جنرل حمید گل طالبان کے گاڈ فادر کیسے بنے؟


پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل پاکستان میں اسلامی نظریات کے ماننے والوں کے رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ طالبان کے ’گاڈ فادر‘ تصور کیے جانے والے گل حمید نے پاکستان میں کئی جہادی تنظیموں اور افغان طالبان کی صورت میں اپنے پیچھے ایک ’خطرناک میراث‘ چھوڑی۔ اور یہ بھی اتفاق ہے کہ افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ 20 برس جنگ لڑنے کے بعد 15اگست 2021 کو افغانستان پر دوبارہ قبضہ کر لیا جو کہ جنرل حمید گل کا یوم وفات بھی ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کے بانی جنرل حمید گل کا 15 اگست 2016 کو انتقال ہوا تھا۔
اگر جنرل ضیا الحق کے اولین نظریاتی ورثا کی فہرست بنائی جائے تو حمید گل کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ دونوں کا تعلق آرمرڈ کور سے تھا۔ جنرل ضیا نے جب 5 جولائی 1977 کو اپنے چہرے پر مارشل لا کی کالک ملتے ہوئے اقتدار سنبھالا تو حمید گل تب بریگیڈئیر تھے۔ جنرل ضیا الحق نے چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے ملتان میں جس سیکنڈ سٹرائیک کور کو کمان کیا 1980 میں میجر جنرل حمید گل کو اسی کور میں آرمرڈ ڈویژن کا کمانڈر مقرر کیا۔ بعد ازاں وہ ہیڈ کوارٹر میں ملٹری آپریشنز کے نگراں بھی رہے۔ یہ وہ دور تھا جب افغان مہم عروج پر تھی۔
مارچ 1987 میں جب جنرل اختر عبد الرحمان کو آٹھ برس تک آئی ایس آئی کی سربراہی کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی دی گئی تو افغان جنگ میں تسلسل کی برقراری کے لیے ضیا الحق کی نظروں میں حمید گل ایک فطری متبادل تھے۔ چنانچہ انہیں آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا۔ تب تک سوویت یونین بھی تھک چکا تھا اور افغانستان سے انخلا کی تیاری کررہا تھا۔ مگر حمید گل کی چشمِ تصور سٹرٹیجک ڈیپتھ کی عینک کے پیچھے سے افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان بہنے والے دریائے آکسس کے پار کی ممکنہ فتوحات دیکھ رہی تھی۔
دس اپریل 1988 کو افغان مجاہدین کے لیے مختص اسلحے کے سب سے بڑے ڈپو اوجھڑی کیمپ میں دھماکہ ہوا۔ قطع نظر یہ دھماکہ اندرونی شاخسانہ تھا کہ بیرونی لیکن اس کے سبب امریکہ اپنے دیے گئے اسلحے بالخصوص افغان جنگ کا رخ موڑنے والے سٹرنگر میزائلوں کے آڈٹ سے محروم ہوگیا اور دھماکے کے اثرات سے ایک ماہ کے اندر محمد خان جونیجو کی حکومت بھی اڑ گئی۔ امریکہ اور ضیا میں پہلی سی محبت کے اردگرد بدظنی کی جھاڑیاں اگنے لگیں۔ جنرل حمید گل کا خیال تھا کہ نئی افغان صورتِ حال میں اگر امریکہ اپنا ہاتھ اٹھا بھی لے تب بھی آئی ایس آئی افغانستان میں پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کا مناسب خیال رکھ سکتی ہے۔ ان کے دل میں امریکی ابن الوقتی کا جو کانٹا چبھا وہ تاحیات نہ نکل سکا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پھلتا پھولتا گیا۔
حمید گل کے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ ایک مشن مغربی ہمسائے افغانستان میں جاری تھا تو دوسرا مشن مشرقی ہمسائے بھارت کے پنجاب میں پاؤں پھیلائے ہوئے تھا اور تیسرے مشن کے طور پر افغان فرنٹ سے مستقبلِ قریب میں فراغت پانے والے مجاہدین کو کشمیر میں کھپانے کی تیاری ہو رہی تھی۔
17 اگست 1988 کو ضیا اور جنرل اختر عبدالرحمان سمیت کئی اعلیٰ افسروں کی فضائی ہلاکت کے نتیجے میں غلام اسحاق خان، نئے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کی سٹرٹیجک تکون وجود میں آئی۔ اس کے نتیجے میں بادل ِ نخواستہ جماعتی بنیادوں پر گیارہ برس کے وقفے سے ہونے والے پہلے عام انتخابات میں ’مثبت نتائج‘ ایجاد کرنے کے لیے بینظیر بھٹو کے دائیں بازو کے مخالفین کو نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد میں پرویا گیا۔ جنرل حمید گل نے ہمیشہ سینہ ٹھونک کر کہا کہ یہ اتحاد انھوں نے تکون کے دیگر دو کونوں کو اعتماد میں لے کر تشکیل دیا۔
پاکستان میں ترقی پسند اور لبرل حلقوں کا کہنا ہے کہ حمید گل مرے نہیں ہیں بلکہ وہ افغان طالبان اور پاکستانی جہادی تنظیموں کے روپ میں آج بھی زندہ ہیں۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حمید گل کی میراث تب تک زندہ رہے گی، جب تک پاک فوج بھارت مخالفانہ پالیسیوں کا دفاع اور افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کرتی رہے گی۔ سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ کی حمایت اور بعد ازاں طالبان کی حمایت کی وجہ سے جنرل حمید گل نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی ایک متنازعہ شخصیت تھے۔ حمید گل نے اگرچہ افغان طالبان تحریک کی بنیاد تو نہیں ڈالی تھی لیکن وہ اس کو فعال بنانے میں انتہائی سرگرم رہے تھے۔ اسی تناظر میں افغانستان میں حمید گل کو ’افغانوں کو ذبح کرنے والا‘ بھی قرار دیا جاتا تھا۔ حمید گل نے نہ صرف آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے طور پر فرائض سر انجام دیے تھے بلکہ وہ قدامت پسند معاشرے میں دائیں بازو کے صحافیوں، دینی مدرسوں کے مذہبی علماء اور ان میں زیر تعلیم طالب علموں میں ایک رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے تھے۔ پاکستانی فوج میں بھی بنیاد پرستوں کا ایک طاقتور حلقہ ان کا حامی تھا۔
