بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے

مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند رہنما سید علی گیلانی 91 برس کی عمر میں سرینگر میں انتقال کر گئے ہیں۔
کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو بارہمولا کے قصبے سوپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز جماعت اسلامی ہند سے کیا اور اس کے رکن بنے۔ بعد ازاں سید علی گیلانی سوپور ہی سے کشمیر کی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔
پھر جب مزاحمتی تحریک شروع ہوئی تو انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی الگ جماعت بنائی جو کل جماعتی حریت کانفرنس نامی اتحاد کا حصہ تھی۔
گیلانی عالمی مسلم فورم تنظیم رابطہ عالم اسلامی کے رکن بھی رہے۔ سید علی گیلانی کی ایک کتاب ’روداد قفس‘ بھی شائع ہو چکی ہے۔ سید علی گیلانی اورئینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔  ان کو پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی پر حکومت پاکستان کی جانب سے نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا۔
سید علی گیلانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس نامی اتحاد سے طویل وابستگی کے بعد 30 جون 2020 کو علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
سید علی گیلانی 2003 میں آزادی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے تاحیات چیئرمین منتخب ہوئے۔ جون 2020 میں انہوں نے اس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ سید علی گیلانی کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے پرجوش حامی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ طویل عرصے سے گھر میں نظر بند تھے اور ان کی صحت بھی گزشتہ چند برسوں سے خراب چلی آ رہی تھی۔
5 اگست 2019 کو انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کو یونین ٹریٹری بنائے جانے سے قبل سید علی گیلانی سمیت کئی کشمیری آزادی پسند رہنماؤں کو نظر بند یا قید کر لیا گیا تھا۔ سید علی گیلانی نے انڈیا کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کشمیر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علی گیلانی کے انتقال کے بعد بھارتی فوج نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان کے گھر جانے والے راستوں پر باڑ لگا دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں سیکیورٹی فورسز کو انتقال کی خبر آتے ہی تعینات کردیا گیا جبکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق کرفیو لگانے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کی جا رہی ہے۔سید علی گیلانی کے گھر کے قریب واقع مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کر کے حریت رہنما کے گھر کی جانب مارچ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے لیکن اس علاقے میں درجنوں مسلسح دستے گشت کررہے ہیں اور پولیس نے عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کی دھمکی دی ہے۔
قابض بھارتی فوج کے خلاف سیاسی جدوجہد کی علامت تصور کیے جانے والے سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے اور وہ تحریک حریت جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی تھے۔وہ گزشتہ کئی سالوں سے گھر میں نظربند تھے، وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جابرانہ قبضے کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے کئی سالوں تک کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کی قیادت کی۔وہ پہلے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن تھے لیکن بعد میں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی جماعت قائم کی تھی۔وہ 1972، 1977 اور 1987 میں تین مرتبہ جموں و کشمیر کے حلقہ سوپور سے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔بھارتی جبر اور تسلط کے خلاف ڈٹے رہنے والے سید علی گیلانی گزشتہ 11سال سے گھر میں نظر بند اور کئی ماہ سے علیل تھے۔انہوں نے 1960 کی دہائی میں کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی تحریک شروع کی اور رکن اسمبلی کی حیثیت سے بھارت سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔
وہ 1962 کے بعد 10سال تک جیل میں رہے اور اس کے بد بھی اکثر انہیں ان کے گھر تک محدود کردیا جاتا تھا۔گزشتہ سال وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے جس کے وہ 1993 میں قیام کے بعد سے رکن تھے جبکہ 2003 میں انہیں اس تحریک کا تاحیات چیئرمین منتخب کر لیا گیا تھا۔
گزشہ ماہ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کہا تھا کہ 11سالہ نظربندی کے سید علی گیلانی کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ان کی نماز جنازہ جمعرات کو سری نگر کے مزار شہدا میں ادا کی جائے گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے ممتاز حریت رہنما کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی پوری زندگی کشمیر کے عوام اور ان کے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے فریڈم فائٹر سید علی گیلانی کے انتقال کا سن کر بہت افسوس ہوا، انہوں نے بھارتی فوج کی قید اور صعوبتوں کو برداشت کیا لیکن اپنے عزم پر قائم رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں ان کی جرات مندانہ جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے الفاظ یاد رہیں گے کہ ‘ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے’۔وزیر اعظم نے کہا کہ سید علی گیلانی کے انتقال پر آج قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور آج سرکاری سطح پر یوم سوگ منایا جائے گا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے حریت رہنما کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان نے سید علی گیلانی کو نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا تھا۔
کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے ٹوئٹ کی کہ محترم سید علی گیلانی کشمیر کے وقت آج رات 10 بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کا کہنا تھا کہ کاش وہ آزاد کشمیر کی جھلک دیکھ پاتے لیکن ان کی زندگی کی جدوجہد ہمارے لیے مثال ہے کہ ہمیں اس جبر اور قابض فورسز کے خلاف ڈٹے رہنا ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کی بزدل قابض فورسز سید علی گیلانی کے اہلخانہ کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ وہ ان کی لاش کو 30منٹ میں دفنا دیں یا پھر وہ ان کی لاش کو سرینگر سے دور کسی بے نام قبر میں دفنا دیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی فوج آگ سے نہ کھیلے اور عوامی ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
کشمیر پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین شہر آفریدی نے سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض بھارتی فورسز نے اپنا بھیانک چہرہ دکھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں نافذ کردی ہیں اور انٹرنیٹ سروس منسوخ کردی گئی ہے تاکہ عوام کو ان کی آخری رسومات میں شرکت سے روکا جا سکے۔اس موقع پر انہوں نے بھی مشعال ملک کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پولیس سیدعلی گیلانی کی لاش حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ عوام کو نماز جنازہ میں شرکت سے روکا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمے دار بھارتی سرکار ہو گی۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ مضبوبہ مفتی نے سید علی گیلانی کی رحلت پت گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بلندی درجات کے لیے دعا کی۔

Back to top button