کیا آج کا پاکستان روحانیت کے سہارے چل رہا ہے؟

کیا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے پاکستان روحانیت کے سہارے چل رہا ہے؟ یہ سوال آجکل ہر خاص و عام کی زبان پر ہے لیکن اس کا جواب صرف اور صرف عمران خان دے سکتے جو کہ روحانی دنیا اور اسکے اثرات پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ روحانیت کے بغیر مذہب کو سمجھنا مشکل ہے۔
ماضی کا پلے بوائے اور آج کا درویش کپتان روحانیت کی راہوں کا مسافر ہوچکا ہے۔ عرف عام میں روحانیت اس کیفیت کا نام ہے جو ایمان ، تقوی اور توکل پر عمل پیرا ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کا مادیت سے کوئی تعلق نہیں۔ روحانیت پر یقین رکھنے والے البتہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نظام روحانی طور پر چل رہا ہے۔ اس خطے کے روحانی سربراہ کی بات کی جائے تو وہ خواجہ فرید الدین گنج شکر آف پاکپتن سمجھے جاتے ہیں۔ روحانیت پسندوں کو یقین ہے کہ پاکستان میں عروج و زوال ، تخت یا تختہ ، فتح و شکست انہی کی دعا سے ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صدیوں سے اس خطے کے تمام روحانی خانوادے سات محرم کے دنوں میں پاکپتن آتے ہیں اور بہشتی دروازہ کھلنے کے ایام میں اس دربار کے فیوض و برکات سمیٹتے ہیں ۔ روحانی دنیا کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بابا فرید نہ صرف اس خطے کے روحانی فیصلے کرتے ہیں بلکہ مادی دنیا کے فیصلے بھی انہی کے دربار میں ہوتے ہیں۔ اس لئے کہا جارہا ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بنانے کے فیصلے پر مہر تصدیق اسی دربار سے ثبت ہوئی۔ روحانیت کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان پر روحانی نظر کرم تو ورلڈ کپ کی فتح سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی لیکن ان کے توکل ، فکر اور روحانیت کی کھوج نے انہیں دین کے علاوہ دنیا میں بھی کامیاب کردیا۔ یعنی انہیں روحانی اور دنیاوی دونوں ہی کامیابیاں اکٹھے مل گئیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ عمران کی روحانی خوبیوں نے ان کی دنیاوی آلائشوں کی صفائی بھی شروع کردی ۔ کہتے ہیں خدا سے لو لگانے کی خواہش رکھنے والوں کی غیبی امداد ہوتی ہے اور کپتان کے لیے اس امداد کا براہ راست آغاز بشریٰ بی بی سے ان کے روحانی تعلق پر ہوا جو بالآخر رشتہء ازدواج پر منتج ہوا۔
بشری بی بی دراصل بابا فرید کی تعلیمات کی سالک اور مرید ہیں۔ ان کے قریبی عزیز کہتے ہیں جب بشریٰ بی بی کا دل خود پھرا تو انکی روح میں ایمان کی روشنی سرائیت کر گئی۔ ان کا باطن روشن ہوا تو تو وہ جوتے اتار کر ننگے پاؤں لاہور سے ہی پیدل پاکپتن روانہ ہوگئیں۔ اس ایک ہی سفر نے روحانیت کے تمام دروازے ان پر وا کر دئیے۔ ان کی دعا میں تاثیر پیدا ہوگئی اور ان کی ہدایت میں روحانیت بھرآئی۔ اور بقول شخصے ایسی ہی قبولیت کے لمحوں میں عمران خان کی وزارت عظمی کی دعا بھی درجہ قبولیت اختیار کر گئی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی نے روحانیت کی سچائی کا ثبوت یوں بھی دیا کہ انتخابات سے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں خوشخبری بن کر عمران خان کے پاس آئی ہوں ۔یہی اگلا وزیراعظم بنے گا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ پی ٹی آئی 116 نشستیں حاصل کرے گی۔ خدا کی کرنی دیکھیے جو کچھ بشریٰ بی بی نے عمران سے کہا تھا وہ ہوبہو پورا ہوا۔ پھر عمران بشری بی بی کے مرید کیوں نہ ہوں؟
کہا جاتا ہے کہ بشری بی بی کی سب سے پکی اور پرانی سہیلی فرح کے میاں احسن جمیل کے نانا بھی ولی اللہ تھے۔ احسن جمیل کو جگر کی بیماری ہوئی تو وہ جگر کی تبدیلی کے لئے امریکہ میں ایک سال مقیم رہے مگر ویٹنگ لسٹ بہت لمبی تھی۔ ایک روز بشریٰ بی بی سے بات ہوئی تو احسن جمیل نے بتایا باری آنے کی لائن بہت لمبی ہے۔ میرے لیے دعا کریں۔ بشریٰ بی بی نے دوسرے ہی دن فون کیا اور کہا میں نے حضرت فاطمہ سے درخواست کی ہے اور انھوں نے آپ کی دعا قبول کرلی ہے۔ احسن جمیل کے بقول دوسرے ہی دن انہیں فاطمہ نامی خاتون نے فون کرکے کہا کہ فورا اسپتال پہنچیں آپ کا جگر ٹرانسپلانٹ کرنا ہے۔ احسن جمیل اسے حسن اتفاق سمجھنے کو تیار نہیں اور نہ ہی روحانی دنیا کا کوئی اور شخص۔
اسے ہی تو کرامت کہتے ہیں کوئی مانے یا نہ مانے مادیت پرست یقین کرے نہ کرے سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نشاۃ ثانیہ کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اب روحانیت پاکستان کے حالات بدلنے جا رہی ہے۔
عمران خان پر پنکی پیرنی کا اچھا خاصہ اثر نظر آتا ہے۔ شادی کے بعد سے وہ کافی بدلے بدلے سے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ہاتھ میں تسبیح رکھنا شروع کر دی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ ملکی سیاست اور حکومتی معاملات کے حوالے سے ہر بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے بشری بی بی سے مشورہ کرتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان آجکل روحانیت کے سہارے چل رہا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button