جنسی درندوں کو نا مرد بنانے کے لیے قانون لانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو نشان عبرت بنانے کے لیے نامردی یا خصی کرنے کی تجویز آنے کے بعد اب وفاقی حکومت نے اس حوالے سے قانونی مسودے کی تیاری کا آغاز بھی کردیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پلے بوائے کی شہرت رکھنے والے عمران خان نے موٹروے ریپ کیس کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان میں ریپسٹس کو سرعام پھانسی لگتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین سے ہمارے تجارتی روابط ختم ہوسکتے ہیں اس لیے ان کی یہ تجویز ہے کہ ریپ کے تمام مجرموں کو خصی کر دیا جائے تاکہ وہ نشان عبرت بھی بن جائیں اور آئندہ یہ قبیح فعل دہرانے کے قابل بھی نہ رہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ موقف لاہور موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ ریپ کے ایک حالیہ واقعے کے سخت ردعمل اور ملک کے مخلتف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔عمران خان نے ایک انٹرویو میں مذکورہ مقدمے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے، تاہم اس سے ان ممالک سے تجارت متاثر ہو سکتی ہے جو سزائے موت کے خلاف ہیں جن میں یورپی یونین شامل ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو کیمیائی طریقے سے نامرد بنا دینا چاہیے۔ میں نے پڑھا ہے کہ ایسا کئی ملکوں میں ہو رہا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جس طرح قتل کی پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے لحاظ سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ جنسی زیادتی کے جرم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور پہلے درجے کے جنسی جرم کی سزا جنسی صلاحیت سے محروم کرنا ہونی چاہیے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس حوالے سے قانونی مسودے کی تیاری کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے یکم جولائی کو متفقہ طور ایک ترمیمی بل منظور کیا تھا جس میں بچوں سے ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا سمیت دیگر سخت سزاؤں کی منظوری دی گئی تھی۔ اس بل کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے والے وزیر احمد رضا قادری کا کہنا تھا یہ قانون سخت ضرور ہے مگر اس کو ایسے جرم کے خلاف نافذ کیا جا رہا ہے جو انتہائی غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بل میں دفعہ 377 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے علاوہ سزائے موت اور عمر قید میں سے کوئی بھی ایک سزا دینے کی تین تجاویز ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور کے قریب موٹر وے پر خاتون کو بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آنے کے بعد حالیہ دنوں میں پاکستان بھر میں ہزاروں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ واقعے کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے واقعے کی ذمہ داری خاتون پر ڈال دی کہ وہ رات کے وقت کسی مرد کے بغیر سفر کیوں کر رہی تھیں۔
کپتان کی جانب سے بدترین جنسی جرائم میں ملوث مجرموں کو کیمیائی عمل کے ذریعے نامرد بنانے کی سزا دینے کے حوالے سے بیان پر ملا جلا عوامی ردعمل سامنے آرہا ہے۔ اس بیان کو جہاں بہت سے لوگ سراہ رہے ہیں، وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ اس سے صرف غریب ہی سزا پائیں گے اور امیر پیسہ دے کر بچ جائیں گے۔ ایک صارف نے لکھا یہ کرپشن کا نیا طریقہ ہے۔ غریبوں کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ امیر لوگ پیسے کے استعمال سے اس سے بچ جائیں گے۔ لوگ تو ڈاکٹر خرید لیتے ہیں۔ سرعام پھانسی ہی اس جرم کو روک سکتی ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘اس عمل کے باوجود بھی ریپ کرنے والے ہمارے آس پاس گھوم رہے ہوں گے۔ کیا اس طرح سے انہیں خواتین کو ہراساں کرنے سے روکا جاسکتا ہے؟ایک اور صارف نے اسے ‘لولی پوپ’ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ‘کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔’عمر نامی صارف نے بھی ان ہی خیالات کا اظہار کیا کہ ‘یہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہوگا جن کے پاس پولیس کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے۔’
دوسری جانب ریا نامی ایک صارف نے وزیراعظم کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ‘میں پھانسی کی بجائے اس اقدام کی حمایت کرتی ہوں۔ اس طرح کم از کم ریپ کے مجرم کو ‘نامرد’ کے لیبل کے ساتھ اپنا جرم ہمیشہ یاد رہے گا۔’
بشریٰ نامی صارف نے سکینڈی نیویا کی مثال دی، جہاں اس عمل کے نتیجے میں ریپ کیسز میں کمی آئی اور ساتھ ہی لکھا کہ پاکستان میں اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے۔
انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انھیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہو سکتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تو انہیں چوک میں لٹکانا چاہیے۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس جرم کے لیے سرعام پھانسی کے حق میں ہیں تاہم انہیں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے حق میں فائدہ مند نہیں کیونکہ یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کی اجازت معطل ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ موٹر وے ریپ کیس کی بڑے پیمانے پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں مذمت کی جا رہی ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے حکومت اور پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔تاہم پی ٹی آئی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایسے مطالبات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے تشدد میں مزید اضافے کا سبب قرار دیا تھا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وزرا اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسی باتیں کرنا ہمارے معاشرے کی متشدد سوچ کا عکاس ہے، جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔ دوسری جانب مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے وزیر اعظم کی جانب سے جنسی درندوں کو خصی کرنے اور سرعام پھانسی کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں اس حوالے سے سرعام سزائیں دی جاتیں تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
