جنگ کے دوران انتخابات ملک کو تقسیم کر سکتے ہیں، زیلنسکی کی وارننگ

یوکرینی صدر نے جنگ کے خاتمے سے قبل انتخابات کرانے کے مطالبات مسترد کردیئے، سیاسی انتشار کے خدشات کا اظہار

کیف (نیوز ڈیسک) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے سے قبل انتخابات کرانے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ووٹنگ ملک کو شدید سیاسی انتشار اور تقسیم کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران انتخابات کرانا یوکرین کے لیے ایک بڑا خطرہ ہوگا اور اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یوکرینی صدر نے یہ بیان صحافیوں سے ہونے والی بریفنگ کے دوران دیا، جس میں انہوں نے یوکرین کی داخلی سیاست اور جنگ سے متعلق اہم معاملات پر گفتگو کی۔

ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ موجودہ جنگی حالات میں انتخابات کا انعقاد ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یوکرین کو کمزور کرنا مقصود ہو تو جنگ کے دوران انتخابات کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ انتخابات کے جمہوری حق کے خلاف نہیں ہیں، تاہم موجودہ حالات میں انتخابی عمل ملک کے اندر اختلافات کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی معاشرے اور فوج کے درمیان کسی بھی قسم کی تقسیم انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

زیلنسکی کا یہ ردعمل سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف کی جانب سے جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے راستہ تلاش کرنے کی تجویز کے بعد سامنے آیا۔ فیدوروف کی تجویز کو سیاسی حلقوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے بعض حامیوں نے بھی اس موقف سے فاصلہ اختیار کیا۔

یوکرینی صدر نے فیدوروف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وہ خود یا کسی کے دباؤ میں آکر غلط سمت میں جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین میں جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے کئی بنیادی مسائل درپیش ہیں، جن میں محاذ پر موجود فوجیوں کے ووٹ ڈالنے کا طریقہ، بیرون ملک موجود یوکرینی پناہ گزینوں کی شرکت اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کے شہریوں کے ووٹ کا مسئلہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ روس کی جانب سے ممکنہ غلط معلومات اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی ایک بڑا خطرہ قرار دی جاتی ہیں۔

روس کی جانب سے 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ ہے، جس کے باعث قومی انتخابات معطل ہیں۔ جنگ کے سبب لاکھوں شہری بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں جبکہ کچھ علاقے روسی قبضے میں ہیں، جس سے ملک گیر انتخابی عمل ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو ایسے تمام عوامل سے بچنا ہوگا جو جنگ کے دوران قومی اتحاد کو کمزور کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح اس وقت انتخابات کے انعقاد کے بجائے قومی اتحاد برقرار رکھنا اور روسی حملوں کے مقابلے میں دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

Back to top button