جنرل مشرف کو سزائے موت کیس میں بڑا دھچکا لگ گیا

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی غداری کے جرم میں سزائے موت کیخلاف اپیل پر اعتراض لگا کراسے واپس کر دیا ہے اور سابق جرنیل کے عدالت میں خود کو سرنڈر کرنے کی شرط رکھی ہے.
سپریم کورٹ آفس کے سابق آرمی چیف کی اپیل پراعتراض سے اس قانونی نقطے کو پذیرائی ملی ہے کہ کسی مفرور ملزم کی اُس وقت تک کورٹ سے دادرسی ممکن نہیں ہے جب تک وہ خود کو مجازعدالت میں سرنڈر نہ کرے. اسی نوعیت کا اعتراض اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اٹھایا تھا اور سابق فوجی صدر کی خصوصی عدالت کیخلاف اپیل پر سماعت نہیں کی تھی کہ وہ مفرور ہے. اب سپریم کورٹ نے بھی یہی اعتراض لگا کر مشرف کی اپیل واپس کردی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ آفس کے اعتراض سے لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے فیصلے پر دوسری مرتبہ سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مشرف کی درخواست پر خصوصی عدالت کی فیصلے کے خلاف فیصلہ کیسے دے دیا کیونکہ وہ قانون سے بھاگے ہوئے ہیں یعنی مفرور ہیں.
اس سے پہلے جنرل مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے اپنے حق میں آنے والے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کر کے اس فیصلے کو خود ہی متنازعہ بنا دیا تھا بلکہ اس فیصلے کی نفی بھی کر دی تھی.
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے اور ان کی اپیل کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض نے قانونی الجھن پیدا کر دی ہے اور بقول قانونی ماہرین کے یہ قانونی الجھن اُس وقت تک نہیں سلجھے گی جب تک سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف خود کو آئین کے تحت قائم ہونے والی خصوصی عدالت کے روبرو سرنڈر نہیں کرتے.
باخبر ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے دفتر نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی اپیل کو مدعی کے خود پیش نہ ہونے کی بنیاد پر واپس کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس اپیل کو سنا نہیں جاسکتا۔ پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے قواعد 1980 کی شق 8 کے آرڈر 23 کے تحت عدالت عظمیٰ کسی بھی سزا یافتہ شخص کی اپیل اس وقت تک قبول نہیں کرے گی جب تک وہ خود عدالت کے سامنے پیش نہ ہو۔
پرویز مشرف کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا اور 17 دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف 65 صفحات پر مشتمل درخواست میں پرویز مشرف نے وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ٹرائل آئین اور ضابطہ فوجداری کی صریحاً خلاف ورزی ہے اس لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران خصوصی عدالت نے 6 مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کی اور پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔
اس سے پہلے 27 دسمبر 2019 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے 13 جنوری 2020 کو فیصلہ سناتے ہوئے پرویز مشرف کو سنگین غداری کے جرم میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔
