جہانگیرترین نےدواینکرپرسنزکےخلاف ہتک عزت کادعویٰ کردیا

پاکستان تحریک انصاف کےسینئررہنما جہانگیرترین نے مبینہ طور پر اپنے پروگرامزمیں جھوٹےالزامات لگانےاوران کی ساکھ کونقصان پہنچانےکی کوشش کرنے پراینکرپرسن شاہزیب خانزادہ اوروسیم بادامی کے خلاف ایک ایک ارب روپےہرجانےکا ہتک عزت کا دعویٰ دائرکردیا ہے اورکہا ہے کہ 14دن میں معافی نہ مانگنے پرقانونی کارروائی کریں گے۔
شاہزیب خانزادہ کوبھیجےگئےنوٹس کےمطابق 21 جنوری کوجیو نیوز پرنشرکیےگئے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کےساتھ‘ میں شاہزیب خانزادہ نےیہ تاثردیا تھا کہ جہانگیر ترین ’ شوگر مافیا ‘ کا حصہ ہیں اورملک بھرمیں چینی کی مصنوعی مہنگائی پیدا کرنےمیں اجتماعی طورپرشامل ہیں۔ علاوہ ازیں نوٹس میں کہاگیا کہ شاہزیب خانزادہ نےکہا تھا کہ جہانگیرترین چینی کی پیداوار،فروخت،درآمد یا برآمد سےمتعلق وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی پالیسی کا’ فیصلہ یا انتظام کررہےتھے‘جس کی وجہ سےچینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ نوٹس میں کہا گیا کہ یہ تاثربھی دیا گیا کہ شوگرانڈسٹری میں جہانگیرترین کامفاد حکام کی جانب سےشوگرملزکی ریگولیشن اورچینی کی قیمت میں رکاوٹ بناہوا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ جہانگیرترین وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ نہیں ہیں لہٰذا وہ پالیسی سازی کےعمل پرااثراندازنہیں ہوسکتے۔ نوٹس میں اس بات پرزوردیا گیا کہ جہانگیر ترین کا کسی اتھارتی یا انضباطی اداروں جیسا کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کےساتھ کوئی گٹھ جوڑنہیں۔ شاہزیب خانزادہ نےاپنےپروگرام میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پربات کی تھی اورکہا تھا کہ جہانگیرترین زرعی مصنوعات کی درآمد اور برآمد کےمعاملات دیکھ رہےہیں ان کی شوگرملزہیں۔
وسیم بادامی کو بھیجےگئےعلیحدہ نوٹس میں جہانگیرترین نےکہا کہ 23 جنوری کواے آر وائےنیوزپرنشرکیےگئےشوالیونتھ آورمیں اینکرنےانہیں’ کرپٹ‘ کہا۔ نوٹس کےمطابق وسیم بادامی نےجہانگیرترین کےخلاف مبینہ کرپشن یا بدعنوانی کےعمل کا کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیےتھے۔ اپنے پروگرام میں وسیم بادامی نےٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کےکرپشن پرسیپشن انڈیکس(سی پی آئی) 2019 کی رپورٹ سےمتعلق بات کرتے ہوئےکہا تھا کہ وزیراعظم نے خود کوایسے لوگوں سےگھیرلیا ہےجن پرکرپشن کےالزامات ہیں۔ دونوں نوٹسزمیں جہانگیرترین نےشکایت کی شاہزیب خانزادہ یا وسیم بادامی نے’ انتہائی بدنیتی پرمبنی، بدنام کرنےوالےاورنقصان پہنچانےوالےبیانات پران کا جواب نہیں مانگا تھا۔
شاہزیب خانزادہ اوروسیم بادامی کے بیانات کو ’ بےبنیاد اورمن گھڑت‘ قراردیتےہوئےجہانگیر ترین کےوکیل نےاینکرپرسنز سےان کےہتک آمیزبیانات واپس لینےکا مطالبہ کیا اوراپنےمتعلقہ پروگرام میں‘ باقاعدہ عوامی معافی‘ مانگنےاورتوہین آمیز بیانات کی تردید شائع کرنےکا مطالبہ کیا ۔ نوٹس میں متنبہ کیا گیا کہ اگر اینکرپرسنزمذکورہ اقدامات نہیں اٹھاتےتوان کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس، 2002 کےتحت ایک ارب روپےہرجانےکےلیےقانونی کاروائی شروع کی جائے گی۔
یاد رہےدو روزقبل جہانگیرترین نےمیڈیا سےگفتگو کرتےہوئےکہا تھا کہ پنجاب میں ہماری حکومت مضبوط ہےاورحکومت پانچ سال پورے کرے گی، کمزورحکومت کا شورو واویلا صرف میڈیا کی حد تک ہے، میڈیا والےشام کوچینلوں پربیٹھ کر حکومت جانےکی بات کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی پچھلی حکومت کی وجہ سےہوئی ہے، سابقہ حکومت نےمصنوعی طورپرڈالر،گیس اوربجلی کےریٹس کو روکےرکھا۔ انھوں نےمزید کہا تھاکہ نوازشریف ملک میں واپس نہیں آئیں گے، ملکی نظام کی بہتری کیلئےلوکل باڈیزالیکشن 2020 میں ہی ہوں گے، ایک سوال کےجواب میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ گنےکی قیمت بڑھنےسےچینی کی قیمت بڑھی ہے۔
