا کہ آپ لوگوں نے غلطی کی ہے کیونکہ آپ لوگوں نے پورٹ کے راستے پر دھرنا دیا۔ ہمارے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حق کے لیے دھرنا دیا۔ ہم نے بجلی اور پانی مانگا۔ ہم منشیات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ٹرالنگ یعنی غیرقانونی ماہی گیری کا خاتمہ ہو۔ ہم نے کہا کہ حکومت نے مانا ہے کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں‘۔ کاکا سلیمان نے کہا کہ’اس ملاقات کا مقصد ہم نہیں سمجھے۔ ہمیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا بلکہ گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں۔ کورکمانڈر نے ہمیں دھمکی دی کہ اگر آپ لوگوں نے ہڑتال کی یا دھرنا دیا تو میں آپ لوگوں کو گرفتار کروں گا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا کہ ہڑتال اور دھرنا تو ہم نے اپنے حقوق کے لیے دیے۔

یاد رہے کہ کاکا سلیمان کا تعلق گوادر کے علاقے سربندن سے ہے۔ وہ گذشتہ سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مخصوص نشست پر حق دو تحریک کے کونسلرمنتخب ہوئے تھے۔ اس ویڈیو سے قبل ان کی ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ان کے دونوں ہاتھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے اس ویڈیو میں الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں گذشتہ سال جو بلدیاتی انتخابات ہوئے اس میں گوادر شہر سے حق دو تحریک کے کونسلروں کی اکثریت کامیاب ہوئی تھی۔ اسی طرح گوادر کے دیگر علاقوں میں بھی حق دو تحریک کے کونسلروں کی بڑی تعداد نے کامیابی حاصل کی تھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کور کمانڈر نے گوادر کے عوام سے ملاقات کے دوران ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں گرفتاری کی دھمکیاں دیں اور پھر مولانا ہدایت اللہ سمیت مرکزی قیادت کو گرفتار بھی کر دیا۔ لیکن بلوچستان حکومت نے پچھلے برس گوادر تحریک کی قیادت کے ساتھ جو معاہدہ سائن کیا تھا اس کے مطابق کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔

Back to top button