جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے لیے احتساب کا دوہرا معیار کیوں؟


جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے خلاف شوگر سکینڈل کیسوں میں ایک جیسے منی لانڈرنگ الزامات کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پچھلے ہفتے جہانگیر ترین کو لندن جانے دیا جبکہ شہباز شریف کا نام نوفلائی لسٹ میں ڈال دیا جس سے موجودہ حکومت کا احتساب کا دوہرا معیار نمایاں ہوتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مضحکہ خیز طور پر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے پاکستان چھوڑ کر لندن چلے جانے کے ایک ہفتے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ اسے ان دونوں کے خلاف دائر کردہ کیسز میں منی ٹریل کی تلاش تو ضرور ہے لیکن ایف آئی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ سے دونوں رہنماؤں کا نام نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست نہیں کرے گی کیوںکہ ’ایف آئی اے کو اسکی ضرورت محسوس نہیں ہورہی‘۔
یاد رہے کہ جہانگیر ترین پہلے سے ہی لندن میں ہیں، اور انکا دعویٰ ہے کہ وہ ’طبی معائنے‘ اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے لندن گئے۔ اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی لندن جانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کا نام نوفلائی لسٹ میں ڈال کر انہیں باہر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کو چینی اسکینڈل کے 3 مقدمات میں 5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکا دہی کے الزامات کا سامنا ہے، لیکن پچھلے ماہ وزیراعظم عمران خان سے کچھ معاملات پر ڈیل ہو جانے کے بعد ایف آئی اے نے ان کا اور ان کے بیٹے کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی کارروائی شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’چونکہ والد اور بیٹے دونوں کی ایف آئی آر میں 5 ارب روپے سے زائد کے اثاثے موجود ہیں اس لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ حکومت سے ان کا نام نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی ضرورت محسوس نہیں کرتا‘۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے دونوں باپ اور بیٹے کی مشکوک ٹرانزیکشن کے سلسلے میں منی ٹریل سے متعلق شواہد تلاش کررہا ہے، یہ شواہد ان دونوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے نام نو فلائی لسٹ میں شامل ہیں جنہیں ایف آئی اے کے شوگر اسکینڈل میں 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکے کے الزامات کا سامنا ہے۔ یعنی جہانگیر ترین اور شہباز شریف دونوں کے خلاف ایف آئی اے کے الزامات کی نوعیت ایک ہے لیکن جہانگیر ترین کو نو فلائی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ شہباز شریف کو شامل کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ مہینے پہلے ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی تیز تر کر دی تھی اور ان کی گرفتاری کے امکانات بھی پیدا ہوگئے تھے لیکن پھر جہانگیرترین نے تحریک انصاف کے اندر ایک فارورڈ بلاک بنا کر وزیراعظم عمران خان پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں عمران خان کو جھکنا پڑا اور جہانگیر ترین کو ریلیف مل گیا۔ اب اسی ریلیف کے تحت جہانگیر خان ترین اپنے خلاف ایف آئی اے کی کاروائی کے باوجود لندن جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما کو کچھ ماہ قبل تب بھی ریلیف ملا تھا جب ایف آئی اے شوگر اسکینڈل اور منی لانڈرنگ کے کیسز میں ان کے خلاف ’مجرمانہ شواہد‘ نہ ہونے پر دونوں عدالتوں سے ان کی گرفتاری کی درخواست نہیں کی تھی۔
کہا جارہا تھا کہ جہانگیر ترین کو ملنے والے ریلیف کی وجہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 40 اراکین اسمبلی کا دباؤ تھا جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما جہانگیر ترین کو ان کے مطابق جعلی کیسز میں انصاف نہیں دیا گیا تو وہ وفاق اور مرکز میں بجٹ کے لیے ووٹ نہیں دیں گے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا ’تجزیہ‘ کیا تھا جس سے متعلق ترین گروپ کے ترجمان ایم این اے راجا ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ جہانگیر ترین کو ’کلین چٹ‘ دی تھی۔
ترین گروپ نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر پر جہانگیر ترین کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔
لاہور کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نذیر چوہان نے تو شہزاد اکبر کے عقیدے سے متعلق دعویٰ بھی کردیا تھا لیکن ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد انہوں نے اپنے بے بنیاد الزامات پر شہزاد اکبر سے معافی مانگ لی تھی اور ترین گروپ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین اپنے دوست عمران خان کی جانب سے دھوکا کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین سمجھتے ہیں کہ ایف آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی عمران خان کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں، جن کے لیے انہوں نے اپنے پیسے خرچ کیے تھے اور خاص طور پر پنجاب حکومت بنانے کے لیے انہیں اقتدار میں لانے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کیا تھا۔ تاہم اب حالات دوبارہ سے پلٹا کھا رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اگلا وقت جہانگیر ترین کا ہو۔

Back to top button