جنرل قاسم سلیمانی کا جسد خاکی ایران منتقل کر دیا گیا

عراق میں امریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کا جسد خاکی بغداد سے ایران منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قاسم سلیمانی کا جسد خاکی مغربی ایران کے شہر احواز پہنچایا گیا، اس حوالے سے ایرانی نیوز ایجنسی نے ویڈیو جاری کی جس میں ان کے جسد خاکی کو ایرانی جھنڈے میں لپیٹے ایک تابوت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اان کے جسد خاکی کے ساتھ سیاہ لباس میں ملبوس ہزاروں سوگواروں نے سڑکوں پر مارچ بھی کیا۔ جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ٹرک کے پچھلے حصے میں قاسم سلیمانی کا تابوت رکھا ہوا ہے اور اطراف میں سوگواروں کا ہجوم موجود ہے۔


علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے رہنما ابو مہدی المہندس، جو قاسم سلیمان کے ساتھ امریکی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، ان کا جسد خاکی بھی احواز پہنچایا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز قاسم سلیمان اور عراقی ملیشیا کے رہنما المہندیس کے قتل پر سوگ منانے کے لیے ہزاروں افراد نے عراق میں مارچ کیا تھا اور ‘امریکا کو موت’ کے نعرے لگائے۔سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے پارلیمانی اجلاس میں بھی ایرانی پارلیمنٹیرینز نے ‘امریکا کو موت’ کے نعرے لگائے تھے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جمکران مسجد کے کنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا۔قدیم ایرانی تہذیب میں سرخ پرچم لہرنے کا مقصد ‘جنگ یا جنگ کی تیاری’ سمجھا جاتا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کے جنوبی صوبہ کرمان میں سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابوحمزہ نے دھمکی دی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے امریکی اہداف کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور ‘خطے میں 35 اہم امریکی اہداف ایران کے دسترس میں ہیں اور امریکا کا دل اور زندگی تل ابیب بھی ہماری پہنچ میں ہے۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا لیڈر پر کیے گئے ڈرون حملے کے بدلے میں امریکیوں یا امریکی اثاثوں پر حملے کی جوابی کارروائی کرنے پر ایران کو 52 ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button