حمید گل افغان جنگ کے دوران سابق فوجی آمر ضیا الحق کے زمانے میں زیادہ مشہور نہیں تھے لیکن ان کا اس تمام معاملے میں کردار انتہائی تباہ کن رہا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ حمید گل نے افغان عوام کے خلاف طالبان کا ساتھ دیا اور افغانستان کو تباہ کرنے کے میں انکا مرکزی کردار ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں بھی ان کی انتہا پسند تعلیمات کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے افغان عوام ان سے نفرت کرتے تھے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اسلام پسندانہ بغاوت کو ہوا دینے میں جنرل حمید گل کا کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھارتی حکومت یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ جنرل حمید گل نے 1989ء میں بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی افغان جنگ میں استعمال ہونے والے اسلحے اور جنگجوؤں کو سری نگر پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد گل ایک سکیورٹی تجزیہ نگار بن گئے اور نیوز چینلز پر حافظ سعید جیسوں کے علاوہ افغان طالبان کا دفاع کرتے ہوئے دکھائی بھی دیے۔ اس دوران پاکستان میں اسلامی پارٹیاں گل کو اپنے مغرب مخالف جلسوں و جلوسوں میں بھی مدعو کرتی رہیں جہاں وہ امریکہ مخالف دھواں دھار تقریر کیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ جنرل حمید گل 1987 ء تا 1989 ء آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ یہ وہی دور تھا جب امریکی تعاون سے سابق سوویت یونین کے خلاف شروع ہونے والا ’افغان جہاد‘ اپنے اختتامی مراحل میں تھا۔ افغان جنگ میں مجاہدین کی تاریخی جیت میں حمید گل کے کردار پر اسلام پسند جنگجو انہیں ایک ’ہیرو‘ قرار دیتے تھے۔ تاہم جب اس جنگ کے بعد امریکا ایک دم منظر نامے سے غائب ہوا تو حمید گل اور آئی ایس آئی نے افغانستان میں ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کی کوشش شروع کر دی جو پاکستان کے زیراثر ہو۔
افغان جنگ کے بعد جب افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس دوران آئی ایس آئی نے وہاں متعدد اسلام پسند جنگجو گروہوں کی معاونت شروع کر دی تاکہ وہ روس اور بھارت نواز گروہوں کو شکست دے سکیں۔ افغانستان سے سوویت فورسز کے انخلاء کے بعد حمید گل اور آئی ایس آئی نے وہاں کسی حکومت کو قائم نہ ہونے دیا۔ یہ افغان تاریخ کا ایک تباہ کن دور تھا، جس کے منصوبہ ساز حمید گل تھے۔ افغانستان میں صورت حال تب مزید بگڑ گئی، جب طالبان ایک طاقت بن کر ابھرے۔ اس دور میں افغان عوام کے پاس طالبان کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ جنرل حمید گل نوے کی دہائی میں سیاست میں بھی سرگرم ہو گئے تھے۔ ان کے اپنے سابقہ ادارے کے ساتھ تعلقات اس وقت خراب ہوئے، جب 2001ء میں نائن الیون کے سانحے کے بعد اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ طالبان کے خلاف پاکستان کا امریکا کے ساتھ اتحاد متعدد سابق جرنیلوں کی ناراضی کا سبب بنا تھا۔ یہ وہ جرنیل تھے، جو اسلام پسندوں کی حمایت میں تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاک فوج کے مابین یہ تقسیم اب بھی نظر آتی ہے۔ اس زمانے میں کچھ جرنیلوں کا کہنا تھا کہ مغرب کے ساتھ ڈبل گیم یعنی کچھ طالبان کو ہلاک کرنا اور کچھ کو بچا لینا، ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ تاہم حمید گل جیسے سابق فوجی افسر چاہتے تھے کہ اسلام آباد تمام اسلام پسندوں کی مکمل حمایت کرے۔ حمید گل اپنی آخری سانسوں تک پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی پالیسیوں کے ایک بے باک ناقد رہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ افغانستان اور پاکستان میں اسلام پسند حکومتیں ہی علاقائی سطح پر پائیدارامن کی ضامن ہو سکتی ہیں۔ حمید گل نے ایک مرتبہ ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’طالبان ہمارے لوگ ہیں۔ وہ ہم سے ناراض ہیں لیکن ہم انہیں ایک مرتبہ پھر اپنی طرف لا سکتے ہیں۔‘‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ بیس برس امریکا کے خلاف جنگ لڑنے کے بعد افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرنے والے طالبان اب پاکستان کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

Back to top button