جے یو آئی اور جماعت اسلامی کا آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے لاتعلقی کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے آرمی ایکٹ پر قانون سازی سے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا ہے، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت اور بھرپور مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بل لایا جا رہا ہے ، یہ مسئلہ اہم نوعیت کا ہے جس میں عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ (ن) لیگ کا فرض تھا تمام جماعتوں کو اکٹھا کرتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا جا سکا ، بہت عجلت کے ساتھ سب کچھ کیا جا رہا ہے، جے یو آئی (ف) اس قانون سازی سے لاتعلق رہے گی، ووٹنگ میں حصہ لینا جعلی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بننا ہوگا ، ایسی قانون سازی کیلئے جمہوری ماحول چاہئے، فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کا ادارہ اور اس کا سربراہ غیرمتنازع ہیں ، انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔
انھوں نے کہا کہ ہم جعلی اسمبلی کو ایسا قانون پاس کرنے کی اجاذت نہیں دے سکتے جہاں عدالتی فیصلوں کو تحلیل کرنا ہو، وہاں قانون سازی نہیں بلکہ آئینی ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے ، پارلیمنٹ میں (ن) لیگ کا فرض تھا کہ پہلے تمام اپوزیشن کو اکٹھا کرتی ، ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو گزشتہ روز فون پر پیغام دیا تھا کہ سب کو اکٹھا کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا ، ووٹنگ کا حصہ بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی۔
بعد ازاں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بل سے لاتعلق رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے اس بل کی حمایت نہیں کریں گے، قانون سازی میں جلد بازی کرنا ملک وقوم کے مفاد میں نہیں ، جماعت اسلامی جمہوری جماعت ہے ، تمام امور میں اپنی جماعت میں مشاورت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہرقانون میں ذات اور پارٹی مفادت کے بجائے عوام اور ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہئے ، کسی بھی مشکل آزمائش کے لمحے پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ ہوگی ، ہمیں پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور باصلاحیت فوج کی ضرورت ہے ، پڑوس میں ہم سے 8 گنا بڑی طاقت ہے ، حکومت ہند روز دھمکیاں دے رہی ہے۔
