سی سی پی او لاہور عمر شیخ نئی مشکل میں پھنس گئے

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، گجرپورہ کے سابق ایس ایچ او رضا نے کہا ہے کہ میں سید زادہ ہوں، عمر شیخ نے مجھے گالیاں دیں، منشیات فروشوں کو سزا دینے پر مجھے گرفتار کرلیا، اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سی سی پی او آفس کے سامنے خودکشی کرلوں گا۔ انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ میرا نام سید احمد رضا جعفری ہے۔
میں سابق ایس ایچ او گجرپورہ ہوں، میں نے ڈیڑھ سال قبل وہاں سے منشیات فروش پکڑے تھے۔ ویڈیو وائرل ہونے پر ان کو وہاں سے بھگا دیا گیا تھا۔ ان میں سے بھاگنے والا ایک شخص گھر میں ہارٹ اٹیک سے مر گیا تھا۔ اس بندے کے حوالے سے 302 کا مقدمہ ہوا، ملازموں پر پرچہ ہوا، مجھے شوکاز نوٹس ملا۔ اس بندے کو سزا بھی مل گئی ہے۔ اب سی سی پی او لاہور نے ہمیں ڈیڑھ سال بعد بلایا ہے، ہمیں غلیظ گالیاں دی ہیں۔
بدسلوکی کی ہے، جو اس کے عہدے کے شایان شان نہیں ہے۔ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ میں وزیر اعظم، وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے ساتھ اس زیادتی کو روکا جائے۔ مجھے اب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ میں اس وقت پولیس کی تحویل میں ہوں۔ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سی سی پی او آفس کے سامنے خودکشی کرلوں گا۔ میں لکھ کر دوں گا میری میرے بچوں کی خودکشی کے ذمے دار سی سی پی او ہیں۔ میں بےگناہ ہوں۔ سارے مقدمے فائل ہوچکے ہیں۔ سی سی پی او اب میڈیا میں جو ان کی سبکی ہورہی ہے اس کو مٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کرول جنگل میں ایک سال قبل بنائے جانے والے ٹارچر سیل کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر رضا اور چار تھانیداروں کو حوالات میں بند کردیا ہے۔ عمر شیخ نے کہا کہ گرفتار اہلکاروں نے ایک سال قبل کرول جنگل میں ایک نجی ٹارچر سیل بنایا ہوا تھا۔ اہلکاروں کے تشدد سے شہری امجد ذوالفقار قتل ہوگیا تھا۔ انکوائری میں پولیس اہلکاروں کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button