واؤڈا کے بوٹ دکھانے پر نون لیگ کا اسٹیبلشمنٹ سے گلہ

نون لیگ کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کو گلہ بھجوایا ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کے بعد جس طرح ایک حکومتی وزیر نے ٹی وی پر سر عام فوجی بوٹ دکھا کر ان کی بےعزتی کی وہ ہرگز بھی اس سلوک کے مستحق نہیں تھے اور ان کے مطالبے کے باوجود فیصل واوڈا کو وزارت سے فارغ نہیں کیا گیا۔ جواب میں نون لیگ کی قیادت کو پیغام دیا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کی حرکت قابل مذمت ہے اور اس معاملہ کو عسکری شخصیات نے ذاتی طور پر وزیراعظم کے سامنے اٹھایا جنہوں نے اپنے وزیر کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی ہے۔ تاہم جو کچھ فیصل واوڈا نے نون لیگ کے ساتھ کردیا ہے کپتان کی ڈانٹ ڈپٹ اسکا عشر عشیربھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس وقت نون لیگ کی قیادت ووٹ کو عزت دینے کے بیانیے سے پھر کر بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کر رہی تھی اسوقت انہیں کیا اندازہ نہیں تھا کہ اس فیصلے پر کس قسم کا سخت ردعمل سامنے آئے گا۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر قانون سازی کے وقت مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور چند دیگر رہنماؤں نے مجوزہ مسودے میں ترامیم کی خواہش کا اظہار کیا تو مقتدر حلقوں اور شریف برادران کے دباؤ پر انہیں خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ اس طرح ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو بھی رسوا کروایا اور مجوزہ بل کوما اور فل سٹاپ تک تبدیل کئے بغیر ہوبہو پاس کروالیا گیا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے چھ جنوری کی رات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اپوزیشن چیمبر میں مسلم لیگ نون کے پارلیمانی سیکرٹری رانا تنویر حسین، ایازصادق، احسن اقبال اور محسن شاہنواز رانجھا نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مجوزہ قانون سازی میں ترامیم پر تبادلہ خیال کیا۔ لیگی رہنماؤں کی جانب سے آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی اور توسیع جیسے الفاظ کی جامع تعریف وضع کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اسی دوران نون لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو ایک نامعلوم فون کال موصول ہوئی جس میں ایک طاقتور سرکاری شخصیت نے ان سے مجوزہ ترمیمی بل میں نون لیگ کی جانب سے ترامیم متعارف کروانے کی کوششوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ احسن اقبال نے انہیں قائل کرنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔
اسی دوران احسن اقبال کو نیب حکام کی جانب سے کال موصول ہوئی اور یوں احسن اقبال دوبارہ نیب کی حراست میں راولپنڈی کے لاک اپ میں پہنچا دیئے گئے۔ اسی رات وزیر دفاع پرویز خٹک اور بیرسٹر فروغ نسیم نے بھی نون لیگی رہنماؤں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ حکومت کے مسودے کی مکمل طور پر حمایت کی جائے اور اس میں مزید ترامیم لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس صورتحال میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جب پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو حکومتی نمائندوں کی آمد اور ان کے مؤقف سے آگاہ کیا تو پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف، نوید قمر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اپوزیشن چیمبر پہنچے۔ ذرائع کے مطابق ترمیم کے مسودے پر بحث شروع ہوتی ہےتو ایک اپوزیشن رہنما نے نکتہ اٹھایا کہ آرمی، ائیرفورس اور نیوی تینوں کے قوانین میں چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا الگ الگ ذکر موجود ہے جو کہ درست نہیں، اسے ٹھیک ہونا چاہیے۔ تاہم خواجہ آصف کی جانب سے انہیں ٹوک دیا گیا کیونکہ پارٹی قائد نواز شریف کی جانب سے انہیں واضح ہدایات مل چکی تھیں کہ آرمی ایکٹ میں نون لیگ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور اسے بلا حیل و حجت منظور کروائے گی۔
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اس اہم بیٹھک میں اپوزیشن رہنماؤں کو بتایا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے اب وزیراعظم بااختیار ہیں اور وہ آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی اور اس کے بعد توسیع دینے کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔ یعنی آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے اختتام پر وزیراعظم انہیں ایک سال کی پھر توسیع دے سکیں گے کیونکہ دوبارہ تعیناتی کی مدت مکمل ہونے پر بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی عمر 63 سال ہوگی۔
اس اہم موقع پر پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ وہ نئی ترامیم لانا چاہتے ہیں اور انکی خواہش ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی مل کر آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں چند تبدیلیاں لائیں۔ مگر نون لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری خواجہ آصف نے انکار کردیا اور کہا کہ آپ ایسا نہ کریں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہم اس بل کو جوں کا توں پاس کروانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ بعد ازاں یہی ہوا۔۔۔ جب بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو نون لیگ بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کرکے انتہائی مطمئن تھی اور پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے بھی آصف زرداری کی ہدایت پر شرمندہ لہجے میں فلور آف دا ہاؤس اعلان کردیا کہ وہ آرمی ترمیمی ایکٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ واپس لیتے ہیں اور بعد ازاں تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے موم کی ناک کا عملی مظاہرہ کیا اور بوٹ والوں نے انہیں اپنی مرضی سے موڑ لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button