جے یو آئی (ف) کی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونیوالے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کر چکی ہیں۔بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن)نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کرلیا۔حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ کی ترمیم کو اتفاق رائے سے پارلیمان سے منظور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن)اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطہ کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز اور وزیر مملکت پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل وفد نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔مسلم لیگ (ن)کی جانب سے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور رانا تنویر نے حکومتی وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حکومتی وفد نے مسلم لیگ (ن)سے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی۔
دوسری طرف اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ انتظامی معاملہ تھا ، اب چونکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آگیا ہے اس لئے عوامی نیشنل پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ اس معاملے پر عدالتی فیصلہ بھی قابل ستائش تھا۔ اس معاملے سے متعلق پارلیمنٹ ایسا حل تلاش کرے جس کے بعد اداروں کی عزت اور احترام برقرار رہے۔ قانون سازی ایسی ہونی چاہیے کہ ایسے حالات پیدا نہ کیے جائیں جس سے اداروں کی ساکھ اور عزت پر کوئی حرف آئے، پارلیمنٹ اپنی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے اس معاملے پر مستقل حل تلاش کرے۔
