بیمار قیدیوں سے متعلق کمیشن رپورٹ عدالت میں پیش

حکومت نے جیل اصلاحات اور بیمار قیدیوں کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کمیشن کی رپورٹ پیش کردی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری نے عدالت میں حاضر ہو کر ازخود جیل ریفارمز کمیشن رپورٹ چیف جسٹس اظہر من اللہ کو پیش کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جیل اصلاحات اور بیمار قیدیوں کے حوالے سے سماعت کے دوران شیری مزاری پیش ہوئیں تو عدالت نے استفسار کیا کہ ہم نے تو آپ کو نہیں بلایا تھا۔جس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ میں خود آئی ہوں اور عدالت کے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ پیش کرنا چاہتی ہوں۔دوران سماعت شیری مزاری نے بتایا کہ حکومت نے بیرسٹر فروغ نسیم اور علی ظفر پر مشتمل جیل ریفارمز کمیٹی بنائی تھی اور ہم نے جیل میں قیدیوں کے ساتھ خواجہ سرا کے لیے بھی الگ سیل بنانے کا پلان دیا ہے۔
علاوہ ازیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گرفتاری کا اختیار لامحدود استعمال ہورہا ہے اور سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ گرفتاری کے اختیار کو آپ غلط استعمال نہیں کرسکتے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے، سزا یافتہ قیدی اگر شدید بیمار ہو جائے اسے رہا کرے اور اسلام کا پورا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو انسان کی طرح ٹریٹ کیا جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ فلسفہ ہے سو گناہ گاروں کو چھوڑ دو ایک بے گناہ کو سزا نہ ہونے دو، نیلنسن منڈیلا نے کہا تھا اگر کسی قوم کی گورننس اور حالات کا جائزہ لینا ہو تو جیلوں کی حالت دیکھ لیں۔اس دوران میڈیکل افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 249 ایسے قیدی جیل میں سامنے آئے ہیں جن کو فوری ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔
جیل میں قیدیوں کے حالت زار کیس کے دوران لاپتہ افراد کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔چیف جسٹس اظہر من اللہ نے ریمارکس دے کہ جو لوگ لاپتہ ہیں،ریاست ان کے لاپتہ ہونے کی وجوہات بتائے کہ کیوں لاپتہ ہیں؟اس پر شیری مزاری نے کہا کہ ‘ہمارے ہاں 5-6 سال سے لوگ لاپتہ ہیں اور ان کے خاندان والے شدید اذیت میں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ انگریز کے قانون سے زیادہ اسلامی شرعی لا اور فق میں حقوق واضح ہیں۔
چیف جسٹس اظہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جیل میں بچوں کے حوالے سے بھی کام کیا ہے؟جس پر شیریں مزاری نے جواب دیا کہ ‘ بالکل، جیل میں بچوں اور خواتین سے زیادتی کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم تو بچوں سے زیادتی کے کیسز پر بھی آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔عدالت نے قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین طلب کرتے ہوئے سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔
