جنرل نیازی نے 1971 میں کس خوف سے ہتھیار ڈالے؟

بھارتی فوج کی مشرقی کمان کے سٹاف آفیسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب نے 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران پاکستانی فوجی کمان کے سربراہ جنرل اے کے نیازی کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا حالانکہ اس وقت ڈھاکا میں بھارتی کے صرف 3000 فوجی موجود تھے جب کہ پاکستان کے 26 ہزار سے زیادہ فوجی موجود تھے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ میں عددی فوجی برتری رکھنےاور مزید دو ہفتے جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود جنرل نیازی نے ہتھیار تب ڈالے جب جنرل جیکب نے جنرل نیازی کو یہ دھمکی دی کہ اگر انہوں نے سرنڈر نہ کیا تو ان کے خاندان کو قتل کر دیا جائے گا۔ جنرل جیکب کے مطابق اس وقت ڈھاکہ میں پاکستان کے پاس 26400 فوجی تھے جبکہ بھارت کے پاس صرف تین ہزار اور وہ بھی ڈھاکہ سے تیس کلومیٹر باہر تھے۔
وہ جنرل جیکب ہی تھے جنھیں ان کے باس جنرل مانک شاہ نے پاکستانی فوج سے ہتھیار ڈلوانے کے لیے ڈھاکہ بھیجا تھا۔ انھوں نے ہی جنرل نیازی سے بات کر کے انھیں ہتھیار ڈالنے کے لیے راضی کیا تھا۔ بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل جیکب نے بتایا کہ جب جنرل نیازی نے ہتھیار ڈالے تو اس وقت ان کے پاس ڈھاکہ میں 26400 فوجی تھے جبکہ بھارت کے پاس صرف تین ہزار اور پاکستانی فوج کم از کم دو ہفتے اور لڑ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں سکیورٹی کونسل کا اجلاس جاری تھا اور اگر پاکستانی افواج صرف چوبیس گھنٹے اور ہتھیار نہ ڈالتیں تو بھارت کو شکست ہونے کا امکان تھا۔ تاہم حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے مطابق جنرل نیازی نے ہتھیار ڈالنے کی دو وجوہات بتائیں۔ پہلی یہ کہ انہیں جنرل یحییٰ خان نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا اور دوسری وجہ یہ بتائی کہ جنرل جیکب نے ان کے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔
بی بی سی کے نمائندے نے جب ایک انٹرویو کے دوران جنرل جیکب سے پوچھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ بھارت کی سیاسی قیادت چاہتی تھی کہ بھارتی فوج اپریل 1971 میں بنگلہ دیش کے لیے نکل پڑے لیکن فوج نے اس فیصلے کی مخالفت کی، اس کے پیچھے کہانی کیا ہے؟ میجر جنرل جے ایف آر جیکب نے بتایا کہ جنرل مانک شاہ نے انھیں فون کر کے کہا کہ بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی تیاری کیجیے کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ ہم وہاں فوراً مداخلت کریں۔ ’میں نے انھیں بتانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس پہاڑی ڈویژن ہے، ہمارے پاس کوئی پل نہیں ہے اور مون سون شروع ہونے والا ہے، ہمارے پاس بنگلہ دیش میں گھسنے کے لیے فوجی اور بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔‘
’اگر ہم وہاں جاتے ہیں، تو یہ یقینی ہے کہ ہم وہاں پھنس جائیں گے۔‘ لہذا، میرا کہنا تھا کہ 15 نومبر تک اسے ملتوی کرنا چاہیے جب تک کہ زمین مکمل طور سے خشک نہ ہو جائے۔ جنرل جیکب کا کہنا تھا کہ مانک شاہ کی منصوبہ بندی میں ڈھاکہ پر قبضہ کرنا شامل نہیں تھا لیکن ‘میں نے ان سے کہا کہ اگر ہم جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو ڈھاکہ پر قبضہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کی سٹریٹیجک اہمیت یہ ہے کہ یہ مشرقی پاکستان کا جغرافیائی دل بھی ہے۔’ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کھلنا اور چٹاگانگ لے لیتے ہیں تو ڈھاکہ خود ہی ہمارے قبضے میں آ جائے گا۔ انہوں نے کہا۔کہ مجھے نہیں پتہ اس کی کیا وجہ تھی، میں صرف یہ جانتا ہوں کہ ہمیں صرف کھلنا اور چٹاگانگ پر قبضہ کرنے کا تحریری حکم ملا تھا۔
اس سوال پر کہ کیا یہ بات درست ہے کہ اگر پاکستان 3 دسمبر کو بھارت پر حملہ نہ کرتا تو آپ 4 دسمبر کو پاکستان پر ہلہ بول دیتے، جنرل جیکب کا کہنا تھا کہ یہ بلکل درست ہے۔ ’میں نے آرمی ڈپٹی چیف سے ملاقات کی اور مجھے بتایا گیا کہ اس حملے کی تاریخ پانچ دسمبر طے پائی ہے لیکن مانک شاہ نے اسے ایک دن پہلے کر دیا کیونکہ چار ان کا لکی نمبر تھا۔‘ سولہ دسمبر کا دن یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا میرے پاس مانک شاہ کا فون آیا کہ جیکب ڈھاکہ جا کر ہتھیار ڈلوائیں۔ میں جب ڈھاکہ پہنچا تو پاکستانی فوج نے مجھے لینے کے لیے ایک بریگیڈیئر کو بھیجا۔ جب میں نے جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے سے متعلق دستاویز پڑھ کر سنائیں تو انھوں نے کہا کہ ’کس نے کہا ہے کہ ہم ہتھیار ڈال رہے ہیں، آپ یہاں صرف جنگ بندی کرانے آئے ہیں۔ اس بارے میں بحث ہوتی رہی میں نے ان سے کہا کہ ہم نے آپ کو بہت اچھی پیشکش کی ہے اور اس سے بہتر پیشکش نہیں کر سکتے، ہم آپ کی اور آپ کے خاندانوں کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں لیکن آپ اس پیشکش کو نہیں مانتے تو پھر ہماری کوئی ذمہ دار نہیں ہوگی۔ اس پر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘ جنرل جیکب نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو تیس منٹ دیتا ہوں اگر آپ نہیں مانتے تو میں پھر سے جنگ شروع کرنے اور ڈھاکہ پر بمباری کا حکم دے دوں گا۔ ’یہ کہہ کر میں باہر چلا گیا لیکن دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں اور ان کے پاس ڈھاکہ میں 26400 فوجی ہیں اور ہمارے پاس صرف تین ہزار اور وہ بھی ڈھاکہ سے تیس کلو میٹر باہر۔ اگر وہ نہ کر دیتے ہیں تو میں کیا کروں گا۔‘ ’میں تیس منٹ بعد اندر گیا دستاویز وہیں میز پر تھیں، میں نے ان سے پوچھا کیا آپ کو یہ منظور ہے تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے تین بار سوال کیا پھر کاغذ میز سے اٹھا کر کہا میں یہ مان کر چل رہا ہوں کہ آپ کو یہ منظور ہے۔ چنانچہ جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال دیئے۔
