حامد میر کے پروگرام پر پابندی کس نے اور کیوں لگوائی؟


جیو نیوز کے پرائم ٹائم نیوز شو کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کی ایک دھواں دھار تقریر کے بعد ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے ملک کی طاقتورانٹیلی جنس اسٹیبلشمینٹ کے دباؤ پر ایک مرتبہ پھر انکے پروگرام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یاد رہے کہ حامد میر کے پروگرام کرنے پر پہلی مرتبہ پابندی سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں عائد کی گئی تھی۔
جیو نیوز انتظامیہ نے کنفرم کیا ہے کہ معروف پروگرام کیپیٹل ٹاک کے اینکر پرسن حامد میر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور 31 مئی کی رات سے وہ کیپٹل ٹاک کی میزبانی نہیں کر سکیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے حامد میر پر یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے لگائی گئی ہے اوراس دوران کیپیٹل ٹاک کی میزبانی نیوز اینکر محمد جنید کریں گے۔ یاد رہے کہ حامد میر نے چند روز قبل اسلام آباد میں سینئر صحافی اسد طور پر خفیہ والوں کی جانب سے گھر میں گھس کر تشدد کرنے کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں حملے کی بھر پور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہم بھی کھل کر بات کریں گے۔ انہوں نے بظاہر تشدد میں ملوث ریاستی ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے وارننگ دی تھی کہ اگر “آپ” نے صحافیوں پر حملے بند نہ کیے تو پھر ہم بھی دنیا کو بتا دیں گے کہ کس کی بیوی نے کس پر، کہاں اور کس وجہ سے گولی چلائی تھی۔ حامد میر کی یہ تقریر سوشل میڈیا سمیت عالمی میڈیا پر زیر بحث ہے اور سوال کیا جا رہا تھا کہ ان کا اشارہ کس شخص کی جانب ہے۔ تاہم جیو نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے حامد میر کے پروگرام پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔
حامد میر نے اپنی ایک ٹویٹ میں خود پر عائد ہونے والی پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میرے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مجھے کئی مرتبہ نوکری سے بھی نکلوا لیا گیا اور مجھ پر قاتلانہ حملے بھی کروائے گئے لیکن میں آئین میں دیے گے آزادی اظہار کے حق کے عین مطابق سچ کی آواز بلند کرتا رہوں گا۔ انہوں نے لکھا کہ میں ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں حالانکہ میرے خاندان کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
یوں تو صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف چیلنجز اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن حامد میر کی پیشہ ورانہ زندگی تو مسلسل چیلنجز سے نبرد آزما ہوتے گزر رہی ہے۔ افغانستان کے غاروں میں اُسامہ بن لادن کا انٹرویو ہو یا نیوزی لینڈ میں نیلسن منڈیلا سے خصوصی ملاقات، بیروت میں بم باری کے درمیان رپورٹنگ ہو یا غزہ میں اسرائیلی ٹینکون کی گولا باری کی کوریج، اُنہوں نے جان پر کھیل کر ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھا ہے۔ اس دوران کئی مرتبہ موت اُنہیں چُھو کر بھی گزری۔ اپنے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کا حق اور سچ کا مشن لے کر آگے چلنے والے حامد میر کو صحافت کی پرخار وادیوں میں سفر کے دوران اپریل 2014 میں طاقتور خفیہ ایجنسی کے ایما پر ایک قاتلانہ حملے کا سامنا بھی کرنا پڑا جس میں وہ چھ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے معجزاتی طور پر ان کی جان بچا لی۔ اس سے پہلے جنرل مشرف کے دور میں حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس دوران وہ عوام کی خاطر اپنا پروگرام سڑک کنارے کیا کرتے تھے۔
تاہم مشرف کے آمرانہ دور کے بعد اب عمران خان کی ہائبرڈ حکومت میں بھی حامد میر کا پروگرام بند کر دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حامد میر کی تقریر کے بعد جیو نیوز کی انتظامیہ پر انہیں ادارے سے برطرف کرنے کے لیے دباؤ تھا تاہم ابھی صرف ان کا پروگرام آف ائیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ حامد میر کی فراغت سے جیو نیوز کے تجارتی مفادات بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ریٹنگ میں حامد میر کا آٹھ بجے کا کیپٹل ٹاک پاکستان کا نمبر ون شو ہے اور اس نے پچھلے 20 برس سے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اسلام آباد پریس کلب کے باہر حامد میر کی تقریر کے بعد سے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جیو کی انتظامیہ اب یہ “بوجھ “ مشکل سے ہی برداشت کر پائے گی۔ یاد رہے کہ حامد میر نے اپنی تقریر میں بتایا تھا کہ صحافی بہت سی سچی باتیں اس وجہ سے نہیں کر سکتے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ میڈیا مالکان پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے ادارے بند ہو جاتے ہیں اور صحافی بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اسد طور جیسے واقعات کے بعد اب ہمیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹی وی کی نوکری ان کے پاؤں کی زنجیر ہے اور اگر انہیں نوکری سے نکال دیا جائے تو وہ زیادہ کھل کر سچ کا اظہار کر سکیں گے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دینے والی اپنی تقریر میں سینئر صحافی نے ٹینکوں اور بندوقوں والوں کو تنبیہ کی تھی کہ آئندہ کسی صحافی پر تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ انکے گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے اور سب کو پتہ چل جائے گا کہ کس کی بیوی نے اپنے شوہر کو کس وجہ سے گولی مار دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسا واقعہ ایک حاضر سروس جنرل کے ساتھ پیش آیا تھا جو ایک اہم ترین عسکری عہدے پر فائز ہیں۔ حامد میر کی تقریر سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ خفیہ ایجنسیاں اور ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے۔
حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘تم اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ ہاں میں ہوں جو اس کے گھر میں گھسا تھا۔ لیکن تم اتنے بزدل اور بے غیرت ہو کہ یہ نہیں مان رہے کہ اسد کے گھر میں تم گھسے تھے، تم کہتے ہو، کہ وہ کسی لڑکی کا بھائی تھا جس نے اسد کو مارا ہے۔’ یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہ چلائی گئی کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ میں کسی ایسی لڑکی کو تو نہیں جانتا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہو لیکن میں لڑکی کی ماں کو ضرور جانتا ہوں جس کا نام جنرل رانی ہے۔ حامد میر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے دشمن سمجھتے ہیں کہ دنیا کو انکا پتا نہیں چلے گا، اور وہ نامعلوم رہیں گے۔ لیکن ہم سب اپنے دشمن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد طور اور دیگر صحافیوں پر اسلام آباد میں حملے کرنے والے دراصل جنرل رانی کی ہی اولاد ہیں۔ یاد رہے کہ اقلیم اختر عرف رانی ماضی کی ایک مشہور نائیکہ تھی جو جنرل یحیی خان سمیت کئی عیاش جرنیلوں کو لڑکیاں سپلائی کرتی تھی اور اسی وجہ سے بھٹو نے اس کا نام جنرل رانی رکھ دیا تھا۔
اسد طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں ان پر طرح طرح کے الزمات بھی لگائے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ملک سے باہر جانے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا۔ ان الزامات کے تناظر میں حامد میر نے سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔ مجھے بھی گولیاں ماری گئی تھیں لیکن میں بھی پاکستان میں موجود ہوں، اسی طرح مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا اور ابصار عالم کو گولی ماری گئی لیکن ان میں سے کوئی بھی پاکستان چھوڑ کر فرار نہیں ہوا۔ ہاں لیکن ایک نام نہاد کمانڈو جرنیل ایسا بھی تھا جو ایک خوف زدہ چوہے کی طرح دم دبا کر ملک سے بھاگ گیا۔ اس کا نام جنرل پرویز مشرف ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حامد میر نے اسٹیبلشمینٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کشمیر اور اسرائیل کے معاملے پر پاکستانی قوم کے ساتھ دھوکا کرنے جا رہی ہے۔ لیکن چونکہ اس معاملے میں پاکستانی میڈیا اسٹیبلشمینٹ کا ساتھ نہیں دے رہا چنانچہ یہ لوگ میڈیا کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسلام آباد پریس کلب کے باہر اپنی تقریر کے آخر میں حامد میر نے ایک بار پھر خفیہ والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘تمھارے گھر کے اندر کی باتیں ہم آپ کو بتائیں گے۔’ تاہم جیو نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے طاقتور خفیہ ایجنسی کے دباؤ کے تحت حامد میر کا پروگرام بند ہونے سے عام آدمی کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ حامد میر نے دراصل کس کی دم پر پاؤں رکھا تھا۔

Back to top button